یہ پیش رفت، شدت پسند گروپ حماس کی جانب سے اہم سیاسی تبدیلی ہے۔ حماس کا غزہ کی پٹی پر کنٹرول سنہ 2007 سے جاری ہے جب اس کے جنجگوؤں نے فلسطینی حریف تنظیم فتح سے کنٹرول چھین لیا تھا۔
گزشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کے بعد سے، حماس نے بارہا کہا ہے کہ وہ روزہ مرہ کی حکمرانی سے خود کو علیحدہ کرنے کو تیار ہے۔
تاہم حماس کا ہتھیار ترک نہ کرنے کا کانٹے دار معاملہ اس راہ میں بڑی رکاوٹ بنا رہا ہے۔
حماس کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’(حماس) تحریک نے فیصلہ کیا ہے کہ غزہ کی حکومتی کمیٹی کو تحلیل کر دیا جائے اور قومی منظوری کے حامل کسی شخص کو کمیٹی کے کام کی نگرانی کے لیےاس وقت تک کے لیے مامور کر دیا جائے جب تک غزہ تنظیم کی قومی کمیٹی رسمی طور پر اپنی ذمہ داریاں شروع نہیں کرتی۔‘
غزہ میں حماس کے میڈیا دفتر نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کو ’اہم پریس کانفرنس‘ کرے گا تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
حماس کے ایک دوسرے عہدیدار نے بتایا کہ تنظیم نے حال ہی میں قاہرہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران دیگر فلسطینی دھڑوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
عہدیدار کے مطابق ’فلسطینی دھڑوں نے حماس کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے ایک سنجیدہ قدم قرار دیا، جس سے قومی کمیٹی کے لیے انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے کی راہ ہموار ہوگی۔‘
جنوری میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے بالواسطہ مذاکرات میں ثالثی کرنے والے مصر نے 15 رکنی فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا جو کہ ایک ’بورڈ آف پیس‘ کی نگرانی میں کام کرے گی جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
حماس کا غزہ کی پٹی پر کنٹرول سنہ 2007 سے ہے: فائل فوٹو اے ایف پی
تاہم یہ کمیٹی کئی ماہ سے غزہ سے باہر ہی قائم ہے اور اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنگ سے تباہ حال علاقے میں اس کے اراکان کے داخلے پر اعتراضات کے باعث وہ غزہ نہیں جا سکی۔
حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے ثالثوں کی موجودگی میں قاہرہ میں کئی ادوار کے مذاکرات کیے ہیں تاکہ اختلافات، خصوصاً غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے متعلق معاملات، کم کیے جا سکیں۔
جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس کے پاس موجود آخری اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل میں قید فلسطینیوں کو رہا کیا گیا تھا۔
دوسرے مرحلے میں حماس کے ہتھیار ڈالنے اور غزہ سے اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا کا منصوبہ شامل تھا، تاہم اس مرحلے پر عمل درآمد کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔