امریکہ اور ایران میں ساتویں رات بھی حملوں کا تبادلہ، مشرقِ وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں
امریکہ اور ایران میں ساتویں رات بھی حملوں کا تبادلہ، مشرقِ وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں
ہفتہ 18 جولائی 2026 10:29
امریکی حملوں میں جنوبی ایران میں کم از کم پانچ پلوں کو نشانہ بنایا گیا (فوٹو: عرب نیوز)
امریکہ اور ایران نے ہفتے کے روز ایک دوسرے کے انفراسٹرکچر اور فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کا تبادلہ کیا، جس کے باعث آبنائے ہرمز پر جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی۔
عرب نیوز کے مطابق خطہ گزشتہ کئی دنوں سے شدید کشیدگی کی زد میں ہے اور یہ تنازع بتدریج آبنائے پر کنٹرول کے گرد گھوم رہا ہے۔ عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اس جنگ کے خاتمے کی کوئی واضح صورت نظر نہیں آ رہی جو امریکہ اور اسرائیل نے چار ماہ سے زائد عرصہ قبل شروع کی تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سنیچر کی صبح کہا کہ مسلسل ساتویں رات کی کارروائیوں میں ’نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر، زیرِ زمین اسلحہ ذخائر اور بحری صلاحیتوں‘ کو نشانہ بنایا گیا۔
کویت نے سنیچر ہی کو کہا کہ وہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روک رہا ہے جبکہ عراق نے کہا کہ اس نے اربیل شہر کے اوپر حملہ آور ڈرونز کو مار گرایا۔
اُردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائل تباہ کیے جبکہ بحرین میں بھی حکام کے مطابق فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔
کویت ایئرویز نے کہا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عارضی طور پر آپریشن معطل ہونے کے باعث زیادہ تر پروازوں کو دوبارہ شیڈول کیا گیا ہے۔
ایران نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد مؤثر طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا جس کے باعث تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں اور ایران کو مذاکرات میں نمایاں برتری حاصل ہو گئی۔
بین الاقوامی شپنگ ٹریکر کے مطابق جمعے کے روز تیل کی قیمت 86 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی جو قریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے، جبکہ آبنائے میں بحری آمدورفت تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی۔
دوسری جانب امریکی حملوں کا دائرہ جنوبی ایران تک پھیل گیا جہاں ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق کم از کم پانچ پلوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں ساحلی شہر بندر خمیر کے پل بھی شامل ہیں۔ ان حملوں میں سات افراد ہلاک ہوئے۔
ایران نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا (فوٹو: اے ایف پی)
رپورٹس کے مطابق ریلوے سٹیشن کو بھی نقصان پہنچا جبکہ ایران کے پاکستان سے متصل صوبے کے شہر ایرانشہر کے ایک ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام نے بجلی کے نظام پر حملوں کی بھی اطلاع دی ہے۔ خلیجِ عمان میں واقع ایران کی چابہار بندرگاہ پر ایک ٹاور بھی امریکی حملے میں منہدم ہو گیا۔
ایران کی وزارتِ صحت نے کہا کہ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد کم از کم 38 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ دیگر ایرانی حکام نے حالیہ حملوں میں اس سے زیادہ ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکہ نے کہا کہ پیر کے بعد سے اُس کے مزید 13 فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں 10 بری فوج کے سپاہی اور 3 بحریہ کے اہلکار شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 14 امریکی فوجی ہلاک اور 427 زخمی ہو چکے ہیں۔