مکہ: اللیث کے چار جزائر، سمندری حیات کا من پسند دیس
جمعرات 16 جولائی 2026 13:32
مکہ ریجن کے جنوب میں ساحلی پٹی پر پھیلے ہوئے جزائر، ’فور سسٹرز‘ کے نام سے اللیث کے چار مشہور جزیروں کے ساتھ مل کر سمندر میں ایک ایسے ماحولیاتی نظام کو تشکیل دیتے ہیں جس کے اجزا بقا کے لیے ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ چار اہم جزیرے مرمر، دوھرب، مالاتو اور جدیر ہیں اور بحیرۂ احمر کے گراں قدر حیاتیاتی تنوع کو نہ صرف ہمارے سامنے لاتے ہیں بلکہ اُس علاقے کی پوزیشن کو مملکت کے ایک بڑے اثاثے کے طور پر مضبوط کرتے ہیں جس میں ماحول دوست سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔
اِن جزیروں کی خاص بات یہاں کا شفاف پانی، نکھرے ہوئے ریتیلے ساحل اور مونگے کی چٹانیں ہیں جو سمندری ایکو سسٹم کے لیے اہم قدرتی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ یہ چٹانیں پانی میں ماحولیاتی توازن کے قیام میں مددگار ثابت ہوتی ہیں اور آبی جانوروں کی مختلف انواع کی بڑی اقسام کی تولید کے لیے مثالی ماحول مہیا کرتی ہیں۔
فور سسٹرز کے جزائر سمندری، خصوصاً سبز رنگت والے کچھوؤں کا ایک اہم مسکن ہیں۔ سبز کچھوے اپنی نسل کو آگے بڑھانے کے لیے اِس جزیرے کے محفوظ ماحول پر بہت انحصار کرتے ہیں جو یہاں پائے جانے والے صحت مند اور جاندار ماحول کا ثبوت ہے۔
اِن جزیروں کے آس پاس کے پانیوں میں طرح طرح کی اُستوائی مچھلیاں اور بحیرۂ احمر کی سب سے زیادہ بارآور مونگے کی چٹانیں بھی ہیں۔
یہ جزائر، موسموں میں تبدیلی کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی عارضی قیام گاہ کا کام بھی کرتے ہیں۔ اِس سے ریجن کے مجموعی حیاتیاتی تنوع کے نیٹ ورک میں، اِن جزیروں کی ماحول دوست اہمیت بڑھ جاتی ہے جو جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مملکت کی جانب سے کیے گئے اقدامات میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

سیاحت کے نقطۂ نگاہ سے، اللیث کے جزائر جن میں فور سسٹرز کے جزیرے بھی شامل ہیں، غوطہ خوری اور فطرت کی کھوج کے شوقین افراد کے لیے ایک بے مثال منزل بن گئے ہیں۔
ہر طرح کی آلودگیوں سے محفوظ اِن جزیروں کا آبی ماحول، مونگے کی شاندار چٹانوں اور جنگلی حیات کے مشاہدے کے مواقع پیش کرتا ہے۔ لیکن اِن امور کے لیے سعودی ریڈ سِی اتھارٹی نے قدرتی وسائل کی پائیداری اور تحفظ کے لیے قانونی فریم ورک بھی بنا رکھا ہے جس کے اندر رہتے ہوئے ہی اِن جزائر کی خوبصورتی کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔
یہ قدرتی اثاثے، سیاحت کی ایک خاص منزل کے طور پر ریجن میں دلچپسی کو بڑھاتے ہیں اور جدید اور پائیدار سیاحت کی ترقی کے لیے سہارے کا باعث بنتے ہیں جو ماحول دوست سیاحت کے بین الاقوامی رجحانات سے ہم آہنگ ہے۔
اللیث کے جزائر سمندری سیاحت میں سرمایہ کاری کے لیے بھی موزوں ہیں جس کے لیے ماحول کو کم سے کم متاثر کرنے والے منصوبے، ماحول دوست قیام گاہیں، غوطہ خوری کے مراکز اور سمارٹ سمندری سروسز شامل ہیں جن سے معاشی نشو و نما اور ماحولیاتی تحفظ کے مابین توازن پیدا ہوتا ہے۔

ایسے منصوبے، پیداوار سے مارکیٹ تک کے اُس مربوط نظام میں مدد دیتے ہیں جس کا تعلق (بلیو اکانومی) سمندروں، دریاؤں، جھیلوں اور دیگر آبی وسائل کے پائیدار استعمال سے ہے۔ یوں، اعلٰی درجے کی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، مقامی کمیونیٹیوں کو بااختیار بنانے کا موقع ملتا ہے اور قومی معیشت میں سیاحتی شعبے کا کردار بڑھتا ہے۔
اللیث کے جزائر پر بڑھتی ہوئی توجہ اُس وسیع قومی سٹریٹیجی کا حصہ ہے جس کا مقصد بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں کی ترقی، معیارِ زندگی کی بہتری اور پائیدار سیاحت کے بین الاقوامی مرکز کے طور پر سعودی عرب کی حیثیت کو مضبوط بنانا ہے۔
فور سسٹرز کے جزائر، ترقی کے جدید ماڈل کی مثال ہیں جس میں قدرتی وسائل کو محفوظ بنا کر استعمال میں لایا جاتا ہے۔ یہ جزائر اُس سٹریٹیجک وژن کے ترجمان ہیں جو معاشی اور ماحولیاتی قدر سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہوئے، پائیداری کو آگے بڑھاتا ہے۔