ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں کمی
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں کمی
جمعہ 10 جولائی 2026 18:04
آبنائے ہرمز میں جمعے کو تیل بردار جہازوں کی یومیہ آمدورفت میں کمی آئی ہے (فوٹو: روئٹرز)
آبنائے ہرمز میں جمعے کو تیل بردار جہازوں کی یومیہ آمدورفت میں کمی دکھائی دی، جس کی وجہ رواں ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول کے دعوؤں میں شدت کا دوبارہ پیدا ہونا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان حملوں نے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور بحری تجارت کی بحالی سے متعلق خدشات کو پھر سے بڑھا دیا ہے اور اس پہلو کو اُجاگر کیا ہے کہ عبوری جنگ بندی غیرمعمولی طور پر نازک ہے جبکہ امریکہ اور ایران ایک مستقل معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جمعے کو تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی آئی تاہم ہفتہ وار بنیادوں پر وہ اب بھی 4 سے 5 فیصد اضافے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق جون میں عالمی تیل کی سپلائی میں یومیہ 4.1 ملین بیرل اضافہ ہوا کیونکہ آبنائے سے جہازوں کی آمدورفت بحال ہوئی لیکن یہ مقدار اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے یومیہ 9.4 ملین بیرل کم ہے۔
ایجنسی نے خبردار کیا کہ ڈیزل اور پیٹرول کی سپلائی محدود رہ سکتی ہے اور کہا کہ ریفائنریاں آبنائے کے دوبارہ کھلنے پر خام تیل کی قیمتوں کے مقابلے میں سست ردعمل ظاہر کر رہی ہیں۔
جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے دنیا کے تیل کا قریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ اس کے بعد ایران نے بڑی حد تک اس آبی راستے پر کنٹرول حاصل کر لیا جس کے باعث دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے ساتھ اس کا تصادم وقتی طور پر رُک گیا۔
عبوری معاہدے کے تحت امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دی جبکہ ایران نے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔
تاہم اس ہفتے امریکہ نے ایرانی فورسز پر یہ الزام عائد کیا کہ انہوں نے علاقے میں تین تیل بردار جہازوں پر حملہ کیا جس کے جواب میں امریکہ نے ایران کے جنوبی ساحل اور مشرقی صوبوں میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایران نے اگرچہ ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق تہران ایسے اقدامات کو مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
بعدازاں ایران نے جمعرات کو خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر بھی حملے کیے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی کا مقصد آبنائے کو کھلا رکھنا تھا اور ایران اس آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی کا مقصد آبنائے کو کھلا رکھنا تھا، اور ایران اس پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا (فوٹو: گیٹی)
ایران نے خبردار کیا کہ آبنائے صرف اس کی شرائط پر ہی کھولی جائے گی اور کسی بھی امریکی مداخلت کا ’سخت جواب‘ دیا جائے گا۔
قطری اور سعودی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کو ’ختم‘ قرار دیا تاہم بعد میں ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ اب بھی مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ’تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔‘
اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق قطر اس بحران کو کم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا۔
رواں ہفتے کے حملوں سے قبل یومیہ تیل بردار جہازوں کی آمدورفت جنگ کے آغاز کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی اور اوسطاً 40 جہاز روزانہ آبنائے سے گزر رہے تھے، تاہم یہ تعداد اب بھی جنگ سے پہلے کی یومیہ 125 سے 140 جہازوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔