’اقتدار میں لانے کا منصوبہ، موساد کے سابق سربراہ کی محمود احمدی نژاد سے ملاقات ہوئی‘
’اقتدار میں لانے کا منصوبہ، موساد کے سابق سربراہ کی محمود احمدی نژاد سے ملاقات ہوئی‘
منگل 14 جولائی 2026 10:54
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ احمدی نژاد نے 2024 اور 2025 میں موساد کے اہلکاروں سے متعدد ملاقاتیں کیں: فوٹو اے ایف پی
ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے مبینہ طور پر سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو ایران کی ممکنہ نئی قیادت کے لیے تیار کرنے کی کوشش کا ناکام منصوبہ بنایا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے 2024 اور 2025 میں ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سابق سربراہ ڈیوڈ برنیا سے ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں اسرائیل نے مبینہ طور پر تہران میں حکومت کی تبدیلی کی صورت میں انہیں ایران کی نئی قیادت کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا اور احمدی نژاد اب بھی ایران میں موجود ہیں۔
انہیں گزشتہ ہفتے سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں سکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں دیکھا گیا۔
محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے۔ وہ اسرائیل کے خلاف سخت بیانات اور اپنے دورِ حکومت میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام کی بحالی کے باعث عالمی توجہ کا مرکز رہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ احمدی نژاد نے 2024 اور 2025 میں موساد کے اہلکاروں سے متعدد ملاقاتیں کیں، جو فروری 2026 میں ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی فوجی کارروائی سے پہلے ہوئیں۔
بوڈاپیسٹ میں مبینہ ملاقاتیں
رپورٹ کے مطابق جون 2025 میں بوڈاپیسٹ میں ہونے والی ایک ملاقات کو ہنگری کی لودوویکا یونیورسٹی آف پبلک سروس میں خطاب کی دعوت کی آڑ میں رکھا گیا، جہاں احمدی نژاد کی مبینہ ملاقات اس وقت کے موساد سربراہ ڈیوڈ برنیا سے ہوئی اور وہ اسی سال اپریل میں بھی بوڈاپیسٹ گئے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے اس بات پر نظر رکھے ہوئے تھے کہ احمدی نژاد ایرانی قیادت سے بتدریج دور ہوتے جا رہے ہیں۔ انہیں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا گیا تھا اور وہ اس نظام سے مایوس ہوتے جا رہے تھے جس کا وہ کبھی حصہ رہے تھے۔
رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے احمدی نژاد کے رہائش اور سفری اخراجات کے لیے خفیہ مالی مدد فراہم کی جبکہ بیرونِ ملک ان سے کئی ملاقاتیں بھی کی گئیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو بھی اس منصوبے سے آگاہ رکھا گیا تھا۔
ایران کی جانب سے شکوک
محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے: فوٹو اے ایف پی
رپورٹ کے مطابق احمدی نژاد نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا تھا کہ اگر ایران میں حکومت تبدیل ہوتی ہے تو وہ خود کو ایک اصلاح پسند رہنما کے طور پر پیش کر سکتے ہیں، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ابراہم معاہدوں کے تحت اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے 2017 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو احمدی نژاد کے کھلے خط کے بعد ان پر شک کرنا شروع کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنا طرزِ لباس اور انداز بھی تبدیل کیا، انگریزی سیکھی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی گانوں کے حوالے بھی دینا شروع کیے۔
نظر بندی کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کو شبہ تھا کہ احمدی نژاد نے 2023 میں گوئٹے مالا میں ہونے والی ایک ماحولیاتی کانفرنس کے دوران موساد سے رابطہ کیا کیونکہ گوئٹے مالا کے اسرائیل سے قریبی تعلقات ہیں۔
مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ 28 فروری کو اسرائیلی حملے کے بعد موساد کے اہلکار انہیں ایک خفیہ محفوظ مقام پر لے گئے تاہم بعد میں وہ اس منصوبے سے بد دل ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ان کے اسرائیل سے مبینہ روابط کی تحقیقات شروع کر دیں اور اب وہ تہران میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ کی نگرانی میں مبینہ طور پر گھر میں نظر بند ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ تمام دعوے رپورٹ میں شائع کیے گئے ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی اور نہ ہی ایران، اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے کوئی معلومات سامنے آئی ہیں۔