اردن میں دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ کے ایران پر نئے حملے
اردن میں دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ کے ایران پر نئے حملے
اتوار 19 جولائی 2026 5:37
جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک امریکہ کے 16 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں (فوٹو: سینٹرل کمانڈ)
امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایرانی حملوں کے باعث اردن میں اس کے دو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں، جس کے بعد ایران کے خلاف حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جبکہ اب تک مرنے والے فوجیوں کی کُل تعداد 16 ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس وقت امریکی افواج پورے مشرق وسطیٰ میں مختلف مقامات پر تعینات ہیں جس کی وجہ سے دوسرے ممالک ایرانی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں اور امن مذاکرات میں تعطل کے بعد جنگ میں خاصی تیزی آئی ہے۔
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
سنیچر کی دوپہر تک انہوں نے اردن میں ہونے والی تازہ ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا جبکہ وائٹ ہاؤس نے اس بارے میں سینٹرل کمانڈ کا بیان جاری کیا۔
ہلاکتیں جنگ چھڑتے ہی شروع ہو گئی تھیں
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے چھڑنے کے کچھ دیر بعد ہی ایران نے کویت کی ایک بندرگاہ پر حملہ کیا تھا جس میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے، لاجسٹک یونٹ کے لیے کام کرنے والے یہ فوجی ایک شپنگ کنٹینر نما عمارت میں تعینات تھے جہاں کسی قسم کا دفاعی نظام موجود نہیں تھا۔
ساتواں امریکی فوجی یکم مارچ کو سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر حملے میں زخمی ہونے کے قریباً ایک ہفتے تک زندہ رہنے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔
بعدازاں مارچ میں ہی ایک ری فیولنگ امریکی فوجی طیارہ کے سی 135 عراق میں گر کر تباہ ہوا جس میں چھ فوجی جان سے گئے تھے جس کو امریکی حکام نے فرینڈلی فائر کا نتیجہ قرار دیا تھا۔
اسی طرح پیر کو امریکی فوج کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ بحریہ کا ایک پائلٹ بحیرہ عرب میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہو گیا ہے۔
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے کے لیے ضروری ہے (فوٹو: روئٹرز)
بعدازاں بحریہ کے حکام نے ایک بیان میں کہا تھا کہ واقعے کی وجہ ہنگامی لینڈنگ تھی اور ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ہنگامی لینڈنگ کی وجہ دشمن کی جانب سے ہونے والی کوئی کارروائی ہو۔
اس واقعے میں ہیلی کاپٹر میں سوار باقی تین ملاحوں کو بچا لیا گیا تھا۔
بیان میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ مزید معلومات اور مرنے والوں کے ناموں کے اجرا کو اس ضابطے کے تحت روک دیا گیا ہے جس میں اہل خانہ کو مطلع کیے جانے کے بعد 24 گھنٹے تک ایسی چیزوں کو روک کے رکھا جاتا ہے۔
اس جنگ میں ہونے والی ہلاکتیں صرف امریکیوں تک محدود نہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے تین ہفتے کے دوران امریکی حملوں میں کم سے کم 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں وہ آٹھ افراد بھی شامل ہیں جو جمعے کو ایک پل پر ہونے والے حملے میں مارے گئے تھے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ’ناقابل فراموش‘ سبق سکھایا جائے گا (فوٹو: اے ایف پی)
اسی طرح بحری جہازوں پر کام کرنے والے افراد کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک، لبنان اور اسرائیل میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکن اور دیگر افراد بھی اس جنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔
سنیچر کو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو ایران اور ’محاذِ مزاحمت‘ امریکہ کو ’ناقابلِ فراموش سبق‘ سکھائیں گے۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق سنیچر کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک نیا بیان پڑھ کر سنایا گیا جو جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ اب تک عوامی منظر پر نہیں آئے ہیں۔
انہوں نے اس بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کو بھی ’بے وقعت اور غیر مؤثر‘ بھی قرار دیا تھا۔