روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرنے کی حد مقرر کرنا بھی فائدہ مند ہے (فائل فوٹو: پکسابے)
اگر آپ اپنی روزمرہ زندگی میں توازن قائم کرنا چاہتے ہیں تو ماہرین صحت کے مطابق ’آٹھ، آٹھ اور آٹھ کا اصول‘ ایک مؤثر رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔
اس اصول کے تحت 24 گھنٹوں کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پورے دن میں آٹھ گھنٹے نیند، آٹھ گھنٹے کام اور آٹھ گھنٹے ذاتی زندگی کے لیے مختص کیے جاتے ہیں، جس میں ورزش، متوازن غذا، آرام، خاندان کے ساتھ وقت گزارنا اور مشاغل شامل ہیں۔
انڈیا کے ’فورٹس میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ سے منسلک سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر امیتابھ پارتی کے مطابق ’یہ اصول صحت مند زندگی کے لیے ایک مفید رہنما ہے، تاہم اسے ہر فرد کو اپنی عمر، صحت، پیشے اور طرزِ زندگی کے مطابق اپنانا چاہیے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معمول کا سب سے اہم حصہ مناسب نیند ہے۔ آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند جسم کو خود کو بحال کرنے، مدافعتی نظام مضبوط بنانے، ہارمونز کو متوازن رکھنے اور دماغی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
ناکافی نیند موٹاپے، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں اور ڈپریشن کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر پارتی کے مطابق ’صرف آٹھ گھنٹے سونا کافی نہیں بلکہ صحیح وقت پر سونا اور جاگنا بھی ضروری ہے۔‘
ماہرین کے مطابق روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرنے کی حد مقرر کرنا بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ طویل اوقات تک مسلسل کام ذہنی دباؤ، ہائی بلڈ پریشر، بے چینی اور جسمانی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹرز، ایمرجنسی سروسز اور شفٹوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے مقررہ اوقات پر عمل کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے ان کے لیے مناسب آرام اور جسمانی بحالی زیادہ اہم ہے۔
دن کے آخری آٹھ گھنٹے جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے استعمال کیے جانے چاہییں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اس وقت میں ورزش، متوازن غذا، اہلِ خانہ کے ساتھ وقت، مطالعہ، مشاغل، مراقبہ، سماجی روابط اور کھلی فضا میں سرگرمیوں کو شامل کیا جائے۔
صرف آٹھ گھنٹے سونا کافی نہیں بلکہ صحیح وقت پر سونا اور جاگنا بھی ضروری ہے (فائل فوٹو: پکسابے)
ڈاکٹر پارتی کے مطابق ’ہر فرد کو اپنی صحت کے مطابق ان سرگرمیوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’آٹھ، آٹھ اور آٹھ‘ کا اصول کوئی سخت فارمولا یا جادوئی نسخہ نہیں بلکہ متوازن زندگی گزارنے کی یاد دہانی ہے۔ صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب وزن، ذہنی دباؤ پر قابو پانا اور طبی معائنہ بھی صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہیں۔
ان کے مطابق اصل کامیابی کسی اور کے معمول کی نقل کرنے میں نہیں بلکہ اپنی ضروریات کے مطابق ایسا متوازن معمول اپنانے میں ہے جس پر مستقل مزاجی سے عمل کیا جا سکے۔