بحیرۂ احمر کے ایکوسسٹم کے لیے ویل شارک کا ’اہم کردار‘
جمعرات 16 جولائی 2026 12:41
بحیرۂ احمر میں ویل شارک کے علاوہ دیگر اقسام کی شارک مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں (فوٹو: اویرنس ڈے)
شارک کے عالمی دن کے موقع پر صحت مند سمندری ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے میں شارک مچھلیوں کے اہم کردار کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروائی جا رہی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق بحیرۂ احمر کئی اقسام کی شارک مچھلیوں کے لیے ایک پناہ گاہ فراہم کرتا ہے جن میں ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ویل شارک بھی شامل ہے۔
بحیرۂ احمر میں شارک کا سب سے اہم مسکن شعب ھابل کے مقام پر پایا جاتا ہے جو جدہ سے تقریباً 200 کلومیٹر جنوب میں اللیث گورنریٹ کے ساحل سے تقریباً چار کلومیٹر دور سمندر میں ڈوبا ہوا مونگے کی چٹان کا علاقہ ہے۔
ہر سال اپریل اور مئی میں گرم پانیوں اور وافر مقدار میں پائے جانے والے سمندری ذرات کی وجہ سے ویل شارک مچھلیاں بڑی تعداد میں اس چٹان کا رخ کرتی ہیں جس سے یہ جگہ دنیا بھر میں ان مچھلیوں کے اکٹھے ہونے کے سب سے مشہور مقامات میں سے ایک بن گئی ہے۔
اس مقام کو عالمی سطح پر اس وقت شہرت ملی جب غوطہ خوری کے ایک مقامی ماہر نے ریسرچرز کی اللیث کے سمندری پانیوں کی طرف رہنمائی کی جس کے بعد یہاں ہونے والی تحقیق میں مچھلیوں کے اس منفرد موسمی اجتماع کی تفصیلات منظرعام پر آئیں۔
ریسرچرز کا کہنا ہے کہ شعب ھابل کا علاقہ دو وجوہات کی بنا پر دنیا بھر میں سب سے منفرد ہے۔ ایک تو یہاں خاص موسم میں ویل شارک مچھلیاں آتی ہیں اور دوسرا یہاں نر اور مادہ شارک مچھلیوں کی تعداد کا توازن بہت غیر معمولی ہے جو دنیا بھر میں ویل شارک کے دیگر مقامات پر بہت کم دیکھا جاتا ہے کیونکہ عام طور پر ایسے مقامات پر کسی ایک ہی جنس کی مچھلیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔
ویل شارک دنیا کی سب سے بڑی مچھلی ہے۔ یہ ایک انتہائی بے ضرر مخلوق ہے جو سمندری ذرات کھاتی ہے اور انسانوں کے لیے بالکل بھی خطرناک نہیں ہے۔
بحیرۂ احمر میں ویل شارک کے علاوہ دیگر اقسام کی شارک مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں جن میں گرے ریف شارک اور ہیمر ہیڈ شارک شامل ہیں۔

یہ مچھلیاں صرف سمندری زندگی کا ہی حصہ نہیں ہیں بلکہ یہ ایکوسسٹم کے توازن کا بھی ایک اہم اعشاریہ سمجھی جاتی ہیں۔
سمندر کے سب سے بڑے شکاری ہونے کی وجہ سے مچھلیاں دوسرے سمندری جانداروں کی آبادی کو قابو میں رکھنے، ماحولیاتی توازن قائم کرنے اور مونگے کی چٹانوں کے نظام کو طویل عرصے تک صحت مند رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
سمندر میں ان کی مستقل موجودگی کو سمندری ماحول کی اچھائی کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق سائنسی تحقیق اور حکومتی اقدامات شارک مچھلیوں اور ان کے مسکنوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔
سعودی ریڈ سی اتھارٹی سمندری سیاحت اور تفریحی سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوششوں کی نگرانی کرتی ہے تاکہ ان نازک ماحولیاتی نظاموں کا تحفظ کیا جا سکے جو ویل شارک اور دیگر سمندری حیات کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔

بحیرۂ احمر میں ویل شارک کی ہر سال واپسی اس بات کی ضرورت پر زور دیتی ہے کہ سمندری حیات کے تنوع کو بچایا جائے اور سانئسی اور انتظامی کوششوں کو تیز کیا جائے تاکہ اس خطے کے سمندری ماحول کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔
