Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر سونم وانگچک 17 روز سے بھوک ہڑتال پر

59 سالہ سونم وانگچک نئی دہلی میں بھوک ہڑتال کر رکھی ہے (فوٹو: روئٹرز)
انڈیا میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال منگل کو 17ویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق سونم وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت کے باعث اپوزیشن رہنماؤں نے ان سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
59 سالہ سونم وانگچک نئی دہلی کے مرکزی علاقے میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت دیپکے سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔
ابھجیت دیپکے نے انڈیا میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بعد وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے لیے دھرنا دے رکھا ہے۔ مئی میں ہونے والے امتحانات کے لیک ہونے کے واقعے سے لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے تھے، جسے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف ایک غیر معمولی احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔
30 سالہ ابھجیت دیپکے کی قائم کردہ کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے۔ پارٹی کے مطابق مئی میں قیام کے چند ہی دنوں میں انسٹاگرام پر اس کے فالوورز کی تعداد دو کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق سونم وانگچک نئی دہلی کے جنتر منتر پر سفید گدے پر لیٹے ہوئے تھے اور انہوں نے اشارے سے بتایا کہ وہ بات کرنے کے لیے بھی بہت زیادہ کمزور ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل وہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ان کی موت نہ ہوئی تو ان کی بھوک ہڑتال چھ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک تصویر کے ساتھ بتایا کہ ’منگل تک سونم وانگچک کا وزن ساڑھے آٹھ کلوگرام کم ہو چکا ہے اور ان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔‘
ابھجیت دیپکے نے کہا ہے کہ وہ بارہا سونم وانگچک کو بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر چکے ہیں، لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ ان کے مطابق ’سونم وانگچک نے کارکنوں کو 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی تیاری جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔‘ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت چاہتی ہے کہ سونم وانگچک اور دیگر بھوک ہڑتالی مظاہرین ہلاک ہو جائیں۔‘
دھرنے میں شریک ایک اور نوجوان بھوک ہڑتال کی وجہ سے بے حوش ہو گیا تھا جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

ہڑتال میں شریک ایک نوجوان بھوک کی وجہ سے بے حوش ہو گیا (فوٹو: روئٹرز)

انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان، وزارتِ تعلیم اور حکومت کے مرکزی ترجمان کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب کئی سینئر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی سونم وانگچک سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں۔ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ایکس پر لکھا کہ ’سونم وانگچک کی زندگی پوری دنیا کے لیے قیمتی ہے کیونکہ وہ انسانیت، ماحولیات اور جمہوریت سے گہری وابستگی کی علامت ہیں۔‘
کاکروچ جنتا پارٹی خود کو ’سست، بے روزگار اور ہمیشہ درست ثابت ہونے والے افراد‘ کی نمائندہ جماعت قرار دیتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق سوشل میڈیا پر اس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت انڈیا کے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک اندازے کے مطابق 1.42 ارب آبادی میں نصف سے زائد نوجوان ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2025 میں 15 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 3.1 فیصد رہی، تاہم 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں یہ شرح تقریباً 10 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 13.6 فیصد تک پہنچ گئی۔
نوجوانوں میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر بھی شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اسی سکینڈل کے باعث 23 لاکھ امیدواروں کا میڈیکل کالج انٹری ٹیسٹ منسوخ کرنا پڑا تھا، جسے بعد ازاں گزشتہ ماہ دوبارہ منعقد کیا گیا۔

شیئر: