11سالہ بچی سے زیادتی اور بوری بند لاش،’کئی دن گزرنے کے باوجود میں سنبھل نہیں سکا‘
11سالہ بچی سے زیادتی اور بوری بند لاش،’کئی دن گزرنے کے باوجود میں سنبھل نہیں سکا‘
بدھ 15 جولائی 2026 7:26
بچی کی تشدد زدہ لاش لاپتہ ہونے کے ایک دن بعد قریبی تالاب سے ملی: فوٹو روئٹرز
انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں 11 سالہ بچی کے اغوا، اجتماعی زیادتی اور قتل کے واقعے نے ملک میں خواتین اور بچوں کی سلامتی کے حوالے سے ایک بار پھر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 11 برس کی بچی سنیچر کی شام اپنی سہیلی کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لیے گھر سے نکلی تھی لیکن واپس نہیں آئی۔
پولیس کے مطابق اسے اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، پھر زندہ حالت میں بوری میں بند کر کے تالاب میں پھینک دیا گیا۔
بچی کی لاش اگلے روز ایک تالاب سے برآمد ہوئی، جس پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔ انڈین قانون کے تحت متاثرہ بچی اور اس کے اہل خانہ کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
بچی کے والد نے بتایا کہ ’میرا ذہن کام نہیں کر رہا، کئی دن گزرنے کے باوجود میں سنبھل نہیں سکا۔‘
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے چند ماہ قبل پہلی مرتبہ مغربی بنگال میں حکومت بنائی تھی اور خواتین کا تحفظ اس کے اہم انتخابی وعدوں میں شامل تھا۔
جنسی تشدد اب بھی بڑا مسئلہ
انڈیا کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق 2024 میں ملک بھر میں زیادتی کے 29 ہزار 536 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے قانون (POCSO) کے تحت 69 ہزار 191 مقدمات ریکارڈ ہوئے، جو اب تک کی بلند ترین تعداد ہے۔
ماہرین اور خواتین کے حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ سماجی دباؤ اور بدنامی کے خوف سے بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
’قانون سے زیادہ سوچ بدلنے کی ضرورت‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریپ کے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر پولیسنگ کی بھی ضرورت ہے: فوٹو روئٹرز
خواتین کے حقوق کی وکیل کرونا نندی کا کہنا ہے کہ صرف سخت قوانین کافی نہیں ہیں بلکہ خواتین کے خلاف تشدد کی بنیادی وجوہات، جیسے مردانہ بالادستی، صنفی تعصب اور معاشرتی رویے، ختم کرنے کے لیے طویل المدتی کوششوں کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق پولیس اور عدلیہ میں ایسے افراد کی تعیناتی ضروری ہے جو صنفی مساوات کے حوالے سے بہتر آگاہی رکھتے ہوں۔
فاسٹ ٹریک عدالتیں بھی ہدف سے بہت پیچھے
2012 میں دہلی میں طالبہ کے اجتماعی زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد انڈیا میں قوانین سخت کیے گئے اور خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 تک 2,600 خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، لیکن اب تک صرف 755 عدالتیں قائم ہو سکی ہیں، جن میں بچوں کے جنسی جرائم سے متعلق 410 خصوصی عدالتیں شامل ہیں۔
پولیس کارروائی اور انسانی حقوق کی بحث
ماہرین کہے بعد بڑی تعداد میں ریپ کے واقعات پولیس میں رپورٹ ہی نہیں ہوتے ہیں: فوٹو روئٹرز
پولیس کے مطابق مغربی بنگال کے اس مقدمے میں چار ملزمان گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک مشتبہ شخص اس وقت مارا گیا جب اس نے مبینہ طور پر پولیس اہلکار کا اسلحہ چھیننے کی کوشش کی۔
حکمران بی جے پی نے اسے سخت کارروائی قرار دیا تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ماورائے عدالت ہلاکتیں انصاف کے نظام کو کمزور کرتی ہیں اور ان سے جرائم کے مستقل حل کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی تبدیلی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ خواتین کے خلاف تشدد کی بنیادی سماجی وجوہات ختم کرنے، مؤثر پولیسنگ، فوری انصاف اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی کے بغیر ایسے واقعات کا سلسلہ رکنا مشکل ہے۔