Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اردن میں دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ کے ایران پر نئے حملے

امریکی فوج نے کہا ہے کہ اردن میں ایران کے حملوں میں اس کے دو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں، جس کے بعد جنگ کے دوران مرنے والے اہلکاروں کی کُل تعداد 16 ہو گئی ہے جبکہ تازہ ہلاکتوں کے بعد امریکہ نے ایران پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ ہلاکتیں اس پیچیدہ حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ ایسے جان لیوا خطرات کے لیے امریکی فوجیوں کو میدانی جنگ کے لیے ایسی سرزمین پر اترنا نہیں چاہیے جہاں جان لیوا خطرات ہوں اور میزائل اور ڈرونز استعمال ہو رہے ہیں۔
اس وقت امریکی افواج پورے مشرق وسطیٰ میں مختلف مقامات پر تعینات ہیں جس کی وجہ سے دوسرے ممالک ایرانی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں اور امن مذاکرات میں تعطل کے بعد جنگ میں خاصی تیزی آئی ہے۔
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
سنیچر کی دوپہر تک انہوں نے اردن میں ہونے والی تازہ ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا جبکہ وائٹ ہاؤس نے اس بارے میں سینٹرل کمانڈ کا بیان جاری کیا۔

شیئر: