امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ، صدر ٹرمپ کی ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی
امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ، صدر ٹرمپ کی ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی
بدھ 15 جولائی 2026 6:14
امریکی کارروائیوں اور ایرانی جوابی حملوں کے باعث خطے میں کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ ہونے کے بعد امریکہ نے ایران پر مسلسل چوتھی رات بھی فضائی حملے کیے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق امریکی کارروائیوں اور ایرانی جوابی حملوں کے باعث خطے میں کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور جون میں طے پانے والی عارضی جنگ بندی عملی طور پر غیر مؤثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہم آج رات بھی انہیں سخت نشانہ بنائیں گے، کل رات بھی سخت حملے کریں گے، اور پھر اگلے ہفتے ان کے لیے حالات بہت خراب ہو جائیں گے کیونکہ اگلے ہفتے بجلی گھر اور اس کے بعد پل ہمارے اہداف ہوں گے۔ ہم ان کے تمام بجلی گھر اور پل تباہ کر دیں گے، اگر وہ مذاکرات کی میز پر نہ آئے۔‘
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’امریکی مذاکرات کاروں نے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو پیغام دیا ہے کہ بہتر ہے کہ وہ معاہدہ کر لیں۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر مجوزہ 20 فیصد فیس کی جگہ خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جا سکتے ہیں۔‘
سات گھنٹے تک ایران پر حملے کیے جاتے رہے: امریکی فوج
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف تازہ فوجی کارروائی مکمل کر لی ہے، جو واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق منگل کی رات تقریباً دس بجے ختم ہوئیں۔
سینٹ کام کے مطابق ’امریکی لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز اور ایران کے ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی اہداف پر درست نشانے والے ہتھیاروں سے حملے کیے۔‘ تاہم بیان میں نشانہ بنائے گئے مقامات یا ہونے والے نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ’ان حملوں کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا تھا جن کے ذریعے وہ تجارتی بحری جہازوں اور ان کے عملے کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے۔‘
اُدھر امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے کہا ہے کہ ’گزشتہ سات روز کے دوران ایران نے جان بوجھ کر خطے میں شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
بیان کے مطابق ’ایران نے آبنائے ہرمز میں سات تجارتی جہازوں پر حملے کیے، جن کے نتیجے میں تقریباً ایک درجن عملہ ہلاک، لاپتا یا زخمی ہوا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ایرانی افواج نے پڑوسی خلیجی ممالک کی جانب درجنوں میزائل اور ڈرون بھی داغے، جبکہ امریکی افواج ایران کو اس بلاجواز جارحیت کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں، جو بے گناہ شہریوں کی جانوں کو مسلسل خطرے میں ڈال رہی ہے۔‘
آبنائے ہرمز ’امریکہ کی برائیوں کے خاتمے‘ تک بند رہے گی
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک ’امریکہ کی برائیاں ختم نہیں ہو جاتیں۔‘
اس سے قبل ایران نے سنیچر کو بھی اس اہم بحری گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا تھا۔
سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف تازہ فوجی کارروائی مکمل کر لی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
تہران کی جانب سے حال ہی میں قائم کیے گئے ’پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی‘ نے کہا ہے کہ خطے میں امریکی فوج کی ’غیر قانونی نقل و حرکت‘ کے باعث اس وقت آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت ممکن نہیں۔
اتھارٹی کے مطابق ’جیسے ہی خطے میں استحکام اور امن بحال ہوگا، جہازوں کی آمدورفت کے لیے دوبارہ اجازت نامے جاری کیے جائیں گے۔‘
اردن میں امریکی فضائی اڈے کو دوبارہ نشانہ بنایا: ایران کا دعوی
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن کے ’ازرق ایئر بیس‘ پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو دوسری مرتبہ ڈرون حملے میں نشانہ بنایا ہے۔
ازرق ایئر بیس پر امریکی فوجی اہلکار اور عسکری آپریشنز موجود ہیں۔
اس دعوے پر امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون)، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) یا اردن کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
بحرین اور کویت بھی ایرانی حملوں کی زد میں
بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق بدھ کی صبح ملک بھر میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد کویتی فوج نے اعلان کیا کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایرانی ’دشمن ڈرونز‘ کا مقابلہ کر رہا ہے۔
کویتی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ’ایرانی حملوں میں نشانہ بنائے گئے ایک مقام پر لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، جبکہ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔‘
امریکہ نے بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی
امریکی فوج کے مطابق منگل کو واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف جانے اور وہاں سے آنے والے بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز اور سینکڑوں فوجی طیارے تعینات ہیں اور امریکی افواج ہر قسم کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ’امریکہ کی برائیاں ختم ہونے تک‘ بند رہے گی (فائل فوٹو: روئٹرز)
امریکہ نے اپریل میں بھی ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کی تھی، تاہم جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے عبوری معاہدے کے بعد اسے ختم کر دیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے اس ناکہ بندی کو دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکہ کے نئے فضائی حملے
امریکی فوج نے کہا ہے کہ ’ایران پر تازہ حملوں کا مقصد ان ایرانی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جنہیں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
ادھر ایران نے ایک مرتبہ پھر اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ کشیدگی دوبارہ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے۔
ایران کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین اور کویت میں اسلحہ اور فوجی ذخیرہ گاہوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔