بنگلہ دیش: حسینہ واجد سے منسلک 6 ارب 20 کتروڑ ڈالر کے اثاثے ضبط
حکام نے کہا ہے کہ شیخ حسینہ اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف اب تک 98 مقدمات درج ہوچکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیشی حکام نے بدھ کے روز کہا ہے کہ معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ، ان کے خاندان اور 10 کاروباری گروپس سے منسلک تقریباً 760 ارب ٹکا (تقریباً 6.2 ارب ڈالر) مالیت کے اثاثے ضبط کر لیے گئے ہیں۔
سال2024 میں طلبہ کی قیادت میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی اقتدار سے معزولی اور ان کے انڈیا فرار ہونے کے بعد سے حکام ان کے اثاثوں کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں، جبکہ ان کے رشتہ داروں اور بڑے کاروباری گروپس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ان کے 15 برس پر محیط سخت گیر دورِ حکومت میں فائدہ اٹھایا۔
بنگلہ دیش فنانشل انٹیلی جنس یونٹ نے کہا کہ اُس نے ملک کے اندر 570 ارب ٹکا جبکہ بیرونِ ملک مزید 190 ارب ٹکا مالیت کے اثاثے ضبط کیے ہیں۔
ادارے کے سربراہ اختیار محمد مامون نے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ حکام شیخ حسینہ اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف تحقیقات کے دوران اب تک 98 مقدمات درج کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم اب بھی بیرونِ ملک منتقل کیے گئے غیر قانونی سرمائے کی واپسی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس سال کے اختتام تک مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔‘
شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد اُن کو کئی مقدمات میں اُن کی عدم موجودگی میں سزا سنائی جا چکی ہے، جن میں دارالحکومت ڈھاکہ کے مہنگے علاقے میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے متعلق کرپشن کے مقدمات بھی شامل ہیں۔
ایک عدالت نے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت بھی سنائی ہے۔
اگست 2024 میں بنگلہ دیش سے فرار ہونے کے بعد سے شیخ حسینہ انڈیا میں مقیم ہیں، اور انہوں نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ سال کے اختتام تک وطن واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
وزیرِ داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا کہ حکومت، جس نے ان کی حوالگی کی درخواست دے رکھی ہے، چاہتی ہے کہ شیخ حسینہ واپس آ کر انصاف کا سامنا کریں۔
انہوں نے کہا کہ ’فیصلے پر عملدرآمد ہوگا۔ عدالت ہی یہ طے کرے گی کہ اپیل کی کوئی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔‘
