ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو ایران اور ’محاذِ مزاحمت‘ امریکہ کو ’ناقابلِ فراموش سبق‘ سکھائیں گے۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق سنیچر کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک نیا بیان پڑھ کر سنایا گیا تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ اب تک عوامی منظر پر نہیں آئے ہیں۔
اپنے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کو بھی ’بے وقعت اور غیر مؤثر‘ قرار دیا۔
مزید پڑھیں
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ایک مذاکرات کار نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ’تہران تقریباً ایک ماہ قبل امریکہ کے ساتھ طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں معطل کر رہا ہے۔‘
یہ عبوری معاہدہ جنگ کے مستقل خاتمے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایرانی قوم اور ’محاذِ مزاحمت‘ اس کے لیے ایسے اقدامات کی صلاحیت رکھتے ہیں جنہیں وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری
دوسری جانب امریکہ اور ایران نے سنیچر بھی ایک دوسرے کے فوجی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے، جبکہ آبنائے ہرمز پر کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
خطے میں کئی روز سے جاری جوابی حملوں کے اس سلسلے میں توجہ کا مرکز اب آبنائے ہرمز پر کنٹرول بن چکا ہے۔ عبوری جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اس جنگ کے اختتام کے آثار بھی دکھائی نہیں دے رہے، جس کا آغاز امریکہ اور اسرائیل نے چار ماہ سے زائد عرصہ قبل کیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بتایا کہ ’مسلسل ساتویں رات کیے گئے حملوں میں ایران کے نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر، زیر زمین اسلحہ گوداموں اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں ایران میں درجنوں افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران اس کے مزید کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
American forces remain vigilant as the United States strictly enforces the naval blockade against Iran. During the first three days of renewed implementation, U.S. forces have redirected 4 commercial vessels, disabled 1, and boarded 1 to ensure full compliance. pic.twitter.com/VIY63sY9Fh
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 17, 2026












