Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیٹو میں یورپ کا بڑھتا کردار: صدر ٹرمپ نیٹو اتحاد کو کس طرح نئی شکل دے رہے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیٹو کے رکن ممالک کے دفاع کے عزم پر بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کے درمیان، بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں پر اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ یورپ کو اپنی دفاعی ذمہ داری خود زیادہ سنبھالنی ہوگی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کی فوجی طاقت پر انحصار کم کرنے کی یہ تبدیلی اس ہفتے انقرہ میں ہونے والے 32 رکنی نیٹو سربراہی اجلاس کا اہم موضوع ہوگی۔
اے ایف پی کی رپورٹ میں اس تبدیلی سے متعلق چند اہم نکات پیش کیے گئے ہیں:

امریکہ کا پیچھے ہٹنا

صدر ٹرمپ نے نیٹو پر اپنی تنقید کبھی نہیں چھپائی۔ حال ہی میں انہوں نے ایران کے خلاف اپنی جنگ کے حوالے سے یورپی اتحادیوں کے ردِعمل پر بھی سخت تنقید کی۔
وہ بارہا ایسے بیانات دے چکے ہیں جن سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر کسی رکن ملک پر حملہ ہوا تو آیا امریکہ نیٹو کے آرٹیکل 5 (باہمی دفاع کی شق) کے تحت اس کی مدد کرے گا یا نہیں۔

اب معاملہ صرف بیانات تک محدود نہیں رہا۔

اقتدار میں واپسی کے بعد صدر ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یورپ خود اپنے دفاع کی قیادت کرے، جبکہ امریکہ دنیا کے دیگر خطوں پر توجہ مرکوز کرے۔
مئی میں واشنگٹن نے اچانک اعلان کیا کہ وہ جرمنی سے 5,000 فوجی واپس بلائے گا اور پولینڈ میں فوجی تعیناتی روک دے گا، اگرچہ بعد میں اس فیصلے میں تبدیلی کر دی گئی۔
اس کے بعد امریکی محکمہ دفاع  نے اتحادی ممالک کو بتایا کہ وہ نیٹو کے لیے فراہم کیے جانے والے فوجی وسائل میں کمی کر رہا ہے اور یورپ میں اپنی افواج کا چھ ماہ پر مشتمل جائزہ بھی شروع کر دیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ’ہم اس کوشش کو دوگنا کر رہے ہیں کہ نیٹو کو وہی بنایا جائے جو اسے ہمیشہ ہونا چاہیے تھا، یعنی ایسا متوازن اتحاد جس میں یورپ اپنے دفاع کی قیادت خود کرے۔‘

یورپ کا آگے بڑھنا

2022  میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یورپی ممالک نے اپنے دفاعی اخراجات بڑھانا شروع کر دیے تھے، لیکن ٹرمپ کے دباؤ نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا۔
یورپ کی کئی دہائیوں کی کم سرمایہ کاری کے بعد، گزشتہ سال نیٹو سربراہ اجلاس میں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ 2035 تک دفاع سے متعلق اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے پانچ فیصد تک بڑھایا جائے گا۔
ایک یورپی سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’اتحاد کے اندر واقعی ایک انقلاب برپا ہو رہا ہے۔ ذمہ داریوں کی یہ منتقلی نیٹو کو بنیادی طور پر بدل دے گی۔‘
اگرچہ امریکہ اب بھی سب سے زیادہ دفاعی اخراجات کرتا ہے، لیکن یورپ اور کینیڈا آنے والے برسوں میں مل کر امریکی دفاعی بجٹ کے برابر پہنچنے کا ہدف رکھتے ہیں۔
جرمنی نے اس حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے، جبکہ روس کے قریب واقع کئی ممالک پہلے ہی نیٹو کے مقررہ ہدف کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
اب نیٹو کے اندر یہ احساس عام ہے کہ امریکہ کا بتدریج پیچھے ہٹنا ناگزیر ہے اور یہ عمل ٹرمپ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے۔
جرمن مارشل فنڈ سے وابستہ تجزیہ کار کلاڈیا میجر کے مطابق ’یہ صرف ٹرمپ کا معاملہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اور ساختیاتی تبدیلی ہے۔ اسے کسی حد تک منظم کیا جا سکتا ہے، لیکن روکا نہیں جا سکتا۔‘
اگرچہ یورپ نیٹو کے دفاعی منصوبوں میں امریکہ کی چھوڑی ہوئی کچھ کمی پوری کر سکتا ہے، لیکن طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل جیسے اہم فوجی وسائل کی جگہ لینے میں وقت لگے گا۔
کلاڈیا میجر نے مزید کہا کہ ’یہ بالکل واضح ہے کہ امریکہ کا کردار تبدیل ہو رہا ہے، اور سب سے بڑی امید یہ ہے کہ نقصان کو محدود رکھا جائے اور مستقبل میں زیادہ پیش گوئی ممکن ہو۔‘

اب تک کیا تبدیلی آئی ہے؟

اگرچہ میڈیا میں بڑے بڑے اعلانات اور اختلافات سامنے آئے ہیں، لیکن زمینی سطح پر اب تک تبدیلیاں زیادہ ڈرامائی نہیں رہیں۔
امریکہ کے اب بھی تقریباً 80 ہزار فوجی یورپ میں موجود ہیں اور واشنگٹن میں بہت سے بااثر حلقے چاہتے ہیں کہ یہ موجودگی برقرار رہے۔
اسی طرح امریکہ کا جوہری دفاعی تحفظ (Nuclear Umbrella) اب بھی یورپ کی سلامتی کی بنیادی ضمانت سمجھا جاتا ہے، اور ٹرمپ انتظامیہ نے اس میں کمی کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔
نیٹو کی قیادت میں کچھ تبدیلیاں ضرور ہوئی ہیں، جہاں اب تمام علاقائی ہیڈکوارٹرز کی کمان یورپی افسران کے پاس ہے۔
تاہم، اعلیٰ ترین فوجی عہدہ اب بھی امریکہ کے پاس ہے، اور فضائی، زمینی اور بحری افواج کی مجموعی کمان بھی امریکی کنٹرول میں ہے۔
ایک دوسرے سفارتکار نے کہا کہ ’نیٹو آہستہ آہستہ خود کو تبدیل کر رہا ہے۔ چند برسوں میں یورپ پہلے سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرے گا۔‘

کیا یہ نیٹو کے خاتمے کی ابتدا ہے؟

فی الحال نیٹو میں کوئی بھی کھلے عام یہ نہیں کہہ رہا کہ یورپ کو امریکہ کے بغیر تنہا اپنا دفاع کرنا چاہیے یا نیٹو کی جگہ کوئی نیا اتحاد قائم کیا جائے۔
انقرہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں سفارتکاروں کے مطابق رہنما ’ایک مضبوط نیٹو کے اندر ایک مضبوط یورپ‘ کے تصور کی حمایت کریں گے، اور کوشش ہوگی کہ امریکہ کو اتحاد کے ساتھ ہر ممکن حد تک منسلک رکھا جائے۔
مستقبل میں یورپ ممکنہ طور پر یوکرین اور اس کی جنگی تجربہ رکھنے والی افواج کو یورپی سلامتی کے نظام کے مزید قریب لانے کی کوشش کرے گا۔
تاہم، چونکہ فی الحال یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کا راستہ بند ہے، اس لیے موجودہ توجہ زیادہ تر یورپی یونین  کی رکنیت حاصل کرنے کی اس کی کوششوں پر مرکوز ہے۔

شیئر: