پاکستان میں پہلی مرتبہ چار سالہ حج پالیسی منظور، یہ کس طرح مختلف ہے؟
منگل 7 جولائی 2026 20:35
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان کی حکومت نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار چار سال کی حج پالیسی اور پلان کی باضابطہ منظوری دی ہے، جس کے تحت اب عازمینِ حج کو ہر سال نئے سرے سے رجسٹریشن کے روایتی عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا بلکہ وہ 2030 تک کے لیے ایک ہی بار اپنی رجسٹریشن کروا سکیں گے۔
منگل کو وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس نئی پالیسی کی توثیق کی گئی، جس کا مقصد عازمینِ حج کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کو ممکن بنانا ہے۔
اس نئی پالیسی کے تحت عازمینِ حج کو ہر سال نئے سرے سے رجسٹریشن کروانے کے عمل نجات مل جائے گی اور اب خواہش مند عازمین سال 2030 تک کے لیے کسی بھی وقت اپنی مستقل رجسٹریشن کروا سکیں گے۔
وزیرِاعظم آفس سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد حج آپریشنز کو مکمل طور پر شفاف بنانا اور زائرین کو ہر سال پالیسی کی تبدیلیوں سے بے فکر کر کے بہترین سفری و رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
وفاقی کابینہ سے منظور شدہ اس پالیسی کے تحت مستقل رجسٹریشن کی بنیاد پر ایک ’ترجیحی ویٹنگ لسٹ‘ تیار کی جائے گی، جس کا بنیادی مقصد ماضی میں مسلسل ناکام رہنے والے درخواست گزاروں کو قرعہ اندازی کے بجائے ترجیحی بنیادوں پر حج کی سعادت فراہم کرنا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت روایتی اور مینوئل حج مینجمنٹ سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جائے گا جس کے بعد اب ڈیجیٹل پیمنٹ، فعال شکایات سیل اور لائیو مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے عازمینِ حج کے تمام انتظامات کی نگرانی کی جائے گی۔
نئے پلان میں عازمین کی مالی سہولت کے لیے ’شریعت کے اصولوں‘ کے مطابق ایک خصوصی ’حج سیونگز سکیم‘ متعارف کروائی گئی ہے، تاکہ خواہش مند عازمین یکمشت ادائیگی کے بجائے مستقبل کے حج اخراجات کے لیے قسط وار رقم جمع کرا سکیں۔
اس کے علاوہ عازمین کے لیے لازمی ٹریننگ، تکافل (انشورنس) اور روایتی طویل حج کے ساتھ ساتھ مختصر دورانیے (شارٹ حج) کا پروگرام بھی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ نے حج انتظامات میں مزید شفافیت لانے کے لیے وزارتِ مذہبی امور کو ہدایات جاری کی ہیں کہ حج معاونین کا تقرر کسی بھی قسم کی سفارش یا اثر و رسوخ کے بغیر سو فیصد میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے۔
مزید برآں عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے سرکاری اور نجی (پرائیویٹ) دونوں حج سکیموں کی ’تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن‘ کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ کابینہ نے رواں سال کے حج انتظامات پر وزارتِ مذہبی امور کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
نئی 4 سالہ حج پالیسی ماضی کے طریقہ کار سے کس طرح مختلف ہے؟
وفاقی کابینہ کی جانب سے منظور کی گئی نئی پالیسی اور ماضی کی حج پالیسیوں میں سب سے بڑا فرق ان کی مدت اور طریقہ کار کا ہے۔
اب تک پاکستان میں ہر سال نئی حج پالیسی بنائی جاتی تھی، جس کے باعث عازمین کو ہر سال نئے سرے سے رجسٹریشن، فارمز اور قرعہ اندازی کے طویل عمل سے گزرنا پڑتا تھا۔
تاہم نئی پالیسی کے تحت اس سالانہ نظام کو ختم کر کے مجموعی طور پر چار سال (2027 سے 2030 تک) کا ایک مستقل فریم ورک تیار کر دیا گیا ہے، جس سے عازمین کو ہر سال پالیسی بدلنے کی تشویش سے نجات ملے گی۔
دوسرا بڑا فرق ترجیحی نظام اور مالی سہولت کا ہے۔ ماضی میں ہر سال نئی قرعہ اندازی ہوتی تھی جس کی وجہ سے کئی ایسے عازمین جو برسوں سے درخواستیں دے رہے ہوتے تھے، محروم رہ جاتے تھے، جبکہ نئے درخواست گزاروں کا نام نکل آتا تھا۔
اب ایک مستقل ’ترجیحی ویٹنگ لسٹ‘ بنے گی جس کے تحت بار بار رہ جانے والوں کو پہلے موقع ملے گا۔ مزید برآں پہلے عازمین کو حج کے اخراجات یکمشت یا انتہائی مختصر وقت میں ادا کرنا ہوتے تھے، جبکہ اس بار ’شرعی اصولوں‘ پر مبنی ’حج سیونگز سکیم‘ شروع کی گئی ہے تاکہ عازمین کئی سال پہلے سے آسان اقساط میں رقم جمع کر سکیں۔
تیسرا واضح فرق ٹیکنالوجی اور دورانیے کا ہے۔ ماضی میں حج مینجمنٹ کا نظام زیادہ تر مینوئل یا روایتی فائلنگ پر منحصر تھا، جبکہ اب اسے مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر کے لائیو مانیٹرنگ اور ڈیجیٹل پیمنٹ سے جوڑ دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ماضی کی پالیسیوں کے برعکس اب عازمین کو ان کی سہولت کے مطابق طویل حج کے ساتھ ساتھ مختصر دورانیے (شارٹ حج) کا آپشن بھی باقاعدہ پالیسی کے تحت فراہم کیا جائے گا۔