گذشتہ ماہ جب مصری ماہرینِ آثار قدیمہ نے دریائے نیل کے مشرقی کنارے پر ایک قدیم قبرستان کی کھدائی کی تفصیلات ظاہر کیں، تو دنیا بھر کے میڈیا میں ایک بار پھر یہ شور اٹھا کہ شاید ہمیں مصر کے عظیم اہرام کی تعمیر کے بارے میں کوئی نیا انکشاف ملنے والا ہے۔
جبل الطیر میں دریافت ہونے والی پانچ ہزار سال پرانی دو قبریں اہرام نہیں تھیں، کیونکہ اہرام کئی صدیوں بعد تعمیر ہونا شروع ہوئے، لیکن میڈیا کی توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ ان میں سے ایک قبر کی زیرِ زمین دیواریں نیچے سے موٹی اور اوپر کی طرف پتلی ہوتی جاتی تھیں۔
عرب نیوز کے مطابق کچھ مضامین نے دعویٰ کیا کہ ’یہ قبریں اہرام کی ابتدا کو ظاہر کرتی ہیں۔‘ دیگر نے کہا کہ یہ دریافتیں اہرامی فنِ تعمیر کی ’نئی تعریف‘ یا ’نیا آغاز‘ ہیں۔ لیکن زیادہ تر خبروں میں ایک اہم اور فیصلہ کن لفظ غائب تھا۔
مزید پڑھیں
-
دنیا کا سب سے بڑا اہرام مصر میں نہیں، میکسیکو میں ہےNode ID: 156326
-
اہرام مصر کا پانچ ہزار سال قدیم ٹکڑا سگار کے ڈبے سے مل گیاNode ID: 525281
مصری وزارتِ سیاحت و آثار قدیمہ کے پریس ریلیز میں اصل میں کہا گیا تھا کہ ’یہ طرزِ تعمیر شاید ہندسی سوچ کے ابتدائی مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے، جو بعد میں زینہ دار اہرام اور پھر مکمل اہرام کی صورت میں ظاہر ہوا۔‘
اہرام کی تعمیر کے اس دیرینہ راز کے کسی بھی ممکنہ ’حل‘ کو فوراً قبول کرنے کا یہ رجحان یونیورسٹی آف لیورپول کے ماہرِ مصر شناسی رولینڈ انمارچ کے لیے حیران کن نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں ’یہ ان سوالات میں سے ایک ہے جو ہمیشہ انسانی شعور میں زندہ رہتے ہیں۔ اہرام کی عظمت ہی ہے جو لوگوں کے تخیل کو سب سے زیادہ اپنی گرفت میں لیتی ہے۔‘
اہرام اتنی حیرت انگیز کامیابی ہیں، اور انسانی تہذیب کی تاریخ میں اتنے ابتدائی دور میں تعمیر ہوئے کہ لوگ ہمیشہ سوچتے رہے ہیں کہ آخر انہوں نے اتنے بڑے ڈھانچے کو اتنی پرانی اور محدود ٹیکنالوجی کے ساتھ کیسے بنایا۔
جبل الطیر میں دریافتوں کے بارے میں انمارچ نے کہا کہ ’یہ اپنی جگہ پر نہایت دلچسپ ہیں، ہمارے پاس پہلے درمیانی مصر کے ابتدائی شاہی دور کی اعلیٰ طبقے کی قبروں کے شواہد بہت کم تھے۔ لیکن یہ بحث طلب ہے کہ وہ خصوصیت جسے اہرام کے بارے میں بصیرت فراہم کرنے والی قرار دیا جا رہا ہے۔ واقعی کئی صدیوں بعد ان عظیم ڈھانچوں کی تخلیق کا باعث بنی یا نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ابتدائی شاہی دور کی قبروں کے اندر زینہ دار کچی اینٹوں کے ڈھانچے ملے ہوں، سقارہ میں بھی ایک مشہور مثال کئی سال پہلے دریافت ہو چکی ہے۔‘

انمارچ نے مزید کہا کہ ’ماہرینِ مصر شناسی اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا یہ اہرام کی تصوراتی تاریخ کی نمائندگی کرتے ہیں یا نہیں۔ موجودہ رائے یہ ہے کہ غالباً اس کا براہِ راست تعلق نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اہرام کا تصور ’نسبتاً تیزی سے، چند نسلوں میں، تقریباً 27ویں اور 26ویں صدی قبل مسیح کے درمیان ترقی پایا۔‘
پہلا ’اصلی‘ اہرام، جو جیزہ کے مشہور اہرام کا براہِ راست جد سمجھا جاتا ہے، سقارہ کا زینہ دار اہرام ہے، جو قاہرہ کے جنوب میں واقع ہے اور فرعون جوسر، تیسرے شاہی خاندان کے بانی، نے تقریباً 2670 سے 2650 قبل مسیح کے درمیان تعمیر کیا۔
انمارچ نے کہا کہ ’یہ انقلابی تھا۔ ابتدا میں، جب مصر پہلی بار 31ویں صدی قبل مسیح میں ایک ریاست کے طور پر متحد ہوا، تو حکمرانوں کو شاندار قبروں میں دفن کیا جاتا تھا لیکن ان کے اوپر کے ڈھانچے نسبتاً سادہ ہوتے تھے۔‘
عربی میں یہ مستطیل، کچی اینٹوں کی قبریں جن کی چھتیں ہموار اور اطراف ڈھلوانی ہوتی تھیں، مستبا کہلاتی ہیں، یعنی بینچ۔ بعد میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ یہ ڈھانچے، جیسے مستبا الفرعون، جو شپسیسکاف (چوتھے شاہی خاندان کے آخری بادشاہ) کی قبر ہے، ابتدائی ’لیئر کیک‘ طرز کے زینہ دار اہرام کی بنیاد بن سکتے تھے۔
انمارچ نے کہا کہ ’صدیوں تک یہی قبروں کا اوپری ڈھانچہ رہا، اور پھر جوسر نے ایک انقلابی قدم اٹھایا۔ سب سے پہلے اس نے اپنی مستبا کو کچی اینٹوں کے بجائے پتھر سے بنایا اور پھر وہ اور غالباً اس کے معمار، ایمہوتیپ، بار بار اپنے ڈیزائن میں تبدیلی کرتے رہے۔‘
ابتدائی مستبا کے اوپر انہوں نے دوسرا چھوٹا حصہ بنایا اور پھر اس کے اوپر مزید حصے۔ نتیجہ اگرچہ مکمل اہرام نہیں تھا، لیکن پہلا زینہ دار اہرام تھا۔

انمارچ نے کہا کہ ’اگرچہ اس وقت تک کچی اینٹوں کی عمارتوں میں پتھر کا معمولی استعمال ہوا تھا، لیکن یہ پہلا اہرام اور اس کے گرد و نواح کا مجموعہ تھا جو مکمل طور پر پتھر سے بنایا گیا۔‘
’یہ ایک تبدیلی تھی، ساتھ ہی زینہ دار اہرام بھی۔ اس کے بعد دو یا تین نسلوں میں مصریوں نے اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنایا، اور جب سنفرو، چوتھے شاہی خاندان کا پہلا فرعون اور خُوفو کا والد، آیا تو وہ اصل اہرام بنانے کے مقام تک پہنچ چکے تھے، جن کی اطراف زینوں کے بجائے ہموار اور سیدھی تھیں۔‘
درحقیقت، میڈوم کا اہرام، جو سنفرو نے تقریباً 2610 قبل مسیح میں بنایا، ابتدا میں جوسر کے اہرام کی طرح زینہ دار اہرام تھا۔ بعد میں اس پر چونے کے پتھر کی تہہ چڑھائی گئی جس نے زینوں کو بھر کر ہموار اطراف بنا دیے اور ایک نیا رجحان شروع ہوا۔
میڈوم کے بعد ’بینٹ اہرام‘ آیا جسے یہ نام اس لیے دیا گیا کہ اس کی دیواروں کا زاویہ درمیان میں بدل جاتا ہے، شاید اس لیے کہ معماروں کو کسی ساختی مسئلے کا سامنا ہوا۔
لیکن سنفرو کی بعد کی کوشش دہشور کا ’ریڈ اہرام‘ جو تقریباً 2595 قبل مسیح میں بنایا گیا، پہلا کامیاب اور مکمل ہموار اہرام سمجھا جاتا ہے۔
یہ تقریباً 105 میٹر بلند ہے اور مصر کا تیسرا سب سے بڑا اہرام ہے، جسے صرف جیزہ کے تین میں سے دو اہرام پیچھے چھوڑتے ہیں۔

سنفرو کے بیٹے خُوفو نے اپنے والد کے دور میں تیار کی گئی تکنیکوں پر مزید کام کرتے ہوئے اہرام سازی کی فنکاری کا اعلیٰ ترین نمونہ تخلیق کیا۔ جیزہ کا عظیم اہرام، جو 2580 سے 2560 قبل مسیح کے درمیان تعمیر ہوا اور اس کی قبر کے طور پر استعمال ہوا۔
146 میٹر سے زیادہ بلند یہ ڈھانچہ 37 سو سال تک دنیا کی سب سے اونچی عمارت رہا، یہاں تک کہ یورپ کے قرونِ وسطیٰ کے گرجا گھروں کے میناروں نے اسے پیچھے چھوڑ دیا۔
اہرام کی تعمیر کے بارے میں اکثر ’یوریکا‘ لمحوں کی خبریں سامنے آتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ کئی نظریات پیش کیے گئے ہیں، ہم آج بھی اصل طریقہ نہیں جانتے۔ انمارچ نے کہا کہ ’اس سوال کے کئی درجے ہیں۔ سب سے پہلے، اس وقت مصری ریاست کی طاقت اور تنظیمی صلاحیت اتنی زیادہ تھی کہ وہ اتنے بڑے منصوبے کو منطقی طور پر منظم کر سکے اور لوگوں کو اس میں شامل ہونے پر مجبور کر سکے۔‘
ماہرینِ مصر شناسی اب بھی بحث کرتے ہیں کہ آیا مزدور غلام تھے یا نہیں، ’لیکن غالباً ان میں سے زیادہ تر مصری کسان تھے جو ریاست کو محنت کے ذریعے ٹیکس ادا کرتے تھے۔ لوگوں نے مختلف اندازے لگائے ہیں کہ قومی افرادی قوت کا کتنا فیصد عظیم اہرام کی تعمیر میں شامل رہا ہوگا، لیکن یقیناً یہ کل قومی افرادی قوت کا ایک نمایاں حصہ تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ بھی ایک اتفاق تھا کہ مصر میں تعمیراتی پتھر آسانی سے دستیاب تھا، برخلاف میسوپوٹیمیا کے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وہ ان تمام پتھروں کو جسمانی طور پر کیسے اٹھا کر ایک مصنوعی پہاڑ میں ڈھیر کر سکے؟‘
یقیناً کئی نظریات موجود ہیں۔ جیزہ کے عظیم اہرام میں استعمال ہونے والا اوسط چونے کا پتھر 1.5 سے 5 ٹن وزنی تھا، جو ایک عام کار سے دوگنا وزنی ہے، لیکن زمین پر ایک چھوٹے گروہ کے ذریعے آسانی سے حرکت دی جا سکتی تھی۔ تاہم کچھ پتھر کہیں زیادہ وزنی تھے، مثلاً عظیم اہرام کے تدفینی کمرے کے اوپر موجود ہر گرینائٹ شہتیر تقریباً 80 ٹن وزنی ہے۔

2024 میں ریڈار سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے ماہرینِ آثار قدیمہ نے دریافت کیا کہ 30 سے زیادہ اہرام، بشمول جیزہ کے، دریائے نیل کی ایک گم شدہ شاخ کے ساتھ واقع تھے۔ مئی 2024 میں شائع ہونے والے ایک مقالے کے مصنفین نے قیاس کیا کہ یہ شاخ ’ایک آبی راستے کے طور پر استعمال ہوتی تھی، جس کے ذریعے مزدور اور سامان اہرام کی جگہوں تک پہنچایا جاتا تھا۔‘
انمارچ نے کہا کہ ’یہ بالکل ممکن ہے، قدیم مصر نہروں سے بھرا ہوا تھا اور غالباً ان میں سے کچھ پتھر کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ لیکن یہ اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتا کہ 20 لاکھ سے زیادہ چونے کے پتھروں کو جیزہ کے عظیم اہرام میں کیسے اٹھایا گیا۔‘
ایک حالیہ نظریہ جو 2024 میں فرانسیسی ماہرین نے پیش کیا، یہ تھا کہ سقارہ کے جوسر زینہ دار اہرام کے معماروں نے ہائیڈرولک قوت استعمال کی، ایک ’ممکنہ عارضی جھیل‘ کے دباؤ کو بروئے کار لاتے ہوئے۔ انمارچ نے کہا کہ ’میں انجینئر نہیں ہوں، لیکن میں نے یہ مقالہ پڑھا اور مجھے سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ میں اس کے پیچھے موجود طبیعیات کو سمجھنے میں مشکل محسوس کرتا ہوں، کیونکہ جن بلندیوں کی بات ہو رہی ہے وہ اتنی مختلف نہیں جتنی ہونی چاہیے۔‘
اب تک کا سب سے زیادہ مانا جانے والا نظریہ یہ ہے کہ مصریوں نے کسی قسم کی ریمپ استعمال کی۔ انہوں نے کہا کہ ’لوگوں نے دلائل دینے کی کوشش کی ہے کہ دیگر طریقے ممکن تھے، جیسے چیزوں کو اوپر کھینچنا، لیکن ان میں سے کوئی بھی قائل کرنے والی تعمیر نو کے ساتھ نہیں آیا۔ مثال کے طور پر کرینیں اس دور میں استعمال نہیں ہوتی تھیں۔ لہٰذا جب آپ ان چیزوں کو خارج کر دیتے ہیں، تو آپ کسی نہ کسی قسم کی ریمپ کی بات کر رہے ہوتے ہیں، اور اصل سوال یہ ہے کہ وہ ریمپ کس طرح بنائی گئی تھی؟‘
حساب کتاب سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ریمپ کی زیادہ سے زیادہ ڈھلوان کتنی ہو سکتی تھی، جس پر بڑے پتھروں کو کھسکایا جا سکتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ’ریمپ اتنی لمبی اور اس کے لیے درکار مواد اتنا زیادہ ہوتا کہ اس کی تعمیر خود اہرام بنانے کی کوشش سے بھی بڑی ہوتی۔‘

دیگر نظریات تجویز کرتے ہیں کہ ریمپ اہرام کے گرد لپٹی ہوئی تھی، جو خود اہرام کے سہارے سے اوپر جاتی تھی۔ انمارچ نے کہا کہ ’مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ کچھ ایسا ہی درست ہو سکتا ہے۔‘
اس خیال کی ایک پیچیدہ شکل مارچ میں جریدہ ہیریٹیج سائنس میں شائع ہوئی۔ کمپیوٹر ماڈلز کی بنیاد پر یہ تجویز کیا گیا کہ خُوفو کا اہرام ’انٹیگریٹڈ ایج ریمپ‘ کے ذریعے بنایا گیا، یعنی ایک اندرونی ریمپ جو چاروں اطراف میں گھومتی ہوئی ہیلیکل شکل میں اوپر جاتی تھی اور بعد میں بھر دی گئی۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ بیرونی ریمپ کے کوئی آثار کیوں نہیں ملے۔
انمارچ نے کہا کہ ’یہ بالکل ممکن ہے۔ میں نے ان کے اندازوں کو دیکھا کہ کتنا کام کیا جا سکتا تھا، منصوبے کے لیے کتنا وقت تھا، بادشاہ کی حکمرانی کی مدت کو دیکھتے ہوئے، اور یہ حساب مجھے قابلِ قبول لگا۔ لیکن میں اس سے زیادہ یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ کسی بھی پیچیدہ حساب میں صرف چند متغیرات مختلف ہوں تو نتیجہ بالکل بدل جاتا ہے۔‘
اہرام کی تعمیر کے کچھ ’راز‘ دراصل قدیم لوگوں کی صلاحیتوں کو کم سمجھنے کا نتیجہ ہیں۔ انمارچ نے کہا کہ ’آپ بنیادی ٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ کر سکتے ہیں جتنا لوگ سوچتے ہیں۔ پہلے یہ خیال تھا کہ مصریوں کو اہرام کی وجہ سے عدد π معلوم تھا، لیکن اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ ضروری نہیں۔ آپ کو صرف ایک سلنڈر چاہیے جسے آپ پیڈومیٹر کے طور پر استعمال کر سکیں۔ اس کے باوجود، ان کی درستگی حیران کن تھی۔ عظیم اہرام کی بنیاد ایک حقیقی مربع سے جتنی کم انحراف کرتی ہے، وہ نہایت معمولی ہے۔‘

قدیم مصریوں کے ماہر انجینئر اور معمار ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اگرچہ تقریباً تمام اہرام اپنی اصل ہموار چونے کی بیرونی تہہ کھو چکے ہیں، جو قرونِ وسطیٰ میں قاہرہ کی عمارتوں میں استعمال کے لیے اتار لی گئی تھی، لیکن 130 سے زیادہ اہرام میں سے اکثریت آج بھی موجود ہے۔
مصریوں نے تقریباً ایک ہزار سال بعد اہرام بنانا بند کر دیا۔ آخری شاہی مثال اہموص کی قبر ہے، جو اوپری مصر کے ابیڈوس میں 1550 سے 1525 قبل مسیح کے درمیان تعمیر ہوئی۔ اس کے بعد حکمرانوں کو وادی الملوک میں دفن کیا جانے لگا، جہاں قبریں چٹانوں میں تراشی جاتی تھیں۔
انہوں نے ان عظیم ڈھانچوں کو بنانا کیوں چھوڑ دیا جو آج بھی دنیا کو مسحور کرتے ہیں، ایک اور راز ہے جو بحث کے لیے کھلا ہے اور یقیناً کئی نظریات موجود ہیں۔












