Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہینڈ آف گاڈ‘ سے میسی تک: ارجنٹینا اور انگلینڈ کی تاریخی ورلڈ کپ رقابت کا نیا باب

دونوں ٹیمیں پہلی بار 1962 کے ورلڈ کپ میں مدمقابل آئیں، تاہم ان کی رقابت کا آغاز 1966 کے کوارٹر فائنل سے مانا جاتا ہے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں جب انگلینڈ اور ارجنٹینا آمنے سامنے آئیں گے تو یہ صرف فٹ بال کا ایک بڑا مقابلہ نہیں ہوگا بلکہ ورلڈ کپ کی تاریخ کی سب سے مشہور اور متنازع حریفیوں میں سے ایک کا نیا باب بھی ہوگا۔
دونوں ٹیموں کے درمیان ورلڈ کپ مقابلوں کی تاریخ چھ دہائیوں پر محیط ہے، جس میں متنازع ریفری فیصلے، میراڈونا کا ’ہینڈ آف گاڈ‘ اور ’صدی کا بہترین گول‘، جبکہ ڈیوڈ بیکہم کا ریڈ کارڈ آج بھی شائقین کو یاد ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ارجنٹینا اور انگلینڈ کا ہر ورلڈ کپ مقابلہ دنیا بھر میں غیرمعمولی توجہ حاصل کرتا ہے۔
دونوں ٹیمیں پہلی بار 1962 کے ورلڈ کپ میں مدمقابل آئیں، تاہم ان کی رقابت کا آغاز 1966 کے کوارٹر فائنل سے مانا جاتا ہے۔
اس میچ میں ارجنٹینا کے کپتان انٹونیو ریٹین کو متنازع انداز میں میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔ اس وقت ریڈ اور یلو کارڈ کا نظام موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے ریٹین نے میدان چھوڑنے میں ہچکچاہٹ دکھائی۔
 انگلینڈ نے یہ میچ ایک، صفر سے جیت لیا، لیکن مقابلے کے بعد انگلینڈ کے کوچ الف رمزی نے ارجنٹینی کھلاڑیوں کو ’جانور‘ قرار دیا، جس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان تلخی مزید بڑھ گئی۔
اس تاریخی مقابلے کا سب سے مشہور باب 1986 کے فیفا ورلڈ کپ میں سامنے آیا، جب میکسیکو میں کھیلے گئے کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا کا مقابلہ انگلینڈ سے تھا۔
اس میچ میں ڈیاگو میراڈونا نے پہلے ہاتھ سے گول کیا، جسے ریفری نے درست قرار دیا۔ بعد میں میراڈونا نے خود اسے ’ہینڈ آف گاڈ‘ کا نام دیا، جو فٹبال کی تاریخ کے سب سے متنازع لمحات میں شمار ہوتا ہے۔

ارجنٹینا نے یہ میچ 2-1 سے جیتا اور بعد میں فائنل میں مغربی جرمنی کو شکست دے کر ورلڈ کپ کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔(فوٹو:گیٹی امیجز)

صرف چند منٹ بعد انہوں نے اپنی ہی نصف پچ سے گیند لے کر پانچ انگلش کھلاڑیوں اور گول کیپر کو چکمہ دیتے ہوئے ایک شاندار انفرادی گول اسکور کیا، جسے فیفا نے بعد میں ’گول آف دی سنچری‘ قرار دیا۔ 
ارجنٹینا نے یہ میچ دو، ایک سے جیتا اور بعد میں فائنل میں مغربی جرمنی کو شکست دے کر ورلڈ کپ کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔
اس مقابلے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کیونکہ اس سے چار سال پہلے برطانیہ اور ارجنٹینا کے درمیان فاک لینڈز جنگ ہو چکی تھی، جس نے اس میچ کو مزید جذباتی بنا دیا۔
1998 کے ورلڈ کپ میں دونوں ٹیمیں دوبارہ ٹکرائیں۔ اس بار انگلینڈ کے ڈیوڈ بیکہم کو ارجنٹینا کے ڈیگو سیمیونے کو ٹانگ مارنے پر ریڈ کارڈ ملا۔ 
انگلینڈ نے دس کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ برابر رکھا، لیکن پنالٹی شوٹ آؤٹ میں ارجنٹینا کامیاب رہا۔ اس شکست کے بعد بیکہم کو اپنے ملک میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

 بیکہم نے پنالٹی پر واحد گول کر کے انگلینڈ کو ایک، صفر سے فتح دلائی اور 1998 کی تلخ یادوں کا کسی حد تک ازالہ کیا۔(فوٹو:گیٹی امیجز)

چار سال بعد 2002 کے ورلڈ کپ میں بیکہم نے پنالٹی پر واحد گول کر کے انگلینڈ کو ایک، صفر سے فتح دلائی اور 1998 کی تلخ یادوں کا کسی حد تک ازالہ کیا۔
اس کے بعد دونوں ٹیمیں صرف دوستانہ مقابلوں میں ملیں، مگر اب 24 برس بعد ورلڈ کپ کے سیمی فائنل مرحلے میں دوبارہ آمنے سامنے ہیں۔
2026 کا سیمی فائنل کئی حوالوں سے منفرد ہے۔ ارجنٹینا دفاعی عالمی چیمپیئن کی حیثیت سے میدان میں اترے گا، جبکہ انگلینڈ 1966 کے بعد اپنا دوسرا عالمی ٹائٹل جیتنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ مقابلہ لیونل میسی کے لیے بھی خاص ہوگا، کیونکہ وہ اپنے طویل کیریئر میں پہلی بار ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف کھیلیں گے۔

اب دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا ارجنٹینا اپنی برتری برقرار رکھے گا یا انگلینڈ تقریباً 60 برس بعد ایک اور عالمی اعزاز کی جانب بڑا قدم بڑھائے گا۔(فوٹو:گیٹی امیجز)

ورلڈ کپ کی تاریخ میں دونوں ٹیمیں اب تک پانچ بار آمنے سامنے آ چکی ہیں۔ ان میں ارجنٹینا نے دو، انگلینڈ نے ایک میچ جیتا جبکہ دو مقابلے برابر رہے۔
بی بی سی اسپورٹ کے مطابق 1966 سے شروع ہونے والی یہ تاریخی رقابت ہر نئی نسل کے ساتھ مزید دلچسپ ہوتی گئی ہے، جبکہ رائٹرز کے مطابق 2026 کا سیمی فائنل اس طویل داستان کا تازہ ترین باب ہوگا۔
اب دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا ارجنٹینا اپنی برتری برقرار رکھے گا یا انگلینڈ تقریباً 60 برس بعد ایک اور عالمی اعزاز کی جانب بڑا قدم بڑھائے گا۔
 تاہم ایک بات یقینی ہے کہ جب بھی ارجنٹینا اور انگلینڈ ورلڈ کپ میں آمنے سامنے آتے ہیں تو یہ صرف ایک میچ نہیں بلکہ فٹبال کی تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔

شیئر: