Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کے سٹار فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کے زوال پذیر کیریئر کی کہانی

پاکستان میں کسی بھی کھلڑی کے انتخاب میں اس کی شہرت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ شہرت ایک یا دو شاندار بولنگ سپیلز یا چند میچ جتوانے والی اننگز کی بنیاد پر بھی قائم ہو سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ کارکردگی اسی فارمیٹ میں ہو جس کے لیے ٹیم منتخب کی جا رہی ہو۔ اگر کسی کھلاڑی میں صلاحیت نظر آئے تو اسے اکثر تمام فارمیٹس کے لیے موزوں سمجھ لیا جاتا ہے۔
کرک انفو پر شاہین شاہ آفریدی کے کیریئر پر شائع ہونے والی سٹوری کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران مردوں کی سلیکشن کمیٹی میں متعدد تبدیلیوں کے باوجود یہ سوچ برقرار رہی ہے۔ عماد وسیم اور محمد عامر نے اپنی بین الاقوامی ریٹائرمنٹ واپس لینے کے بعد 2024 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں جگہ بنائی، جبکہ اسی سال بابر اعظم کو خراب ٹیسٹ فارم کے باعث ڈراپ کیے جانے کے صرف ایک ماہ بعد جنوبی افریقہ کے دورے پر بھیج دیا گیا۔ 2025 میں ایشیا کپ سمیت بیشتر ٹی20 انٹرنیشنلز نہ کھیلنے کے باوجود انہیں رواں سال ٹی20 ورلڈ کپ کے سکواڈ میں بھی شامل کیا گیا۔
اگرچہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں ون ڈے سیریز میں کامیابیاں ملیں، لیکن مجموعی طور پر یہ سلیکشن پالیسی خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکی۔
بنگلہ دیش کے ہاتھوں حالیہ 0-2 کی شرمناک ٹیسٹ شکست نے بظاہر سلیکشن کمیٹی کو جھنجھوڑ دیا، جس کے بعد ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان کے سکواڈ میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں۔ ان میں سب سے نمایاں فیصلہ شاہین شاہ آفریدی کو ڈراپ کرنا تھا، جو 34 ٹیسٹ میچوں کے ساتھ اس وقت پاکستان کے سب سے تجربہ کار فعال فاسٹ بولر ہیں۔
شاہین 2018 میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھنے کے بعد جس معیار کے بولر تھے، اب اس کا محض عکس دکھائی دیتے ہیں۔ 2023 میں گھٹنے کی انجری سے واپسی کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی مشکلات اچھی طرح دستاویزی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ ان کی اندر آتی گیندیں اب پہلے جیسی خطرناک نہیں رہیں، ریورس سوئنگ کی دھمک بھی کم ہو گئی ہے اور ان کی رفتار میں واضح کمی آئی ہے۔
پاکستان اس وقت ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبر پر ہے، بالکل اسی طرح جیسے گزشتہ سائیکل کے اختتام پر تھا۔ اگرچہ بیٹنگ بھی متاثر کن نہیں رہی، لیکن سب سے بڑا مسئلہ مخالف ٹیم کی تمام 20 وکٹیں نہ لے پانا رہا ہے۔ شاہین، جنہوں نے محمد عباس اور حسن علی جیسے بولرز کو پیچھے چھوڑ کر پاکستان کے مرکزی فاسٹ بولر کا کردار سنبھالا تھا، طویل عرصے تک ٹیم کے منصوبوں کا اہم حصہ رہے۔ اپنے ٹیسٹ ڈیبیو سے لے کر 2022 میں انجری تک انہوں نے پاکستان کے لیے 809.4 اوورز کرائے، جو اس عرصے میں کسی بھی پاکستانی بولر سے زیادہ تھے۔ یاسر شاہ 606.2 اوورز کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے، جبکہ کسی بھی پاکستانی فاسٹ بولر میں حسن علی نے صرف 461.3 اوورز کیے۔
پاکستان کے سلیکٹر عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اپنے فاسٹ بولرز کی بولنگ سپیڈ پر تشویش ہیں۔ یہ ناقابل قبول ہے کہ ٹیسٹ کے دوسرے یا تیسرے روز ان کی رفتار 126 کلومیٹر فی گھنٹہ تک گر جائے، جیسا کہ بنگلہ دیش میں ہوا۔‘
انجری سے واپسی کے بعد ابتدا میں پاکستان نے ان کے ورک لوڈ کو احتیاط سے سنبھالنے کی کوشش کی۔ 2023-24 کے آسٹریلیا دورے کے تیسرے ٹیسٹ میں انہیں آرام دیا گیا تاکہ وہ نیوزی لینڈ میں اپنی پہلی اور واحد ٹی20 کپتانی کے لیے تازہ دم رہیں۔ 2024 میں بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں ان اور دیگر فاسٹ بولرز کے لیے پچوں پر خاصی گھاس چھوڑی گئی، لیکن پہلے ٹیسٹ میں صرف دو وکٹیں لینے اور 10 وکٹوں سے شکست کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے جلد ہی دیگر آپشنز پر غور شروع کر دیا۔
اس وقت کے ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے دوسرے ٹیسٹ سے قبل کہا تھا کہ شاہین اپنی بولنگ کی تکنیکی خامیوں پر کام کریں گے، لیکن انہیں دوبارہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں کھلایا گیا، جہاں ملتان کی فلیٹ پچ پر انہوں نے 26 اوورز میں صرف ایک وکٹ حاصل کی۔ اس کے بعد انہیں دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ سے باہر کر دیا گیا، جبکہ پاکستان نے فلیٹ پچوں کی جگہ سپن فرینڈلی وکٹیں تیار کرنا شروع کر دیں۔ بعد ازاں انہیں جنوبی افریقہ کے ٹیسٹ دورے سے بھی باہر رکھا گیا، حالانکہ وہاں فاسٹ بولنگ کے لیے سازگار حالات ہوتے ہیں۔ تاہم اس فیصلے نے پاکستان کے فاسٹ بولنگ کے شعبے کی کمزوری بھی عیاں کر دی، کیونکہ دورے پر موجود بولرز کی کم رفتار تنقید کی زد میں آ گئی۔
نئے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل کے آغاز پر گزشتہ اکتوبر میں شاہین کو جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز کے لیے دوبارہ موقع دیا گیا۔ اگرچہ پاکستان نے سپن فرینڈلی پچیں برقرار رکھیں، لیکن لاہور میں نئی اور پرانی گیند سے سوئنگ کراتے ہوئے پرانے شاہین کی کچھ جھلک ضرور نظر آئی۔ تاہم سات ماہ بعد میرپور میں وہ دوبارہ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیانی درجے کی بے ضرر رفتار سے بولنگ کرتے دکھائی دیے، جس کے بعد سلہٹ ٹیسٹ میں ان کی جگہ خرم شہزاد کو شامل کر لیا گیا۔ گزشتہ دو برسوں میں یہ تیسری مرتبہ تھا کہ شاہین کو سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے بعد ڈراپ کیا گیا۔ گھٹنے کی انجری سے واپسی کے بعد پاکستان کے 18 ٹیسٹ میچوں میں سے وہ صرف نو ہی کھیل سکے ہیں۔
طویل فارمیٹ میں شاہین کی گرتی ہوئی کارکردگی کا اندازہ ان کے انجری سے پہلے اور بعد کے اعداد و شمار سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ گال میں انجری کا شکار ہونے سے قبل انہوں نے 99 ٹیسٹ وکٹیں 24.86 کی اوسط سے حاصل کی تھیں، جبکہ واپسی کے بعد ان کی اگلی 27 وکٹیں فی وکٹ 40 سے زائد رنز کے عوض آئیں۔ ان کا سٹرائیک ریٹ بھی بڑھ کر 67.6 ہو گیا ہے۔
یہ بات بھی واضح تھی کہ سلیکشن کمیٹی ریڈ بال کی کرکٹ میں شاہین سے آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے، جب گزشتہ ماہ انہیں نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ریڈ بال کیمپ میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس وقت ایک پی سی بی عہدیدار نے کہا تھا کہ ون ڈے کپتان ہونے کی وجہ سے انہیں صرف وائٹ بال کیمپ میں رکھا گیا، تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سلیکٹرز اب انہیں محدود اوورز کی کرکٹ کا ماہر سمجھتے ہیں۔
سکواڈ کے اعلان کے موقع پر عاقب جاوید نے کہا، ’شاہین بہترین بولر ہیں، لیکن بعض اوقات ایک کھلاڑی کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ کس فارمیٹ پر توجہ دینا چاہتا ہے۔ اسی لیے ہم نے حال ہی میں فارمیٹ کی بنیاد پر مرکزی معاہدوں کا نیا نظام متعارف کرایا ہے۔ ہم نے حالیہ کیمپ میں سپیڈ گنز سمیت مختلف شواہد کی بنیاد پر یہ فیصلے کیے ہیں، اور اسی مقصد کے لیے عبید شاہ کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔‘
پاکستان بظاہر اس بولر سے آگے بڑھنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے جس پر اس نے برسوں اپنی امیدیں وابستہ کیے رکھیں، لیکن یہ فیصلہ کتنا درست ثابت ہوتا ہے، اس کا انحصار ہمیشہ کی طرح آئندہ سیریز کے نتائج پر ہوگا۔

شیئر: