یورپ میں شدید گرمی کی لہر تباہ کن ثابت، ایک ہفتے میں 10 ہزار سے زائد اموات ریکارڈ
یورپ میں شدید گرمی کی لہر تباہ کن ثابت، ایک ہفتے میں 10 ہزار سے زائد اموات ریکارڈ
پیر 13 جولائی 2026 10:37
گرمی کی شدت کی وجہ سے ایک ہفتے میں 10 ہزار چھ سو 50 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)
یورپ میں جون کے آخری ہفتے کے دوران آنے والی سخت ترین گرمی کی لہر نے ہزاروں جانیں نگل لی ہیں۔
گرمی کی اس لہر کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک ہفتے میں 10 ہزار چھ سو 50 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں نو ہزار سے زائد افراد کی عمر 65 سال یا اس سے زیادہ تھی۔
خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز’ کے مطابق ’یورو مومو‘ (یورپی سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول) اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 22 سے 28 جون کے دوران مغربی یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں رہا، جس کے باعث فرانس، سپین، برطانیہ اور دیگر ممالک میں درجہ حرارت نے کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیے۔
ڈنمارک کے ’اسٹیٹنز سیرم انسٹیٹیوٹ‘ کے چیف فزیشن لاسے ویسٹرگارڈ کا کہنا ہے کہ ’سال کے اس حصے میں اتنی زیادہ اضافی اموات غیر معمولی بات ہے۔‘
ان کے بقول ’دستیاب شواہد یہی ظاہر کرتے ہیں کہ ان اموات کی سب سے بڑی وجہ شدید گرمی کی لہر تھی۔‘
ماہرین کے مطابق شدید گرمی ہیٹ سٹروک کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ دل اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد، خصوصاً بزرگ شہری، اس کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جون کے آخر میں آنے والی یہ غیر معمولی گرمی انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے بغیر تقریباً ناممکن تھی۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں ہیٹ ویوز زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔
اعداد و شمار میں 27 یورپی ممالک کی مجموعی اموات شامل کی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اس عرصے کے دوران ’کوویڈ 19‘ یا کسی اور بڑے وبائی سبب کے شواہد سامنے نہیں آئے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ اموات میں اضافے کی بنیادی وجہ شدید گرمی تھی۔‘
رپورٹ کے مطابق جون کے آخری ہفتے میں فرانس اور بیلجیئم وہ دو یورپی ممالک تھے جہاں اموات کی شرح انتہائی زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق شدید گرمی ہیٹ سٹروک کا سبب بن سکتی ہے (فائل فوٹو: ای پی اے)
بیلجیئم کے سرکاری ادارۂ صحت کے مطابق سنہ 2000 سے اب تک ریکارڈ کی جانے والی تمام گرمی کی لہروں میں یہ سب سے زیادہ اضافی اموات تھیں۔
دوسری جانب پیر کو شائع ہونے والی ایک علیحدہ سائنسی تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ مئی اور جون کی گرمی کی لہروں کے دوران صرف انگلینڈ اور ویلز میں تقریباً دو ہزار سات سو افراد گرمی سے متعلق وجوہات کے باعث جان کی بازی ہار گئے، جن میں سے 42 فیصد اموات براہِ راست موسمیاتی تبدیلی سے شدت اختیار کرنے والی گرمی کے باعث ہوئیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی حدت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو مستقبل میں اس نوعیت کی شدید گرمی کی لہریں اور ان سے ہونے والی اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔