Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: آدھے گھنٹے تک شیر کے جبڑے اور پنجوں میں رہنے والا شخص کیسے بچا؟

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے (فوٹو: سکرین شاٹ)
انڈیا میں شیر نے ایک نوجوان پر حملہ کر کے اسے دبوچ لیا اور تقریباً آدھے گھنٹے تک اسی حالت میں رہنے کے بعد وہ زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔
اس واقعے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہے، جس پر تبصرے کرنے والوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ شاید شیر بھوکا نہیں ہو گا اور خود ہی چھوڑ دیا ہو گا۔
ٹریبیون انڈیا کے مطابق واقعہ گجرات کے ضلع بھاؤنگر میں پیر کو اس وقت پیش آیا جب کلوبھائی پرمار اپنے مویشیوں کو چارہ ڈالنے کے لیے باڑے میں گیا جہاں شیر پہلے سے موجود تھا۔
اس نے فوراً ہی حملہ کر کے بازو کو جبڑے میں جکڑ لیا مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ شیر اس کو لے اسی طرح لیے بیٹھا اور پھر بازو چھوڑ دیا جبکہ اس کو پنجوں میں دبائے رکھا۔
اس کی چیخ و پکار پر لوگ متوجہ ہوئے اور وہیں پر اس کی ویڈیو بھی بنی۔
 واقعے کی 47 سیکنڈز پر مشتمل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شیر پنجوں میں ایک زخمی شخص کو پکڑ کر بیٹھا ہوا جبکہ لوگ شیر کو بھگانے کے لیے آوازیں لگا رہے ہیں۔
لوگوں نے گرفت سے نکلنے کے بعد اس شخص کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا جہاں طبی امداد کے بعد ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو خطرے سے باہر ہے۔
کلوبھائی پرمار نے ہسپتال میں صحافیوں کو بتایا کہ ’میں اپنی گائے کو چارہ ڈالنے گیا تو شیر وہاں پہلے سے موجود تھا اور فوراً حملہ کر دیا، اس نے مجھے نیچے گرایا اور بازو کو منہ میں پکڑ لیا اور تقریباً آدھے گھنٹے تک ایسے ہی بیٹھا رہا۔‘
ان کے مطابق ’اس کے بعد شیر کی گرفت کچھ ڈھیلی ہوئی تو میں نکلنے میں کامیاب ہوا۔‘
واقعے کی اطلاع ملنے پر انتظامیہ حرکت میں آ گئی تاہم شیر کھیتوں کی طرف فرار ہو گئے۔
محکمہ جنگلات کے ڈپٹی کنزرویٹر چراغ امین نے واقعے کے بعد پی ٹی آئی نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جانور کو تنگ کیا گیا تھا جس پر اس نے حملہ کیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہاں پر یہ واقعہ پیش آیا وہاں جنگلی جانور پہلے بھی آتے رہے ہیں اور لوگوں کو ہوشیار رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا جو شیر ویڈیو میں نظر آ رہا ہے وہ میل اور سب اڈلٹ جانور ہے جس کی تلاش اور ریسکیو کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق اس ٹیم میں ٹرینکولائزر گن کے علاوہ ریسکیو کی تربیت رکھنے والے اہلکار شامل ہیں۔ 

شیئر: