امریکہ کے ایران پر مسلسل تیسری رات حملے،’یہ کارروائیاں جاری رہیں گی‘
امریکہ کے ایران پر مسلسل تیسری رات حملے،’یہ کارروائیاں جاری رہیں گی‘
منگل 14 جولائی 2026 6:18
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران اور امریکہ دونوں آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کے لیے سرگرم ہیں (فائل فوٹو: گیٹی)
امریکہ نے منگل کی صبح ایران پر ایک بار پھر فضائی حملے کیے ہیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ کے مطابق یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد کی گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’واشنگٹن آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر رہا ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ ’امریکہ آبنائے سے گزرنے والے غیر ملکی جہازوں سے محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کے عوض فیس وصول کرے گا‘، جو سمندر میں آزاد نقل و حمل سے متعلق امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے۔
ایران نے جواب میں بحرین اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے متحدہ عرب امارات کے دو آئل ٹینکروں پر حملے کیے، جن میں عملے کا ایک شخص ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
متحدہ عرب امارات نے ایران کی کارروائی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران اور امریکہ دونوں آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کے لیے سرگرم ہیں، جہاں سے پر امن حالات میں قدرتی گیس اور دنیا بھر میں استعمال ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ان واقعات کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت میں 7.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور قیمت فی بیرل قیمت 81.92 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
’آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، مگر تحفظ کی قیمت ادا کرنا ہوگی‘
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق ’یہ حملے ایرانی فورسز پر بھاری ثابت ہوں گے اور آبنائے ہرمز میں بے گناہ شہریوں اور تجارتی جہازوں پر حملے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کریں گے۔‘
اس اعلان کے چند لمحوں بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’ایک اور بڑا حملہ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم ایران کو بہت سختی سے نشانہ بنا رہے ہیں، یہ کارروائیاں جاری رہیں گی، ہم ان کی تمام جارحانہ صلاحیت ختم کر رہے ہیں اور آبنائے پر ہمارا کنٹرول ہے۔ ہم ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر رہے ہیں۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ دنیا کے ایک انتہائی اہم اور امیر خطے کی حفاظت کر رہا ہے، اس لیے اب اس تحفظ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے جہازوں سے فیس وصول کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم اس خطے کے تحفظ پر اخراجات کر رہے ہیں، اس لیے ہمیں اس تحفظ کے بدلے معاوضہ دیا جائے گا۔‘
اس پیش رفت کو امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اب تک امریکہ آبنائے ہرمز کو تمام ممالک کے لیے بغیر کسی ٹول یا فیس کے کھلا رکھنے کی حمایت کرتا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ ’ہم ایران کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر رہے ہیں‘ (فوٹو: گیٹی)
ماہرین کے مطابق امریکہ یا ایران کی جانب سے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی کوشش عالمی سمندری قوانین اور آزاد جہاز رانی کے اصولوں کے خلاف سمجھی جا سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ایران کے حملے میں دو اماراتی آئل ٹینکر تباہ، بحرین بھی نشانے پر
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز میں موجود دو آئل ٹینکروں مومباسا اور البحیہ پر دو کروز میزائل داغے۔ حملوں کے نتیجے میں دونوں ٹینکروں میں آگ لگ گئی، تاہم بعد میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔‘
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان جہازوں نے ’بار بار وارننگ کے باوجود راستہ اختیار کیا تھا۔‘
پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ان جہازوں نے بارودی سرنگوں والے علاقے سے گزرنے کا انتخاب کیا، جس کے بعد انہیں نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا گیا۔‘
دوسری جانب بحرین پر بھی منگل کی صبح ایران نے میزائل حملے کیے ہیں۔ بحرینی حکام نے فوری طور پر میزائل الرٹ سائرن بجائے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی، تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
اماراتی وزارت دفاع کے مطابق حملوں میں ایک انڈین شہری ہلاک ہوا جبکہ چھ انڈین اور دو یوکرینی شہری زخمی ہوئے۔
وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ’متحدہ عرب امارات اس اشتعال انگیزی کا جواب دینے اور اپنی سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
واضح رہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی امارات نے اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کرنے کے بعد ایران پر حملے کیے تھے۔ منگل کی صبح دبئی کی فضاؤں میں جنگی طیاروں کی پروازیں بھی سنی گئ ہیں۔
حملوں میں ایک انڈین شہری ہلاک ہوا جبکہ چھ انڈین اور دو یوکرینی شہری زخمی ہوئے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’ایران معاہدے پر پورا نہیں اترا‘
صدر ٹرمپ نے پیر کو قدامت پسند ریڈیو میزبان ہیو ہیوٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ ہونے والا معاہدہ دراصل ایران کو آزمانے کے لیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’جب آپ ایسے لوگوں سے معاملہ کرتے ہیں تو معاہدوں کی زیادہ حیثیت نہیں رہتی۔ انہوں نے اس آزمائش کا احترام نہیں کیا۔‘
ایران کا مؤقف ہے کہ اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت کو منظم کرنے اور عبوری امن معاہدے کے تحت ممکنہ طور پر فیس وصول کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم امریکہ اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔
امریکی فوج اور اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب ایک متبادل بحری راستہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ جہاز ایرانی کنٹرول سے باہر رہ کر گزر سکیں، لیکن ایران کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عبوری امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے، اسی لیے اس نے اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔
حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے حملوں کے تبادلے نے اس عبوری امن معاہدے کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اسی معاہدے کے تحت امریکہ نے اپریل کے وسط میں ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کی تھی اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے پر اتفاق ہوا تھا۔
تاہم اب صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ ’ہم ایران کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر رہے ہیں۔ دیگر تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے استعمال کی منصفانہ اور آزادانہ اجازت ہوگی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ گزرنے والے تجارتی سامان کی مالیت کا 20 فیصد بطور معاوضہ وصول کرے گا تاکہ سمندری تحفظ کے تمام اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
امریکی فوج کے مطابق ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دبئی کے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی رات بارہ بجے سے دوبارہ نافذ کر دی جائے گی۔