Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل نے صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کے ایران کے ’نئے‘ منصوبے کی خفیہ معلومات امریکہ کو دیں: رپورٹس

تہران کئی برسوں سے ٹرمپ کو نشانہ بنانے کا عزم ظاہر کرتا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل نے رواں ہفتے امریکہ کو ایران کے ایک نئے اور ’خاص‘ منصوبے کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کی ہیں، جس کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ رپورٹس ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور ایران کے تازہ حملوں نے مکمل جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
واشنگٹن نے ٹرمپ کے قتل کے ممکنہ منصوبوں کے بارے میں ’مسلسل خفیہ اطلاعات‘ کی نگرانی کی ہے، لیکن سی این این کے مطابق اسرائیل کی جانب سے دی گئی وارننگ نئی تھی اور ایک خاص منصوبے سے متعلق تھی۔ وال سٹریٹ جرنل نے بھی نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا کہ یہ خفیہ معلومات ایک ’تازہ‘ منصوبے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
تہران کئی برسوں سے ٹرمپ کو نشانہ بنانے کا عزم ظاہر کرتا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے جنوری 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم دیا تھا، جو ان کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران ہوا۔
اے ایف پی نے جب وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں رابطہ کیا تو ایک نامعلوم اہلکار نے ٹرمپ کے بدھ کے بیان کی طرف اشارہ کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ امریکی لیڈر کو ختم کرنا چاہتے ہیں، مجھے۔ میں ان کی فہرست میں ہوں۔ آج صبح میں نے دیکھا کہ میں ان کی ہر فہرست میں شامل ہوں۔‘
ٹرمپ نے نیٹو اجلاس کے بعد ترکیہ سے روانگی کے لیے اپنا پرانا ایئر فورس ون جہاز استعمال کیا، جبکہ ان کا نیا قطری تحفے میں دیا گیا جہاز برطانیہ بھیج دیا گیا۔
نئے جہاز کو اپنی پہلی غیر ملکی پرواز پر چھوڑنے کے فیصلے نے قیاس آرائیاں جنم دیں کہ شاید اس میں حفاظتی خصوصیات کی کمی تھی، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ نے ایران پر تازہ حملے کیے، جو ترکیہ کی سرحد سے ملتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے بدھ کی رات رپورٹ کیا کہ یہ تبدیلی امریکی خفیہ سروس کی درخواست پر ’ایک حفاظتی اقدام‘ کے طور پر کی گئی۔
ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے حفاظتی سوالات کو نظرانداز کیا لیکن ایران کی جانب سے قتل کی مبینہ سابقہ کوششوں کا حوالہ دیا۔

 

شیئر: