Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کنگ عبدالعزیز ریزرو میں پہلی مرتبہ 9 نایاب پرندوں کی موجودگی ریکارڈ

ان پرندوں کو ایک جامع فیلڈ سروے کے دوران دستاویز کیا گیا( فوٹو: ایس پی اے)
کنگ عبدالعزیز رائل ریزرو ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ایک نئی ماحولیاتی کامیابی کا اعلان کیا ہے، پہلی مرتبہ نقل مکانی کرنے والے 9 نایاب پرندوں کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مملکت کے اہم مقامات کے طور پر رائل ریزرو کی پوزیشن کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
سانئسی دستاویز سعودی عرب اور جزیرہ نما عرب میں پرندوں کے ریکارڈ میں اہم اضافے کی نمائندگی کرتی ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق اتھارٹی کے ترجمان عبدالعزیز الفریح نے بتایا ان پرندوں کو ایک جامع فیلڈ سروے کے دوران دستاویز کیا گیا، جو اتھارٹی اور کنگ سعود یونیورسٹی کے ماہرین کی مشترکہ تحقیقی ٹیم نے کیا تھا۔
 سروے میں ’پوائنٹ کاونٹ‘ کے سائنسی طریقہ کار کو اپنایا گیا، جس کے ذریعے پانچ مختلف زمروں اور آٹھ حیاتیاتی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے پرندوں کا ریکارڈ مرتب کیا گیا۔ ان پرندوں میں خشکی اور آبی کے علاوہ نقل مکانی کے دوران راستوں سے بھٹک جانے والی اقسام شامل ہیں۔

تحقیقی نتائج بین الاقوامی ریویوڈ سائنسی جریدے ’چیک لسٹ‘ میں شائع کیے گئے ہیں، جو حیاتیاتی تنوع اور پرندوں کے سائنسی ریکارڈ کی اشاعت کے حوالے سے اہم عالمی جریدوں میں شمار ہوتا ہے۔
جن پرندوں کی موجودگی کو پہلی مرتبہ ریکارڈ کیا گیا ان میں ’صقرالوکری‘ لمبے کانوں والا الو، گلابی زرزور، زرد گلے والی چڑیا نما پرندہ، سیاہ سر والی درسہ، باریک چونچ والی نورس، یوریشین زقزاق، سپرونگڈ زقزاق  اور بڑا فلیمنگو شامل ہیں۔

رائل ریزرو کا رقبہ 28 ہزار مربع کلو میٹر سے زیادہ ہے، جہاں سرسبز وادیاں، آبی ذخائر اور ڈیموں کے پیچھے بننے والی مصنوعی جھیلیں جو نقل مکانی کرکے آنے والے پرندوں کے لیے اہم مسکن کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے جامعات اور تحقیقی اداروں کے اشتراک سے سائنسی مطالعات اور نگرانی کے پروگرام جاری رہیں گے تاکہ جنگلی حیات کی مختلف اقسام، ان کے ہجرتی راستوں اور جغرافیائی تقسیم کا مکمل ریکارڈ تیار کرکے سائنسی ڈیٹا کی بنیاد پر ماحولیاتی فیصلوں اور قدرتی وسائل کے پائیدار تحفظ کو فروغ دیا جاسکے۔

 

شیئر: