Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی حملوں کے بعد ایران کے بحرین اور کویت میں امریکی اہداف پر حملے

کویت کی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام ’دشمن‘ کے حملوں سے نمٹ رہے ہیں: فائل فوٹو اے ایف پی
ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے کہا ہے کہ بدھ کو بحرین اور کویت میں امریکہ کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل امریکہ نے بدھ کی صبح ایران پر نئے حملے کیے تھے اور ان کو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کا جواب قرار دیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے میزائلوں پر ڈرونز پر مشتمل کارروائی کی جبکہ کارروائی میں رکاوٹ کی کوشش کرنے والے  ایک امریکی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بحرین اور کویت میں فضائی حملوں کے سائرن بھی بج اٹھے۔
اس نئی پیش رفت کو ان مذاکرات کے لیے دھچکا سمجھا جا رہا ہے جن کے بارے میں امید کی جا رہی تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ مکمل طور پر بند ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ سے کھول دیا جائے گا۔
دوسری جانب کویت کی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام ’دشمن‘ کے میزائل اور ڈرون حملوں سے نمٹ رہے ہیں جبکہ بحرین میں فضائی حملوں کے سائرن بجے کے بعد شہریوں کو پرسکون رہنے اور محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی گئی۔
آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں اور اس کے جواب میں امریکی کارروائی کے بعد امریکہ نے ایران کا وہ لائسنس بھی منسوخ کر دیا ہے جو معاہدے کا حصہ تھا اور اس کی بدولت ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت ملی تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اہداف میں پاسداران انقلاب کی 60 سے زائد کشتیاں بھی شامل تھیں جس کا مقصد جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بحری جہازوں پر حملوں پر ایران کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرنا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایران فوج کی بلاجواز جارحیت جنگ بندی کی واضح اور خطرناک خلاف ورزی ہے اور اس سے آزادانہ جہاز رانی کے حق کو نقصان پہنچا ہے۔‘
ایک صوبائی اہلکار نے فارس نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جنوبی صوبے بوشہر میں دو فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

شیئر: