Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی ولی عہد اور صدر ٹرمپ کا امریکہ ایران مذاکرات اور خلیج کی سکیورٹی پر تبادلہ خیال

دونوں رہنماؤں نےعلاقائی اور بین الاقوامی پیش رفتوں پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران علاقائی سکیورٹی، بحری نیویگیشن اور جاری امریکہ ایران رابطوں پر تبادلہ خیال کیا۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون اور مختلف شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔
انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفتوں پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا جس میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والی بات چیت بھی شامل ہے۔
ولی عہد اور صدر ٹرمپ نے بحری نیویگیشن کے تحفظ، بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت اور علاقائی سکیورٹی اور استحکام کو بڑھانے کے مقصد سے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا۔
اس کے علاوہ ایس پی اے کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ فون پر بات چیت کی جس کے دوران دونوں نے خطے میں سکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مسلسل ہم آہنگی اور مشاورت کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
یہ فون کالز امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نئی کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہیں جس نے کئی ماہ کو محیط دشمنی کو ختم کرنے کی حالیہ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا کیا ہے۔
حالیہ بحران اس وقت پھوٹ پڑا جب ایرانی افواج نے جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی تیل کے ٹینکروں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں امریکہ نے ایران کے اندر اہداف پر فضائی حملے کیے۔
تہران نے بعد میں خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی جس سے ایک وسیع تر علاقائی تنازع کے خدشات بڑھ گئے۔
ان نئی جھڑپوں نے واشنگٹن اور تہران کے مذاکرات کی طرف لوٹنے کے بین الاقوامی مطالبات میں شدت پیدا کر دی ہے۔
مصر اور قطر نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت دوبارہ شروع کریں اور وسیع تر تصفیے کی بنیاد کے طور پر رواں سال کے اوائل میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کریں جبکہ پاکستان نے تحمل کی اپیل کی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ثالثی جاری رکھنے کی پیشکش کی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہو گیا ہے حالانکہ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حملوں کے حالیہ تبادلے کے بعد جنگ بندی مؤثر طور پر ختم ہو چکی ہے۔
سعودی عرب نے علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے اور بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مستقل طور پر تحمل، بات چیت اور سفارتی حل کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر: