ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد ثالثی کرنے والے ممالک ایک سفارتی حل کو بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اہداف اور اڈوں پر حملے کیے ہیں، پیر کے روز سرکاری میڈیا نے اس کی رپورٹ دی ہے۔
خبر رساں ایجسنی اے ایف پی نے ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب نے اردن میں پرنس حسن ایئر بیس، بحرین میں امریکی فوج کے ڈرون کمانڈ سینٹر اور کویت میں علی السالم سمیت دیگر فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ پیر کو اس جزیرہ نما ملک پر ہونے والے حملوں کے بعد بحرین میں دوسری مرتبہ میزائل الرٹ کے سائرن بجائے گئے جب کہ اس سے قبل پیر کے اوائل میں بھی فضائی حملے کے سائرن گونجے تھے۔ وزارت نے شہریوں کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا ’سائرن بجا دیے گئے ہیں۔ شہریوں اور مقیم افراد سے گزارش ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ ترین جگہ کا رخ کریں۔‘
امریکہ کی جانب سے فضائی حملوں کے ایک نئے مرحلے کے بعد تنازع میں شدت آنے پر ایران نے اتوار کو کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کر رہا ہے اور اس نے خلیجی ممالک کی طرف میزائل اور ڈرون داغے تھے۔
فائرنگ کے اس حالیہ تبادلے کی وجہ آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز پر ایرانی حملہ بنا، جس کے عملے کو جہاز میں آگ لگنے کے بعد اسے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
اس کشیدگی نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس عبوری معاہدے کو مزید نقصان پہنچایا ہے جس کا مقصد ان کی جنگ کو ختم کرنا تھا۔ یہ جنگ فروری کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی جس میں ایران کے سپریم لیڈر ہلاک ہو گئے تھے۔
رواں ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد ثالثی کرنے والے ممالک ایک سفارتی حل کو بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
