Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بحری جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایران کو بہت شدت سے نشانہ بنایا ہے: صدر ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’آبنائے ہُرمز تجارتی بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے‘ (فائلل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’امریکہ نے آبنائے ہُرمز میں بحری جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے جواب میں ایران کو بہت شدت سے نشانہ بنایا ہے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ’اتوار کے روز سی این این کو ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے گذشتہ رات انہیں بہت سخت جواب دیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ‘امریکہ اور ایران سنیچر کو ایک معاہدے کے بہت قریب تھے اور وہ قریباً ہر چیز ماننے کے لیے بھی تیار تھے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ’پھر اچانک دو گھنٹے بعد ایرانیوں نے ایک ڈرون کے ذریعے ایک بحری جہاز پر حملہ کر دیا۔ ان لوگوں کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔‘
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’آبنائے ہُرمز تجارتی بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے یہ بات اتوار کو ’این بی سی نیوز‘ کے پروگرام ‘میٹ دی پریس‘ کو ایک دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
ایک امریکی عہدے دار نے اتوار کو بتایا کہ ’امریکہ نے اتوار کو ایران کے میزائل اور فضائی دفاعی نظاموں پر متعدد حملے کیے۔‘
ان کے مطابق ’امریکہ نے آبنائے ہرمز کے اطراف مختلف مقامات پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی چھوٹی تیز رفتار کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا۔‘

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کا ہدف فوجی تنصیبات تھیں، تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس صورتِ حال کے باعث دنیا کی ایک انتہائی اہم تیل بردار بحری گزرگاہ ’آبنائے ہُرمز‘ میں جہازوں کی حفاظت کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اتوار کو آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے جزیرے قشم پر 10 سے زائد میزائل یا دیگر پروجیکٹائل گرے، جس سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان دوبارہ کشیدگی اور جھڑپوں کا آغاز ہوا۔
قشم ٹاؤن شپ کے گورنر حسین امیر تیموری نے سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کو بتایا کہ ’اتوار کی دوپہر سے اب تک دشمن کے 10 سے 11 پروجیکٹائل جزیرہ قشم پر گرے ہیں۔‘
انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’تمام حملوں کا ہدف فوجی تنصیبات تھیں اور ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
 

شیئر: