اگر امریکہ نے اپنے وعدوں کا پاس نہ رکھا تو معاہدہ ختم کر دیں گے: ایران کا انتباہ
ایران نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا، تو وہ امریکہ کے ساتھ دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کی مزید پابندی نہیں کرے گا۔
اے ایف پی کے مطابق پیر کوتہران میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ’تہران امریکہ کے ساتھ اپنی جنگ میں مزید کشیدگی کو روکنے کی کوشش کے تحت قطر، پاکستان اور عمان کے ثالثوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ثالثوں کا کام یہ ہے کہ وہ تناؤ کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔‘
اس سے پہلے ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اہداف اور اڈوں پر حملے کیے ہیں۔
خبر رساں ایجسنی اے ایف پی نے ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب نے اردن میں پرنس حسن ایئر بیس، بحرین میں امریکی فوج کے ڈرون کمانڈ سینٹر اور کویت میں علی السالم سمیت دیگر فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ پیر کو ملک پر ہونے والے حملوں کے بعد بحرین میں دوسری مرتبہ میزائل الرٹ کے سائرن بجائے گئے جب کہ اس سے قبل پیر کے اوائل میں بھی فضائی حملے کے سائرن گونجے تھے۔
وزارت نے شہریوں کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا ’سائرن بجا دیے گئے ہیں۔ شہریوں اور مقیم افراد سے گزارش ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ ترین جگہ کا رخ کریں۔‘
امریکہ کی جانب سے فضائی حملوں کے ایک نئے مرحلے کے بعد تنازع میں شدت آنے پر ایران نے اتوار کو کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کر رہا ہے اور اس نے خلیجی ممالک کی طرف میزائل اور ڈرون داغے تھے۔
فائرنگ کے اس حالیہ تبادلے کی وجہ آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز پر ایرانی حملہ بنا، جس کے عملے کو جہاز میں آگ لگنے کے بعد اسے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ایران نے اتوار کے روز کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کر رہا ہے، اور تنازع میں شدت آنے کے بعد جب امریکہ نے حملوں کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا، تو ایران نے خلیجی ممالک کی طرف میزائل اور ڈرون داغ دیے۔
فائرنگ کے اس حالیہ تبادلے کی وجہ آبنائے ہرمز میں ایک اور تجارتی بحری جہاز پر ایرانی حملہ بنا، جس کے عملے کو جہاز میں آگ لگنے کے بعد اسے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
اس کشیدگی نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس عبوری معاہدے کو مزید نقصان پہنچایا ہے جس کا مقصد ان کی جنگ کو ختم کرنا تھا۔ یہ جنگ فروری کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی جس میں ایران کے سپریم لیڈر ہلاک ہو گئے تھے۔
رواں ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد، ثالثی کرنے والے ممالک ایک سفارتی حل کو بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
