Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب کا ایک ایسا منفرد گاؤں جہاں پلاٹ مفت ملتے ہیں

یوں تو پاکستان میں زمین کی قیمت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، ایک چھوٹا سا پلاٹ بھی بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے اور دیہات میں بھی زمین وراثت اور خرید و فروخت کے پیچیدہ معاملات میں بندھی دکھائی دیتی ہے۔
تاہم پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب کی تحصیل سانگلہ ہل میں ایک ایسا گاؤں بھی ہے جہاں ایک روایت تقریباً ایک صدی سے زندہ ہے جس کے تحت اگر کوئی یہاں آ کر گھر بنانا چاہے تو اسے زمین خریدنی نہیں پڑتی بلکہ گاؤں کے مالکان اسے مفت رہائش کے لیے جگہ فراہم کر دیتے ہیں۔
صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب کی تحصیل سانگلہ ہل میں ایک ایسا گاؤں آباد ہے جس کی کہانی سن کر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہاں کوئی شخص اگر بے گھر ہو، مجبور ہو یا محض اپنا ٹھکانہ بنانا چاہتا ہو تو اسے زمین کے مالکان مفت میں پلاٹ دے دیتے ہیں جس کے عوض کوئی کرایہ یا قیمت نہیں لی جاتی اور نہ ہی دستاویزات کے جھنجھٹ سے گزرنا ہوتا ہے۔ 
مقامی روایت کے مطابق سانگلہ ہل کا گاؤں کوٹ رحمت خاں چک نمبر 22 تقسیم ہند سے پہلے انگریزوں کے دور حکومت میں آباد ہوا۔
اس وقت یہ علاقہ ویران پڑا تھا جبکہ ملک رحمت خاں ان زمینوں کے مالک تھے جنہوں نے اس ویران زمین کو آباد کرنے کا فیصلہ کیا۔
ملک سلطان صغیر اعوان ملک رحمت خاں کے پڑپوتے ہیں۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس وقت ملک رحمت خاں نے اپنے تعلق دار اور غریب لوگوں کو ان کی زمین پر آباد ہونے کی دعوت دی۔
’یہ پہلے ویران علاقہ تھا اور ملک رحمت خاں اسے آباد کرنا چاہتے تھے۔ اس وقت ملک رحمت خاں کے جو تعلق والے لوگ تھے یا جو مجبور تھے انہیں دعوت دی گئی اور وہ یہاں آ کر آباد ہو گئے اور آج تک یہیں پر وہ لوگ موجود ہیں۔‘

گاؤں میں تین سو سے زائد ایسے گھر ہیں جن کے لیے زمین مفت دی گئی (فوٹو: اردو نیوز)

مقامی رہائشی ناصر علی خان بلوچ خود بھی اسی مفت دی ہوئی زمین پر آباد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تقسیم سے پہلے یہاں سکھ برادری آباد تھی جو 1947 میں ہجرت کر گئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ زمینیں تب سے اعوان خاندان کی ملکیت ہیں اور لوگ سو سال سے زائد عرصے سے یہاں مقیم ہیں۔ ان کے مطابق مجھے خود یہاں 40 سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے اور ہمارے گھر کی زمین ہمارے والد نے ان سے مفت میں حاصل کی تھی جس کو تقریباً 60 سال ہوگئے ہیں۔‘
 مقامی لوگوں کے مطابق اس گاؤں میں اکثر ایسے خاندان آباد ہیں جن کی آج تین سے چار نسلیں اس گاؤں میں گزر چکی ہیں اور یہاں چار سے ساڑھے چار سو گھر آباد ہیں۔ اس نظام کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ زمین کی قانونی ملکیت ہمیشہ اصل مالکان یعنی اعوان خاندان کے پاس ہی رہتی ہے۔ گھر بنانے والے کو صرف گھر بنانے اور وہاں رہائش اختیار کرنے کا حق ملتا ہے، جس کے لیے طریقہ کار سادہ رکھا گیا ہے یعنی اگر کوئی کسی زمین پر گھر بنانا چاہتا ہو تو وہ وہاں کے ذمہ داران سے بات کر کے تعمیر شروع کر سکتا ہے۔
ملک سلطان صغیر اعوان بتاتے ہیں کہ ایک بار گھر بن جائے تو روایتاً زمین کا مالک اسے وہاں سے نکلنے کو نہیں کہہ سکتا۔
’اگر رہائشی خود جانا چاہے تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے اور اگر کوئی نیا شخص اس جگہ آنا چاہے تو وہ پرانے تعمیراتی ملبے کی قیمت اس شخص کو ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے جس نے گھر تعمیر کیا ہو یا اگر کوئی خریدار نہ ہو تو اصل رہائشی اپنا ملبہ خود اٹھا کر لے جاتا ہے۔‘
ناصر علی خان بلوچ اس گاؤں کو پورے پاکستان میں منفرد قرار دیتے ہیں۔
’میں نے آج تک نہیں سنا کہ کہیں مفت زمین ملتی ہو، پنجاب کیا پورے پاکستان میں میں نے آج تک ایسا گاؤں نہیں دیکھا۔‘

کوٹ رحمت خاں کے بیشتر رہائشی کھیتی باڑی سے وابستہ ہیں (فوٹو: اردو نیوز)

مقامی رہائشی ظفر اقبال بھی اسی بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ گاؤں کے کسی بھی رہائشی کی اپنی ذاتی زمین نہیں اور پورا گاؤں تقریباً ایک ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں قبرستان تک کی زمین سرکاری نہیں بلکہ اعوان خاندان کی ملکیت ہے۔
ان کے بقول 'یہاں ہسپتال، گراؤنڈ، سرکاری سکول، ڈیرے سب کچھ یہاں کے مالکان کی دی ہوئی مفت زمین پر قائم ہیں۔‘
کوٹ رحمت خاں میں بجلی، پانی، گیس، ہسپتال، کھیل کا میدان، قبرستان اور سکول سمیت ہر بنیادی سہولت موجود ہے اور گلیاں پختہ ہیں۔
ظفر اقبال بتاتے ہیں کہ گاؤں کے پرائمری سکول میں ساہیوال سے تعلق رکھنے والے ایک پرنسپل کے لیے خاندان نے ایک شاندار گھر تعمیر کروایا جو آج بھی موجود ہے اور جہاں اس پرنسپل کے بچے مقیم ہیں۔
اس گاؤں میں چار ڈیرے تعمیر کیے گئے ہیں۔ ایک ڈیرہ تقسیم سے پہلے کا تعمیر شدہ ہے جس کی طرز تعمیر ہی اس دور کی گواہی دیتی ہے۔
ایک اور ڈیرہ جدید طرز پر تعمیر ہوا ہے۔ ناصر علی خان بلوچ بتاتے ہیں کہ ’یہاں چار ڈیرے ہیں جو 24 گھنٹے کھلے رہتے ہیں جہاں آپ جب بھی آنا چاہتے ہیں آ سکتے ہیں، مہمان لا سکتے ہیں اور آرام کر سکتے ہیں۔ کھانا کھا سکتے ہیں، جتنے دن رہنا چاہتے ہیں رہ سکتے ہیں۔‘
ظفر اقبال کے مطابق یہی ڈیرے گاؤں کی ہر خوشی اور غمی کا مرکز بھی ہیں۔

کوٹ رحمت خان میں تمام سہولتیں موجود ہیں (فوٹو: اردو نیوز)

’جو خاندان شادی بیاہ کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے وہ اپنی تقریبات انہی ڈیروں میں منعقد کرتے ہیں۔ شام ڈھلتے ہی لوگ یہاں جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور محفلیں سج جاتی ہیں۔‘
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گاؤں میں اگر کوئی جھگڑا ہو تو معاملہ پولیس تک لے جانے کی بجائے مقامی سطح پر ہی حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ظفر اقبال بتاتے ہیں کہ اعوان خاندان کبھی کسی رہائشی کو گاؤں سے نکالنے کی کوشش نہیں کرتا چاہے وہ زمین کی حدود سے تجاوز ہی کیوں نہ کر جائے۔
اس دلچسپ پہلو سے متعلق وہ مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں ’ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر آپ نے 5 مرلے کی ڈیمانڈ کی ہے تو اگر ملک صاحب ادھر ادھر نکل گئے تو آپ 10 مرلے پر گھر بنا لیں تو کوئی نہیں پوچھتا۔‘
ان کے بقول ’بعض اوقات رہائشی زمین کے مالکان سے بدتمیزی بھی کر بیٹھتے ہیں لیکن یہ خاندان اس کے باوجود خاموشی اختیار کرتا ہے اور کبھی جوابی کارروائی نہیں کرتا۔‘
کوٹ رحمت خاں کے بیشتر رہائشی کھیتی باڑی سے وابستہ ہیں۔

مفت زمین دینے کا سلسلہ ملک رحمت خان نے تقسیم برصغیر سے قبل شروع کیا تھا جسے ان کی پانچویں نسل جاری رکھے ہوئے ہے (فوٹو: اردو نیوز)

ملک سلطان صغیر اعوان کے مطابق زمین آج بھی وافر مقدار میں موجود ہے اور جو بھی آنا چاہے وہ آ کر مالک سے بات کرے اور مفت زمین لے کر اپنا گھر تعمیر کر لے۔
’اب تک ہماری تقریباً تین سے چار نسلیں یہاں پلی بڑھیں جنہوں نے بڑے پیار محبت کے ساتھ یہاں وقت گزارا ہے اور گزار رہے ہیں۔
’زمین اب بھی موجود ہے جو بھی آنا چاہے اور گھر بنانے کا خواہش مند ہو تو وہ رحمت خاں کے واراثان میں سے متعلقہ مالکان سے بات کر کے زمین لے کر گھر تعمیر کر لے اور ہمیشہ کے لیے یہاں رہائش اختیار کر لے۔‘
ناصر علی خان بلوچ اسی جذبے کی گواہی کچھ یوں دیتے ہیں۔
’ہم بڑے ہو گئے، ہمارے بچے بڑے ہو رہے ہیں اور ہم آج تک یہیں پر ہیں۔ ہمیں آج تک کسی نے یہاں سے باہر جانے کا نہیں کہا۔‘

شیئر: