Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم، بات چیت محض وقت کا ضیاع :صدر ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے ایرانی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب ان کے ساتھ کسی قسم کی بات نہیں کرنا چاہتے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق انقرہ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے؟ تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے ساتھ بات چیت محض وقت کا ضیاع ہے۔‘
امریکہ نے ایران کی جانب سے تین آئل ٹینکروں پر حملوں کے جواب میں ایران پر نئے حملے کیے ہیں جبکہ تیل کی فروخت کے لیے دیا گیا لائسنس بھی منسوخ کر دیا ہے۔
ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
نئی صورت حال کو نازک جنگ بندی کے لیے بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوجی اتحاد کے سربراہ مارک روٹے سے ملنے کے بعد وہ نیٹو سے سخت ناراض ہیں۔
’میں نیٹو سے سخت ناراض ہوں کیونکہ جو کچھ اس نے گرین لینڈ کے معاملے میں کیا ہے اور میں اس لیے ناخوش ہوں کیونکہ اس میں شامل ممالک دہشت گردی میں سب سے اوپر ملک ایران کے خلاف ہماری مدد نہیں کرنا چاہتا۔‘
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے وزیر خزانہ سکاٹ بسینٹ کو ہدایت کی ہے کہ سپین کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کر دیے جائیں۔
انہوں نے میڈرڈ کو نیٹو کا ایک ’خوفناک شراکت دار‘ قرار دیا۔
دوسری جانب یورپی یونین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے حملوں نے مذاکرات کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار کایا کالاس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں نے پہلے سے ہی پیچیدہ مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

شیئر: