امریکہ کے ایران پر مسلسل چھٹی رات بھی حملے، تہران کی امریکی اتحادی ممالک پر جوابی کارروائیاں
ایران نے جوابی حملوں کے طور پر قطر کو نشانہ بنایا (فوٹو: امریکی نیوی)
امریکہ نے جمعے کی صبح ایران کے خلاف اپنی فضائی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔
ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر نئے میزائل اور ڈرون حملے کیے اور خبردار کیا کہ اس کی جوابی کارروائیاں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق تازہ حملے امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلسل چھٹی رات کی فضائی کارروائیوں کا حصہ ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی تاکہ تہران آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت نرم کرے۔
ایران نے جوابی حملوں کے طور پر قطر کو نشانہ بنایا جبکہ قطری حکام نے عوام کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت جاری کی۔ قطر کے رہائشیوں نے فضا میں دھماکوں کی آوازیں سنیں جبکہ فضائی دفاعی نظام نے آنے والے میزائلوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ قطر کی وزارتِ داخلہ کے مطابق میزائلوں کے ملبے کے گرنے سے ایک بچہ زخمی بھی ہوا ہے۔
ایران نے اس سے قبل امریکی فضائی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
قطر، پاکستان کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی اہم کوششوں میں بھی شامل ہے، تاہم آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کے معاملے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
جنگ بندی ختم
گزشتہ ماہ طے پانے والی عارضی جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان خطے کی اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول کے لیے کئی روز سے ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں میں اب تک 35 سے زائد افراد ہلاک اور تین سو سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ جمعے کو ہونے والے تازہ حملوں میں مزید جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو تہران نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا تھا، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا اور ایران کو مذاکرات میں نمایاں برتری حاصل ہوئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے اپنے پرائم ٹائم خطاب میں دعویٰ کیا کہ جنگ امریکہ کے حق میں جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم ایران میں بھی بڑی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، اور بہت جلد آپ ان کوششوں کے نتائج دیکھیں گے۔‘
دوسری جانب ایرانی فوج کے ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر‘ کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے خبردار کیا کہ ’اگر امریکہ صدر ٹرمپ کی ان دھمکیوں پر عمل کرتا ہے جن میں ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کا ذکر کیا گیا ہے، تو ایران پورے خطے کے تمام بنیادی ڈھانچے پر وسیع پیمانے پر حملے کر سکتا ہے۔‘
کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ’کسی بھی صورت اور کسی بھی طریقے سے ہم امریکہ جیسے بیرونی اور خطے سے باہر کے ملک کو آبنائے ہرمز میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ ایران کی ناقابلِ عبور سرخ لکیر ہے۔‘
