Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ ایران کشیدگی: بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 9 فیصد اضافہ

صدر ٹرمپ نے پیر کو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں قریباً 9 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی  اے ایف پی کے مطابق ’عالمی معیاری وقت (جی ایم ٹی) کے مطابق شام 6 بج کر 20 منٹ پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں 9.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 82.90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔‘
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بھی 9.1 فیصد اضافے کے ساتھ 77.87 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
تیل کی قیمت میں یہ اضافہ ایسے وقت سامنے آیا جب ایران اور امریکہ کے درمیان دنیا کی ایک انتہائی اہم تیل بردار گزرگاہ ’آبنائے ہُرمز‘ پر کنٹرول اور وہاں بحری آمدورفت کے معاملے پر کشیدگی مزید بڑھ چکی ہے۔ 
واضح رہے کہ آبنائے ہُرمز کے ذریعے دنیا کی ضرورت کے قریباً 20 فیصد خام تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا اثر فوری طور پر بین الاقوامی منڈی میں توانائی کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا پیر کو کہنا تھا کہ ’امریکہ کو آبنائے ہُرمز میں بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے پر آنے والے تمام اخراجات کی رقم واپسی کی جائے گی، اور اس مقصد کے لیے اس راستے سے گزرنے والے تمام کارگو جہازوں سے 20 فیصد کی شرح سے فیس وصول کی جائے گی۔‘
اس سے قبل انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے جا رہا ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ کی حفاظت کے بدلے اب امریکہ معاوضہ وصول کرے گا۔‘

شیئر: