ایران سے جنگ بندی کا عبوری معاہدہ ختم، بات چیت محض وقت کا ضیاع: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا عبوری معاہدہ ختم ہو چکا ہے جبکہ وہ تہران کے ساتھ مزید بات نہیں کرنا چاہتے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں عبوری جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ جنگ کے مکمل خاتمے کے معاہدے تک پہچنے کے لیے 60 روز کا وقت فراہم کیا جائے، تاہم قطر میں بالواسطہ طور پر ہونے والے مذاکرات پچھلے ہفتے بغیر کسی نمایاں پیش رفت کے ختم ہو گئے تھے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکہ نے بدھ کی صبح تہران پر حملوں کی نئی لہر شروع کی۔
انقرہ میں بدھ کو نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے؟ کیا مفاہمتی یادداشت اب ختم ہو چکی ہے؟
اس پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ ختم ہو چکا ہے، میں ان کے ساتھ بات چیت نہیں کرنا چاہتا، ان کے ساتھ بات چیت محض وقت کا ضیاع ہے۔‘
امریکہ نے ایران کی جانب سے تین آئل ٹینکروں پر حملوں کے جواب میں ایران پر نئے حملے کیے ہیں جبکہ تیل کی فروخت کے لیے دیا گیا لائسنس بھی منسوخ کر دیا ہے۔
ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے اور نئی صورت حال کو نازک جنگ بندی کے لیے بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوجی اتحاد کے سربراہ مارک روٹے سے ملنے کے بعد وہ نیٹو سے سخت ناراض ہیں۔
’میں نیٹو سے سخت ناراض ہوں کیونکہ جو کچھ اس نے گرین لینڈ کے معاملے میں کیا ہے اور میں اس لیے ناخوش ہوں کیونکہ اس میں شامل ممالک دہشت گردی میں سب سے اوپر ملک ایران کے خلاف ہماری مدد نہیں کرنا چاہتا۔‘
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے وزیر خزانہ سکاٹ بسینٹ کو ہدایت کی ہے کہ سپین کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کر دیے جائیں۔
انہوں نے میڈرڈ کو نیٹو کا ایک ’خوفناک شراکت دار‘ قرار دیا۔
’مذاکرات مزید پیچیدہ ہو گئے‘
یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار کاجا کالس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں نے پہلے سے ہی پیچیدہ مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران کے بحرین اور کویت پر حملے ناقابل قبول ہیں، یورپی یونین کے وزرائے خارجہ خلیجی ہم منصبوں کے ساتھ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو محفوظ بنانے کے حوالے سے بات کریں گے۔‘