Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جبلِ نور اور غارِ حرا کی روحانی اور تاریخی اہمیت

مملکت آنے والے افراد اور عمرہ زائرین عار حرا ضرور جاتے ہیں(فوٹو ایکس اکاونٹ)
غارِ حرا جو مکہ مکرمہ کے مقدس شہر سے شمال مشرق میں واقع ہے، اسلامی دنیا میں آج بھی مذہبی اور تاریخی لحاظ سے سب سے اہم اور امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔
دنیا اُس پہاڑ کو جس پر یہ غار ہے، جبلِ نور کے نام سے بھی جانتی ہے کیونکہ پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہُ علیہ وسلم پر قرآن کریم کی پہلی آیت یا وحی کا آغاز اُس وقت ہوا جب وہ اِسی غار میں موجود تھے ۔قرآنِ کریم کو نوُر بھی کہتے ہیں۔
اِس پہاڑ یا جبلِ نُور کی اہمیت اِس لیے بھی بہت زیادہ اہم ہے کہ اِسی پہاڑ پر غارِ حرا ہے۔ اِس غار میں ایک وقت میں صرف چند ایک انسان ہی رہ سکتے ہیں۔
یہی وہ غار ہے جہاں اللہ کے آخری نبی صلی اللہُ علیہ وسلم عبادت کی غرض سے قیام فرمایا کرتے تھے۔ یہی وہ مقامِ مقدس ہے جہاں اُن پر اللہ کا ابدی پیغام پہلی وحی کی صورت میں نازل ہوا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق آج غارِ حرا سب سے ممتاز اور مذہبی حیثیت و عقیدت والی اعلٰی ترین منزل ہے جہاں زائرین، عام لوگ اور مملکت میں آنے والے افراد ضرور جاتے ہیں۔ یہی غار پیغمبرِ اسلام کی سوانحِ مبارکہ تحریر کرنے والوں کے لیے بھی ایک تحریک پیدا کرنے والا مقام ہے۔

غارِ حرا کے پاس پہنچ کر انسان، اسلامی تاریخی کے بالکل ابتدائی لمحات میں ڈوب جاتا ہے۔ یہیں سے اُس اجالے نے جنم لیا تھا جس نے آج پوری کائنات کو اپنے سایۂ عاطفت میں لے رکھا ہے۔ یہ غار، توحید کے اُس پیغام کی علامت ہے جو مکہ کے ایک پہاڑ سے ابدی صبح کی نوید بن کر طلوع ہوا اور اُسی پیغام کا دائمی گواہ بھی ہے۔

 

شیئر: