حماس نے گزشتہ دو دہائیوں سے غزہ کی پٹی میں قائم گورننگ باڈی کو تحلیل کر دیا ہے۔ اس اقدام سے فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے اقتدار پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
حماس کے اہلکاروں نے غزہ کی پٹی کی گورننگ باڈی کو تحلیل کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔
یہ پیش رفت، شدت پسند گروپ حماس کی جانب سے اہم سیاسی تبدیلی ہے۔ حماس کا غزہ کی پٹی پر کنٹرول سنہ 2007 سے جاری ہے جب اس کے جنجگوؤں نے فلسطینی حریف تنظیم فتح سے کنٹرول چھین لیا تھا۔
گزشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کے بعد سے، حماس نے بارہا کہا ہے کہ وہ روزہ مرہ کی حکمرانی سے خود کو علیحدہ کرنے کو تیار ہے۔
تاہم حماس کا ہتھیار ترک نہ کرنے کا کانٹے دار معاملہ اس راہ میں بڑی رکاوٹ بنا رہا ہے۔
حماس کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’(حماس) تحریک نے فیصلہ کیا ہے کہ غزہ کی حکومتی کمیٹی کو تحلیل کر دیا جائے اور قومی منظوری کے حامل کسی شخص کو کمیٹی کے کام کی نگرانی کے لیےاس وقت تک کے لیے مامور کر دیا جائے جب تک غزہ تنظیم کی قومی کمیٹی رسمی طور پر اپنی ذمہ داریاں شروع نہیں کرتی۔‘