Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’میراڈونا جیسا کوئی نہیں، شاید صرف میسی‘، ارجنٹائن انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل سے پہلے پُرامید

40 برس بعد ارجنٹینا ایک بار پھر ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے مدمقابل ہے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
فٹ بال ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف ڈیگو میراڈونا کی تاریخی کارکردگی آج بھی فٹ بال کی دنیا میں یاد کی جاتی ہے، اور اب 40 برس بعد ارجنٹینا ایک بار پھر ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے مدمقابل ہے۔
کھیلوں کے امریکی نشریاتی ادارے ای ایس پی این کے مطابق اٹلانٹا میں بدھ کو ہونے والے سیمی فائنل سے قبل ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ  میراڈونا کی وراثت اور جذبے سے حوصلہ حاصل کر رہے ہیں، تاہم ان کے نزدیک  میراڈونا جیسا کھیل پیش کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
خیال رہے کہ 1986 کے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں  میراڈونا نے انگلینڈ کے خلاف ارجنٹینا کی 2-1 سے فتح میں دونوں گول کیے تھے۔ ان کا ایک گول، جسے بعد میں فیفا نے ’گول آف دی سنچری‘ قرار دیا، اپنی نصف لائن سے شاندار انفرادی دوڑ کے بعد کیا گیا تھا، جبکہ دوسرا گول ’ہینڈ آف گاڈ‘ کے نام سے فٹبال کی تاریخ کا حصہ بن گیا۔
اٹلانٹا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیورپول کے مڈفیلڈر الیکسس میک ایلسٹر نے کہا، ’ڈیگو نے جو کچھ کیا، اسے دہرانا ناممکن ہے۔ شاید صرف لیو میسی ہی ایسا کر سکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں میراڈونا کی ویڈیوز اور پرانی جھلکیاں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جو کھلاڑیوں کو یہ یاد دلاتی ہیں کہ  میراڈونا ارجنٹینا کے لیے کیا حیثیت رکھتے تھے۔
ان کے بقول، ’ڈیگو ہمارے ملک کی علامت ہیں، اور ہمیں امید ہے کہ ہم بھی 1986 کی اس ٹیم جیسی کامیابی حاصل کر سکیں گے۔‘
ارجنٹینا 1978 اور 1986 میں عالمی چیمپیئن بن چکا ہے، جبکہ 2022 میں تیسری بار ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اب وہ مسلسل دوسری اور مجموعی طور پر چوتھی عالمی ٹرافی جیتنے کی کوشش کر رہا ہے۔

میک ایلسٹر نے کہا کہ چار سال قبل ورلڈ کپ سیمی فائنل کھیلنے کا تجربہ فائدہ مند ہے، لیکن صرف تجربہ کامیابی کی ضمانت نہیں۔(فوٹو:گیٹی امیجز)

میک ایلسٹر نے کہا کہ اگرچہ چار سال قبل ورلڈ کپ سیمی فائنل کھیلنے کا تجربہ ٹیم کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن صرف تجربہ کامیابی کی ضمانت نہیں۔
انہوں نے انگلینڈ کے بارے میں کہا، ’ان کے پاس اعلیٰ معیار کے کھلاڑی ہیں جو بڑے کلبوں اور بڑے مقابلوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ سیمی فائنل کھیلنے کا تجربہ فائدہ ضرور دیتا ہے، لیکن اس سے کامیابی یقینی نہیں ہو جاتی۔‘
2022 کے ورلڈ کپ فائنل میں فرانس کے خلاف کامیابی کا حصہ رہنے والے دفاعی کھلاڑی گونزالو مونٹئیل نے بھی انگلینڈ کی مضبوطی کا اعتراف کیا۔
انہوں نے کہا، ’ان کے پاس بہترین کھلاڑی ہیں، لیکن ہم انفرادی ناموں سے زیادہ اپنی ٹیم اور اپنے کھیل پر توجہ دے رہے ہیں۔ ہم ورلڈ کپ سیمی فائنل کے لیے تیار ہیں۔‘
 مونٹئیل نے مزید کہا، ’خواب ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ہر ارجنٹائنی کی طرح ہمیں بھی یقین ہے کہ ہم ایک اور ورلڈ کپ فائنل سے صرف ایک قدم دور ہیں۔‘
دوسری جانب مڈفیلڈر روڈریگو ڈی پاؤل کا کہنا تھا کہ ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران ہونے والی تنقید کو نظر انداز کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’میں دوسروں کی رائے پر توجہ نہیں دیتا۔ فٹبال ایسا کھیل ہے جس میں ہمیشہ بحث ہوتی رہتی ہے، لیکن ہم اپنے ورلڈ کپ اور اب تک کے سفر سے مطمئن اور پُرسکون ہیں۔‘
 

شیئر: