Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قوموں کو کیا چیز آپس میں جوڑ سکتی ہے؟ عامر خاکوانی کا کالم

ارشد ندیم نے 2024 کے پیرس اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیتا تو پوری قوم متحد نظر آئی (فوٹو: روئٹرز)
یہ سال امریکی تاریخ کا 250 واں سال ہے۔ ڈھائی سو سال مکمل ہونے پر امریکی اخبارات مختلف نوعیت کی رپورٹیں، فیچرز شائع کر رہے ہیں۔
چند دن قبل معروف امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے میں ایک دلچسپ فیچر شائع ہوا۔ اس میں ان ٹی وی ڈراموں اور شوز کی فہرست تھی، جنہوں نے پچھلے پچاس ساٹھ برسوں میں مختلف امریکی نسلوں کو یعنی بے بی بومرز سے لے کر جنریشن ایکس اور ملینیلز تک سب کو ایک دھاگے میں پرو کر رکھا۔
اس رپورٹ میں اشارہ اس جانب کیا گیا کہ جب کروڑوں امریکی فیملیز روزانہ شام یا رات کو یہ ڈرامے، شو، پروگرام دیکھتے تھے تو ان کے درمیان بہت کچھ مشترک ہوجاتا۔ خاص قسم کی قدریں، اجتماعی سوچ وغیرہ جنم لیتی۔ اگلے دن دفتر ہو، سکول ہو یا بازار، ہر جگہ اسی کی بات ہوتی۔
یوں ایک مشترک تجربہ وجود میں آتا۔ ایک ایسی زبان جو سب سمجھتے تھے۔ جنریشن زی یعنی نائن الیون کے بعد کی نسل اس طرح ٹی وی سے بندھی ہوئی نہیں رہی، مگر پھر بھی نیٹ فلیکس وغیرہ کے مختلف شوز جیسے سٹرینجر تھنگز نے نئی امریکی نسل کو بھی جوڑ دیا۔
میں نہ امریکی ہوں اور نہ ہی ان میں سے دو چار کے سوا باقی شوز دیکھنے کا موقعہ ملا، مگر اس کے باوجود دلچسپی سے فہرست دیکھی۔ اس میں ہر عشرے کی جھلک موجود ہے۔ ابتدائی دور کے ایڈ سلیوان شو اور ’آئی لو لوسی‘ نے ٹی وی کو امریکی گھروں کا فرد بنا دیا۔
پھر کئی پروگرام قوم کے بڑے لمحات کا آئینہ بنے۔ افریقی غلاموں پر لکھے گئے ناول ’روٹس‘ پر بنی سیریز نے غلامی کی تلخ تاریخ کروڑوں امریکی شہریوں کے ذہنوں میں راسخ کر دی۔ سیسم سٹریٹ کے کارٹون تو ہم نے بھی بچپن میں دیکھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے کئی نسلوں کے بچوں کو حروف اور گنتی سکھائی۔ بعض شوز نے امریکی خوابوں کی عکاسی کی تو کچھ نے ان کے ڈراؤنے خوابوں کی۔
یہ فہرست پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں فوراً ایک سوال پیدا ہوا۔ ہمارے ہاں وہ کون سے ڈرامے اور پروگرام تھے جنہوں نے پاکستانیوں کو آپس میں جوڑے رکھا؟
ففٹی ففٹی سے وارث اور سونا چاندی تک
ہمارے ہاں ستر کا عشرہ بلیک اینڈ وائٹ ڈراموں کا دور تھا۔ ستر کے عشرے کا شو ’ففٹی ففٹی‘ بے ساختہ مزاح کا شاندار نمونہ تھا۔ کراچی سینٹر سے شعیب منصور کی یہ پیش کش تھی۔اسماعیل تارا، ماجد جہانگیر اور انور مقصود کے خاکوں نے پورے ملک کو ایک وقت میں ہنسایا۔

آج یوٹیوب، نیٹ فلکس، امیزون وغیرہ جیسے سٹریمنگ چینلز آ چکے ہیں اور یہ پورا میدان موبائل نے سنبھال لیا ہے (فوٹو: پاپولر سائنس)

کمال احمد رضوی کا لکھا ’الف نون‘، جس کے الن اور ننھا آج بھی لوگوں کو ہنساتے ہیں۔ پھر اکتوبر 1979 میں لاہور مرکز سے امجد اسلام امجد کا لازوال ڈرامہ وارث آیا اور ایک تاریخ بن گیا۔ جس شام وارث کی قسط چلتی، بازاروں میں سناٹا ہو جاتا۔ منو بھائی نے 1982 میں سونا چاندی لکھا اور محلے کے سیدھے سادے کردار سب کو اپنے لگنے لگے۔
پی ٹی وی نے پورے ملک کو جوڑے رکھا
اسی کا عشرہ آیا تو کراچی سینٹر سے حسینہ معین کے گلیمرس ڈرامے چلے۔ ان کہی، تنہائیاں، دھوپ کنارے۔ پہلے دلکش شہناز شیخ اور پھر چنچل مرینہ خان اور راحت کاظمی کی جوڑی گھر گھر کی پسندیدہ بن گئی۔ ادھر لاہور سینٹر سے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے وہ کھیل آتے جو دیکھنے والے کو سوچ میں ڈبو دیتے۔
طارق عزیز کا نیلام گھر 1975 سے چل رہا تھا اور ایک خاص گرج دار آواز میں ’دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام‘ والا جملہ ہر بچے کی زبان پر تھا۔ پی ٹی وی سے صبح کی نشریات شروع ہوئیں تو ہمیں ہمارے چاچا جی مل گئے، مستنصر حسین تارڑ۔ تارڑ صاحب چاچا جی بن کر آتے تو لگتا گھر کا کوئی بزرگ بات کر رہا ہے۔ان کی اصطلاح بیبا بچہ یا باں باں بچہ آج تک یاد ہے۔
پی ٹی وی کے مقبول ڈرامے اور شوز بہت سے ہیں، انورمقصود ، معین اختر اور بشریٰ انصاری کی تکون نے بھی کمال کر دکھایا۔ پی ٹی وی کا ایک اور کام تھا جو شاید سب سے قیمتی تھا۔ اُس پر لاہور ،کراچی، اسلام آباد کے ساتھ ساتھ کوئٹہ اور پشاور کے مراکز سے بھی ڈرامے اور پروگرام آتے۔ سندھی، بلوچی اور پشتو کے کھیل، علاقائی مزاحیہ شوز، مقامی موسیقی۔ ایک پنجابی بچہ، یا کسی دور افتادہ قصبے میں بیٹھا کوئی شخص، ان کے ذریعے دوسرے صوبوں کے لوگوں سے، ان کے کلچر، ان کی زبانوں اور ان کے رسم و رواج سے واقف ہو جاتا تھا۔

ابتدائی دور کے ایڈ سلیوان شو اور ’آئی لو لوسی‘ نے ٹی وی کو امریکی گھروں کا فرد بنا دیا (فوٹو: آئی ایم بی ڈی)

یہ بھی ایک طرح کا جوڑنے والا عمل تھا، بہت گہرا عمل۔ آپ صرف اپنے ملک کو نہیں، اپنے ہم وطنوں کو بھی جان رہے ہوتے تھے۔
ان سب میں ایک بات مشترک تھی۔ اُس زمانے میں پورے محلے میں ایک آدھ ٹی وی ہوتا تھا۔ چھت پر لگے اینٹینے کو نشریات سے پہلے سیدھا کیا جاتا، بچے بڑے ایک کمرے میں ٹھسے بیٹھے ہوتے اور پورا ٹبر ایک ہی کہانی میں کھو جاتا۔ ڈرامہ صرف تفریح نہیں تھا، وہ ایک مشترک تجربہ تھا جو اگلے دن گفتگو کا موضوع بنتا۔
سوال یہ ہے کہ آج ایسا کیا ہے؟
میرا خیال ہے کہ اصل تبدیلی اسی جگہ سے شروع ہوئی جہاں سے ہم اسے ترقی سمجھتے رہے۔ پہلے ایک پی ٹی وی تھا، پھر درجنوں چینل آ گئے، پھر آج یوٹیوب، نیٹ فلکس، امیزون وغیرہ جیسے سٹریمنگ چینلز اور یہ پورا میدان موبائل نے سنبھال لیا۔ آج ہر شخص کے پاس اپنی الگ پسند، اپنی الگ سکرین اور اپنا الگ وقت ہے۔ جس چیز کو ہمیں جوڑنا چاہیے تھا، وہی ہمیں بانٹ گئی۔ ایک ہی گھر میں چار افراد ہوں تو چار الگ سکرینیں چل رہی ہوتی ہیں اور کسی کو خبر نہیں کہ ساتھ بیٹھا دوسرا کیا دیکھ رہا ہے۔
جو صوبائی شناسائی والا کام تھا، وہ تو بالکل ختم ہو گیا۔ جب سرکاری ٹی وی غیر مؤثر ہوا اور سارا کام نجی چینلوں نے سنبھالا توایسے ڈرامے اور شوز کم ہوتے گئے جن کی کشش پورے ملک میں یکساں ہو۔ نجی چینلز کو صرف دو تین بڑے شہروں میں دلچسپی ہے جہاں ریٹنگ کے میٹرز لگے ہیں۔
آج میرے بچوں کو، جنریشن زی اور جنریشن الفا کو، کچھ اندازہ نہیں کہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لوگ کیسے رہتے ہیں، ان کی زبانیں کیا ہیں، ان کا کلچر کیا ہے، اور کن باتوں میں ان کی حساسیت ہے۔ ہم ایک ملک میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے جا رہے ہیں۔

افریقی غلاموں پر لکھے گئے ناول ’روٹس‘ پر بنی سیریز نے غلامی کی تلخ تاریخ کروڑوں امریکی شہریوں کے ذہنوں میں راسخ کی (فوٹو: میٹا کرٹکس)

سب کچھ برا نہیں رہا، چند چیزیں بیچ بیچ میں سب کو ایک جگہ اکٹھا کرتی رہیں۔ ایک زمانے میں آئی ایس پی آر کے دو ڈرامے بہت مشہور ہوئے تھے، سنہری دن اور الفا براوو چارلی، انہوں نے پاکستانی نوجوانوں کے دلوں میں پاک فوج جوائن کرنے کی شدید خواہش پیدا کر دی۔
پھر ایک لمبا وقفہ آیا اور 2019 میں ڈرامہ ’عہد وفا‘ آیا، یہ بھی مقبول ہوا۔ ان ڈراموں نے لوگوں کو تھوڑی دیر کے لیے ایک ہی جذبے میں باندھا۔ مگر یہ اب استثنا ہیں، معمول نہیں۔
پچھلے چند برسوں میں بعض خواتین لکھاریوں کے ڈرامے مقبول ہوئے۔ عمیرا احمد کے ڈرامے مقبول ہوئے، ان میں سےبعض تو انڈیا میں بھی چلے اور ہٹ ہوئے۔ صائمہ اکرم چودھری کے لکھے ماہ رمضان میں چلنے والے ہلکے پھلکے ڈرامے، ہاشم ندیم کے ڈرامے اور سب سے زیادہ مقبول شاید خلیل الرحمن قمر کے چند ڈرامے ہوئے۔ یہ سب مگر تواتر سےنہیں ہو پایا۔
امریکہ میں صرف ڈرامے ہی لوگوں کو نہیں جوڑتے۔ ایک اور تماشا ہے جو پوری قوم کو ایک ہی وقت میں ایک ہی سکرین کے سامنے بٹھا دیتا ہے، سپر باول۔ امریکی فٹ بال وہاں کا بہت مقبول کھیل ہے، یہ رگبی سے ملتا جلتا ہے۔ ہم جسے فٹ بال کہتے ہیں، امریکہ میں اسے سوکر کہا جاتا ہے۔ امریکہ کا مقبول ترین کھیل امریکی فٹ بال ہی ہے۔ ہر سال فروری کی دوسری اتوار کو امریکی نیشنل فٹ بال لیگ کا فائنل(سپرباول) ہوتا ہے تو گویا پورا ملک تھم جاتا ہے۔ بارہ کروڑ سے زیادہ لوگ اسے دیکھتے ہیں، یعنی تقریباً ہر دوسرا امریکی۔ دفتر ہو یا گھر، اگلے دن ہر زبان پر بس اسی میچ کا ذکر ہوتا ہے۔
یہی کام کبھی ہماری کرکٹ کا تھا۔ جب پاکستان کا میچ ہوتا تو گلیاں سنسان ہو جاتیں، بازار بند اور ہر ٹی وی کے گرد ایک ہجوم جمع ہو جاتا۔ 1992 کا ورلڈ کپ یاد کیجیے، جیت کی وہ رات پوری قوم کی مشترکہ خوشی تھی۔
اب مگر کیا رہ گیا ہے؟ ایک زمانے میں ہاکی نے ملک کو جوڑے رکھا، جب ہم دنیا کے چیمپئن تھے۔ مجھے آج بھی 1994کے لاس اینجلس اولمپکس یاد ہیں جب پاکستان نے ہاکی کا فائنل جیت کر اولمپک گولڈ میڈل جیتا۔
سکواش میں جہانگیر خان اور جان شیر خان کے دور میں ہم برسوں دنیا پر راج کرتے رہے۔ پھر یہ سارا بوجھ کرکٹ نے اٹھا لیا۔ آج حال یہ ہے کہ ہاکی ہاتھ سے نکل گئی، سکواش گنوا دی، اور کرکٹ کا بھی کوئی بھروسا نہیں رہا کہ کب جیتے گی اور کب ڈبو دے گی۔ اب تو پاکستان انڈیا کا کرکٹ میچ لوگ دیکھنے کو تیار نہیں کہ معلوم ہے پاکستان ہار جائے گا۔

ستر کے عشرے کا شو ’ففٹی ففٹی‘ بے ساختہ مزاح کا شاندار نمونہ تھا (فوٹو: ڈان)

ہمیں آخری بڑی خوشی جیولین تھرو کے ارشد ندیم نے دی، جب انہوں نے 2024 کے پیرس اولمپکس میں اولمپک ریکارڈ کے ساتھ سونے کا تمغہ جیتا۔ پوری قوم ایک لمحے کے لیے ایک ساتھ جھوم اٹھی۔ مگر ایک اکیلے کھلاڑی کا نیزہ (جیولین)کب تک پوری قوم کا بوجھ اٹھائے؟
موسیقی کے حوالے سے ایک مزے کا استثنا البتہ موجود ہے، اور اسی میں راستہ بھی چھپا ہے۔ 2008 میں روحیل حیات نے کوک سٹوڈیو کا آغاز کیا۔ اس نے مختلف زبانوں کے مقبول لوک گیت ایک نئے، جدید انداز میں دوبارہ گوائے۔ سندھ کا صوفیانہ کلام ہو، بلوچستان کی کوئی دھن ہو، پشتو یا سرائیکی کا کوئی گیت، پنجابی کا شاہکار بھولا بسرا گانا، سب ایک ہی سٹیج پر آ گئے۔
کمال یہ ہوا کہ اس نے پورے ملک میں یکساں مقبولیت پائی۔ ایک لاہوری نوجوان بلوچی گیت گنگنانے لگا، ایک کراچی والا پشتو کی دھن پر سر دھننے لگا۔ یہ ٹھیک وہی کام تھا جو کبھی پی ٹی وی کرتا تھا۔
ایک اور کام ادب نے بھی کیا، قدرے محدود پیمانے پر مگر بہرحال لاکھوں لوگوں تک یہ بھی پہنچا۔ میری نسل نے ابن صفی کے ناول پڑھے اور پھر مظہر کلیم کے اسیر ہوئے۔ بچوں کی کہانیوں میں اے حمید اور پھر اشتیاق احمد کی انسپکٹر جمشید سیریز وغیرہ لاکھوں بلکہ شائد کئی ملین بچوں نے مجموعی طور پر پڑھی ہوں گی۔ یہ میری اور مجھ سے دس سال بڑی اور چھوٹی نسل کا مشترکہ اثاثہ ہے۔
ہماری ان دو تین نسلوں کے لوگ مطالعہ کا ذکر چھیڑیں تو اس میں مشترک چیزیں یہ نکلیں گی، نونہال، تعلیم وتربیت، ٹارزن، عمروعیار کی کہانیاں، اشتیاق احمد کےناول، اےحمید کی کہانیاں وغیرہ، ابن صفی کے ناول، مظہر کلیم ایم اے کی عمران سیریز۔ کچھ حصہ ڈائجسٹوں کا بھی رہا۔
ایک خاص ذوق رکھنے والوں میں سب رنگ اور شکیل عادل زادہ کا لکھا ناول بازی گر مشترک ہوگا۔ باقیوں میں سسپنس، جاسوسی، سرگزشت ڈائجسٹ جبکہ ہماری پڑھی لکھی خواتین میں شعاع، خواتین، کرن ، پاکیزہ، آنچل ڈائجسٹ وغیرہ مشترکہ پسند رہے۔
سوشل میڈیا کے شور نے لوگوں کو بھلا دیا ہے کہ ہمارے اخبارات جیسے بھی ہیں، انہوں نے بھی ملک کے مختلف کونوں اور دوردراز کے رہنے والوں کو جوڑ کر رکھا ہوا تھا۔

کمال احمد رضوی کے لکھے ’الف نون‘ کے الن اور ننھا آج بھی لوگوں کو ہنساتے ہیں (فوٹو: پی ٹی وی آرکائیوز)

ہم سے پہلے والے شورش کاشمیری وغیرہ کے اسیر تھے تو میری نسل کے نوجوان ارشاد احمد حقانی کے تجزیے پڑھ کر سیاسی شعور حاصل کرتے رہے۔ اردو ڈائجسٹ، زندگی، تکبیر اور دوسری طرف زنجیر وغیرہ، انگریزی میں ویو پوائنٹ، فرائیڈے ٹائمز جیسے جرائد رائٹ، لیفٹ دونوں طرح کی سوچ والے پڑھتے رہے۔ عبدالقادر حسن، مجیب الرحمٰن شامی، ہارون الرشید جیسے صاحب اسلوب کالم نگاروں کا جادو ہر نسل، ہر دور اور ہر علاقے میں چلا۔
آج ادبی جرائد ، بچوں کے رسائل، ڈائجسٹ وغیرہ کا چل چلائو ہے۔ اخبارات دم توڑ رہے ہیں، کالم نگاروں کا بھی اچھا وقت نہیں چل رہا۔ جن کی سوشل میڈیا فالوئنگ تھی، وہ تو ڈیجیٹل ویب سائٹس پر چل رہے ہیں، باقی ماضی کی راکھ کو کریدتے رہتے ہیں کہ شائد کوئی چنگاری موجود ہو۔ تو پھر وہ اصل سوال سامنے آ کھڑا ہوتا ہے:
ملک کو آخر کیا چیز جوڑ سکتی ہے؟
امریکی اخبارات میں کم از کم اس ایشو پر بات تو ہو رہی ہے، بحث تو شروع ہوئی ہے، وہ ایسا کچھ کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے عوام ایک دوسرے سے جڑے رہیں۔ ہمیں بھی اپنے بارے میں سوچنا چاہیے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ کسی ایک ڈرامے یا کسی ایک میچ سے قوم عارضی طور پر تو جڑ سکتی ہے، مستقل نہیں۔ اصل جڑت اور قربت دو چیزوں سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک، کہ ہم ایک دوسرے کو جانیں، ایک صوبے کا آدمی دوسرے صوبے کے آدمی کو اجنبی نہ سمجھے۔ دوسرا، کہ ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ اس ملک میں اس کا بھی حصہ ہے، اس کی بھی سنی جائے گی، اور قانون اس کے لیے بھی وہی ہے جو کسی بڑے کے لیے ہے۔ جس دن یہ دونوں احساس عام ہوئے، اُس دن ہمارے دل ایک دوسرےکے ساتھ دھڑکنا شروع کر دیں گے۔
پھر کچھ ضروری چیزیں ہیں جو امریکیوں اور باقی دنیا کی طرح ہمیں بھی کرنا پڑیں گی۔ سافٹ پاور ڈھونڈی جائے، بڑھائی جائے۔ مشترکات ڈھونڈے جائیں۔ ہمارے نوجوانوں میں اپنے ملک اور اپنی صلاحیتوں پر تفاخر پیدا ہو۔ فخر سے یہ بیرون ملک اپنے وطن کا نام لیں۔

پی ٹی وی سے صبح کی نشریات شروع ہوئیں تو ہمیں ہمارے چاچا جی مستنصر حسین تارڑ مل گئے (فوٹو: ہیرلڈ)

اُس زمانے میں ایک ٹی وی پورے محلے کو جوڑ دیتا تھا۔ آج ہر جیب میں ایک الگ ٹی وی ہے، اور ہر ٹی وی ایک الگ چھوٹی سی مملکت۔ ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ کیسے سب کو جوڑ کر رکھنا ہے۔
یہ خواب مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں۔ دعا ہے کہ ہم پھر سے ایک قوم بننا سیکھ لیں، اُس گھر کی طرح جو کبھی ایک ٹی وی کے گرد جمع ہو جایا کرتا تھا۔ آمین۔

شیئر: