اضافی وقت اور پنالٹی شوٹ آؤٹ کا متبادل؟ آسٹریلوی شخص کی 20 سالہ مہم
اضافی وقت اور پنالٹی شوٹ آؤٹ کا متبادل؟ آسٹریلوی شخص کی 20 سالہ مہم
بدھ 15 جولائی 2026 6:02
56 سالہ ٹِم فیرل کا خیال ہے کہ موجودہ ٹائی بریک نظام فٹبال کی اصل روح کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
فٹبال میں ناک آؤٹ مرحلے کے کسی بھی مقابلے کا فیصلہ اگر مقررہ 90 منٹ میں نہ ہو سکے تو میچ پہلے اضافی وقت (ایکسٹرا ٹائم) میں جاتا ہے، اور وہاں بھی برابری برقرار رہے تو فاتح کا فیصلہ پنالٹی شوٹ آؤٹ سے کیا جاتا ہے۔
کئی دہائیوں سے ورلڈ کپ، چیمپیئنز لیگ اور دیگر بڑے ٹورنامنٹس میں یہی طریقہ رائج ہے۔
تاہم آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے 56 سالہ ٹِم فیرل کا خیال ہے کہ موجودہ ٹائی بریک نظام فٹبال کی اصل روح کی مکمل عکاسی نہیں کرتا، اسی لیے اب اس پر ازسرِنو غور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
وہ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے فیفا اور انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (آئی ایف اے بی) کو ایک ایسے متبادل طریقۂ کار پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں نہ اضافی وقت ہو اور نہ ہی پنالٹی شوٹ آؤٹ۔
ای ایس پی این کے مطابق ٹِم فیرل نہ سابق پیشہ ور فٹبالر ہیں اور نہ ہی کسی فٹبال ادارے سے وابستہ رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں ویڈیو اور ملٹی میڈیا پروڈکشن کے شعبے سے وابستہ فیرل، اے لیگ کلب نیوکاسل جیٹس کے مداح ہیں، تاہم ان کا ماننا ہے کہ موجودہ ٹائی بریک نظام کھیل کی فطری نوعیت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔
فیرل گزشتہ دو دہائیوں سے اپنی تجویز کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ وہ 2010 میں اپنے خرچ پر زیورخ جا کر فیفا کے ہیڈکوارٹر میں یہ تصور پیش کر چکے ہیں، جبکہ 2022 کے ورلڈ کپ سے قبل مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے اس کے مختلف فرضی تجربات بھی کیے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ نظام عملی طور پر کس حد تک مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
پنالٹی شوٹ آؤٹ پر اعتراض کیوں؟
ٹِم فیرل کے مطابق موجودہ نظام میں تین بنیادی خامیاں ہیں۔
ان کے خیال میں اضافی وقت اکثر محتاط اور غیر دلچسپ فٹبال میں بدل جاتا ہے، جس سے کھلاڑیوں پر غیر ضروری جسمانی دباؤ بڑھتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ پنالٹی شوٹ آؤٹ فٹبال کے اصل کھیل سے مختلف ہے کیونکہ اس میں ٹیم ورک، حکمت عملی اور کھلے کھیل کی بجائے صرف ایک کھلاڑی اور گول کیپر آمنے سامنے ہوتے ہیں۔
تیسری اور سب سے اہم خامی یہ ہے کہ پوری ٹیم کی محنت کے باوجود ناکامی کا تمام بوجھ ایک کھلاڑی کے کندھوں پر آ جاتا ہے۔ فیرل کے مطابق ورلڈ کپ جیسے بڑے مقابلوں میں پنالٹی ضائع کرنے والے کئی کھلاڑی برسوں تک اس ذہنی دباؤ سے باہر نہیں نکل پاتے۔
فیرل کی دلیل ہے کہ اگر آج پنالٹی شوٹ آؤٹ کو تبدیل کرنے کی بات عجیب محسوس ہوتی ہے تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خود پنالٹی شوٹ آؤٹ بھی ایک وقت میں ایک نیا خیال تھا۔
1970 سے پہلے ناک آؤٹ مقابلوں میں برابری کی صورت میں دوبارہ میچ کھیلا جاتا، قرعہ اندازی ہوتی یا سکے کے ٹاس سے فاتح کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔
باضابطہ پنالٹی شوٹ آؤٹ میں پنالٹی ضائع کرنے والے تاریخ کے پہلے کھلاڑی مانچسٹر یونائیٹڈ کے لیجنڈ جارج بیسٹ تھے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
1968 کے میکسیکو اولمپکس کے کوارٹر فائنل میں اسرائیل اور بلغاریہ کا میچ برابر رہا۔ اضافی وقت کے بعد بھی فیصلہ نہ ہو سکا تو میدان میں ایک بڑی ٹوپی لائی گئی، جس میں دو پرچیاں رکھی گئی تھیں۔ اسرائیل کے کپتان مورڈخائی سپیگلر نے جو پرچی نکالی، اس پر ’آؤٹ‘ لکھا تھا، یوں اسرائیل کا سفر ختم ہو گیا جبکہ بلغاریہ سیمی فائنل میں پہنچ کر بعد میں چاندی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب رہا۔
اس واقعے نے اسرائیلی صحافی جوزف ڈاگن کو سخت مایوس کیا۔ انہوں نے اسرائیلی فٹبال فیڈریشن کے عہدیدار مائیکل الموگ کے ساتھ مل کر فیفا کو تجویز دی کہ ناک آؤٹ مقابلوں کا فیصلہ پنالٹی شوٹ آؤٹ سے کیا جائے۔
یہ تجویز 1970 میں آئی ایف اے بی نے منظور کر لی اور اسی سال مانچسٹر یونائیٹڈ اور ہل سٹی کے درمیان دنیا کا پہلا باضابطہ پنالٹی شوٹ آؤٹ کھیلا گیا، جس میں مانچسٹر یونائیٹڈ کامیاب رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ باضابطہ پنالٹی شوٹ آؤٹ میں پنالٹی ضائع کرنے والے تاریخ کے پہلے کھلاڑی مانچسٹر یونائیٹڈ کے لیجنڈ جارج بیسٹ تھے۔
جان ٹیری کی ایک تصویر نے سب کچھ بدل دیا
ٹِم فیرل بتاتے ہیں کہ اگرچہ وہ برسوں سے پنالٹی شوٹ آؤٹ کو پسند نہیں کرتے تھے، لیکن 2008 کی چیمپیئنز لیگ فائنل نے انہیں عملی طور پر کچھ کرنے پر مجبور کیا۔
مانچسٹر یونائیٹڈ اور چیلسی کے درمیان ماسکو میں کھیلا گیا فائنل پنالٹی شوٹ آؤٹ تک پہنچا۔ کرسٹیانو رونالڈو اپنی پنالٹی ضائع کر چکے تھے اور چیلسی کے کپتان جان ٹیری کے پاس اپنی ٹیم کو پہلی مرتبہ یورپی چیمپیئن بنانے کا موقع تھا، مگر بارش کے باعث وہ شاٹ لیتے ہوئے پھسل گئے اور گیند گول سے باہر چلی گئی۔ بعد میں نکولس انیلکا بھی پنالٹی نہ کر سکے اور مانچسٹر یونائیٹڈ نے ٹائٹل جیت لیا۔
فیرل کے بقول، ’میں نہ چیلسی کا مداح تھا اور نہ جان ٹیری کا، لیکن مجھے لگا کہ اتنے بڑے مقابلے کا فیصلہ ایک ایسے لمحے پر نہیں ہونا چاہیے جہاں پوری کہانی ایک کھلاڑی کی ناکامی بن جائے۔‘
فیرل کے مطابق ان کے مجوزہ نظام کی ابتدائی سوچ امریکی میجر لیگ سوکر (ایم ایل ایس) کے اس پرانے شوٹ آؤٹ فارمیٹ سے آئی، جس میں حملہ آور آدھے میدان سے گیند لے کر گول کیپر کی طرف بڑھتا تھا۔ بعد میں انہوں نے اس تصور میں ایک محافظ بھی شامل کر دیا، جس سے موجودہ اٹیکر، ڈیفنڈر، گول کیپر (اے ڈی جی) نظام وجود میں آیا۔
فیرل نے اپنے مجوزہ نظام کو اٹیکر، ڈیفنڈر، گول کیپر (اے ڈی جی) کا نام دیا ہے۔
اس میں ایک حملہ آور تقریباً 32 گز کے فاصلے سے گیند کے ساتھ حملہ شروع کرے گا۔ اس کے سامنے ایک محافظ اور ایک گول کیپر ہوگا اور گول کرنے کے لیے صرف 15 سیکنڈ کا وقت ملے گا۔
اگر محافظ فاؤل کرے تو پنالٹی دی جائے گی، بصورت دیگر حملہ آور کو کھیل کے دوران ہی گول کرنا ہوگا۔
دونوں ٹیمیں باری باری پانچ، پانچ مواقع حاصل کریں گی اور اگر مقابلہ برابر رہا تو فیصلہ سڈن ڈیتھ میں ہوگا۔
فیرل کے مطابق اس نظام کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس میں کوچز کو حکمت عملی بنانے کا موقع ملے گا۔ مثال کے طور پر وہ حریف کے بہترین حملہ آور کے مقابلے میں اپنا مضبوط ترین محافظ اتار سکتے ہیں، جس سے ٹائی بریک صرف انفرادی مہارت نہیں بلکہ ٹیمی حکمت عملی کا بھی امتحان بن جائے گا۔
ٹِم فیرل کے بقول، ’ہم ناکامی نہیں بلکہ کامیابی کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔‘ (فوٹو: ٹِم فیرل)
فیرل اب صرف پنالٹی شوٹ آؤٹ ہی نہیں بلکہ اضافی وقت ختم کرنے کے بھی حامی ہیں۔
ان کے مطابق 90 منٹ کے بعد براہِ راست اے ڈی جی مقابلہ کرایا جا سکتا ہے، جس سے کھلاڑیوں کی تھکن کم ہوگی، میچ زیادہ دلچسپ رہے گا اور نشریاتی اداروں کو بھی معلوم ہوگا کہ مقابلہ تقریباً کس وقت ختم ہوگا۔
ان کے مطابق موجودہ پنالٹی شوٹ آؤٹ میں تقریباً 70 فیصد پنالٹیاں گول میں تبدیل ہو جاتی ہیں، اسی لیے اگر کوئی کھلاڑی پنالٹی ضائع کرے تو پوری توجہ اس کی ناکامی پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
ان کے مجوزہ نظام میں کامیابی کا تناسب تقریباً 30 فیصد ہوگا، یعنی گول کرنا غیر معمولی کامیابی تصور ہوگا جبکہ گول نہ ہونا کھیل کا معمول سمجھا جائے گا۔ ان کے بقول، ’ہم ناکامی نہیں بلکہ کامیابی کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔‘
وہ 1994 کے ورلڈ کپ فائنل کا حوالہ دیتے ہیں، جب اٹلی کے روبرٹو باجو نے فیصلہ کن پنالٹی ضائع کی تھی اور بعد میں اعتراف کیا تھا کہ اس لمحے کا اثر برسوں تک ان کی زندگی پر رہا۔
اسی طرح 2020 کی یورپی چیمپیئن شپ کے فائنل میں انگلینڈ کے مارکس راشفورڈ، بوکایو ساکا اور جیڈن سانچو کو پنالٹیاں ضائع کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر نسلی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جسے بھی فیرل اپنے مؤقف کی ایک مثال قرار دیتے ہیں۔
فیفا تک پہنچنے والی تجویز
2010 میں ٹِم فیرل اپنے خرچ پر زیورخ گئے اور فیفا کے ہیڈکوارٹر میں اپنی تجویز پیش کی۔
فیرل کے مطابق فیفا حکام نے ان کی تجویز سنی، تاہم اسے مزید آگے نہیں بڑھایا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے منصوبے کو مزید بہتر بنایا اور مختلف اے لیگ کلبوں سے اس کا عملی تجربہ کرنے کی درخواست بھی کی، تاہم ابھی تک کسی پیشہ ور مقابلے میں اسے آزمایا نہیں گیا۔ ان کے مطابق آئی ایف اے بی کے بعض حکام نے اس خیال میں دلچسپی ضرور دکھائی، لیکن اب تک اس پر باضابطہ بحث نہیں ہوئی۔
اگرچہ فیفا نے ابھی تک اس نظام کو آزمانے کا کوئی اعلان نہیں کیا، تاہم فیرل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مہم جاری رکھیں گے۔(فوٹو: ٹِم فیرل)
اگرچہ فیفا یا انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (آئی ایف اے بی) نے ابھی تک اس نظام کو آزمانے کا کوئی اعلان نہیں کیا، تاہم فیرل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مہم جاری رکھیں گے۔
ان کے بقول، ’میں فیفا اور آئی ایف اے بی کا دروازہ کھٹکھٹاتا رہوں گا، یہاں تک کہ ایک دن وہ اس پر بات کریں اور امید ہے کہ کم از کم اس نظام کو آزما کر دیکھیں۔ میں ہار نہیں مانتا، میں کافی ثابت قدم ہوں۔‘
فیرل کے مطابق فٹبال میں ٹائی کا فیصلہ کرنے کے تین بڑے طریقے تھے؛ اوے گول، اضافی وقت اور پنالٹی شوٹ آؤٹ۔ اوے گول کا قانون پہلے ہی ختم ہو چکا ہے، اضافی وقت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ پنالٹی شوٹ آؤٹ کے مستقبل پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے۔