’جوہری تجربات کی جاسوسی‘، امریکی سائنسدان چین میں دو برس سے قید
’جوہری تجربات کی جاسوسی‘، امریکی سائنسدان چین میں دو برس سے قید
منگل 14 جولائی 2026 7:55
یوفانگ رونگ اپنے شوہر کی امریکہ واپسی کے حوالے سے کوششیں کر رہی ہیں: فوٹو روئٹرز
شمالی کوریا کے جوہری تجربات پر نظر رکھنے والے چینی نژاد امریکی سائنسدان یولِن چن گذشتہ تقریباً دو برس سے چین میں جاسوسی کے الزامات میں زیر حراست ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس کیس کی تفصیلات پہلی بار سامنے آئی ہیں اور یہ ایک ایسے وقت میں منظرعام پر آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ برس کی تجارتی جنگ کے بعد چین کے ساتھ تعلقات کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
54 سالہ یولِن چن 2011 میں امریکی شہری بنے تھے اور امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن میں رہائش پذیر ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 19 مارچ کو چن کی رہائی کو امریکی حکومت کی ترجیح قرار دیا تھا۔
چنِ کی اہلیہ یوفانگ رونگ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی ان کے شوہر کی رہائی کے لیے جاری اعلیٰ سطح سفارتی کوششوں کے باعث اس کے بارے میں عوامی سطح پر بات نہیں کی تھی۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظار نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ امریکی انتظامیہ چن کی بلاجواز حراست کے خاتمے پر پوری توجہ دے رہی ہے۔
رونگ کے مطابق وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے انہیں بتایا کہ صدر ٹرمپ نے مئی میں بیجنگ کے سرکاری دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے ان کے شوہر کی حراست کا معاملہ اٹھایا تھا، جس پر چینی صدر نے اس پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی، تاہم اب تک اس سلسلے میں کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔
امریکی عہدیدار نے براہ راست اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ صدر ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب سے چن کا معاملہ اٹھایا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ذاتی تعلقات اچھے ہیں اور امریکہ چین تعلقات کو کسی ایک مسئلے کی بنیاد پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
یولِن چن کی اہلیہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب سے ان کے شوہر کے بارے میں بات کی تھی: فوٹو اے ایف پی
یوفانگ رونگ نے خدشہ ظاہر کیا کہ چینی حکام نے مقدمے کی سماعت سے پہلے ہی ان کے شوہر کو مجرم قرار دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میرا یقین ہے کہ وہ انہیں ہر صورت سزا دیں گے اور مقدمے کی سماعت بھی بند کمرے میں ہوگی۔‘
چین میں جاسوسی کا جرم انتہائی سنگین تصور کیا جاتا ہے، جس کی سزا عمر قید یا سنگین نوعیت کے مقدمات میں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔
روئٹرز کے مطابق یولِن چن کی شمالی کوریا کے جوہری تجربات سے پیدا ہونے والی سیسمک ویوز پر تحقیق کو امریکی محکمہ خارجہ اور امریکی فضائیہ کی ایئر فورس ریسرچ لیبارٹری کی مالی معاونت حاصل رہی ہے۔
دسمبر 2020 کی ایک تحقیقی رپورٹ میں یولِن چن نے شمالی کوریا کے چھ معلوم جوہری تجربات کی شدت کا جائزہ لیا اور یہ بتایا کہ ان تجربات سے پیدا ہونے والی لہروں کو قدرتی زلزلے سے کیسے الگ پہچانا جا سکتا ہے۔