Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تہران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں جلوس کا آغاز

سابق سپریم لیڈر علی خامنہ کی نماز جنازہ اتوار کو ادا کی گئی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی حملے میں قتل ہونے والے سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں جلوس کا آغاز تہران میں پیر کو کر دیا گیا ہے۔
خبر رساں اداروں اے پی اور اے ایف پی کے مطابق علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے ان افراد کے تابوت ٹرک پر رکھ کر جلوس کی شکل میں لے جائے جائیں گے، جو 28 فروری کو امریکہ اور ایران کے مشترکہ فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
ان تابوتوں کو ایران کی سڑکوں سے گزار کر مہر آباد ہوائی اڈے لے جایا جائے گا۔
ایرانی حکومت کو امید ہے کہ اس میں شہر بھر سے بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے جس سے حکومت کی حمایت کا اظہار ہو گا۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں قریباً ایک کروڑ افراد نے شرکت کی۔
اتوار کو ہزاروں افراد گینڈ مصلیٰ میں جمع ہوئے جہاں انہوں نے علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے  افراد کو خراج تحسین پیش کیا جو امریکی و اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تھے۔
تابوت کو عوام سے محفوظ فاصلے پر رکھنے اور بھگدڑ سے بچنے کے لیے مضبوط کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کی گئی ہیں۔
یہ واضح نہیں ہے کہ جلوس کے دوران عوام کو کس حد تک تابوت کے قریب جانے کی اجازت دی جائے گی تاہم حکام ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں۔
1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی تدفین کے وقت سوگواروں کے ہجوم نے گاڑی کو گھیر لیا تھا جس کے باعث ان کا کفن پھٹ گیا تھا اور میت زمین پر گر گئی تھی اور بعدازاں حکام کو انہیں تدفین کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کرنا پڑا تھا۔
ساڑھے تین عشروں سے زائد عرصے تک اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کرنے والے رہنما کی تدفین کے ساتھ ساتھ یہ جنازے امریکہ و اسرائیل کے ساتھ پانچ ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد ایرانی حکام کے لیے اپنی استقامت، مضبوطی اور حکومتی استحکام کے اظہار کا موقع بھی سمجھے جا رہے ہیں۔
ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف، جن کو خامنہ ای کے دور کے بعد نمایاں شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران کی باوقار اور ناقابل تسخیر قوم نے متحد ہوکر اپنے شہید رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا۔‘
تہران میں ہونے والی ان رسومات کے بعد کل منگل کو مذہبی شہر قم میں بھی اسی نوعیت کی تقریبات منعقد ہوں گی جبکہ بدھ کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں بھی تعزیتی رسومات ہوں گی۔
ایسی تقریبات کا اختتام جمعرات کو آیت اللہ خامنہ ای کے آبائی شہر مشہد میں ان کی تدفین کے ساتھ ہو گا۔
اتوار کو ہونے والے جنازے میں آیت اللہ خامنہ ای کے تین بیٹوں نے شرکت کی۔ تاہم ان کے جانشین اور سپریم لیڈر مقرر ہونے والے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر موجودگی نمایاں ہو کر سامنے آئی۔
وہ نامزدگی کے بعد سے ابھی تک عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ بھی فضائی حملوں میں زخمی ہوئے تھے تاہم ان کو لگنے والی چوٹوں کے حوالے سے کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

شیئر: