ریاض ایئر اپنے بیڑے میں مزید 34 بوئنگ اور ایئربس طیارے شامل کرے گا
یہ نئے آرڈرز مملکت کی نیشنل ایوی ایشن سٹریٹجی کے مطابق ہیں،( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کی نئی قومی فضائی کمپنی ریاض ایئر نے وائیڈ باڈی طیاروں کے منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے پیر کو 34 بوئنگ 787 ڈریم لائنر اور ایئربس طیاروں کے اضافی آرڈر کی تصدیق کی ہے۔
پبلک انویسٹمنٹ کی ملکیت نئی ایئر لائن نے 28 اضافی بوئنگ 787 ڈریم لائنر کا آپشن استعمال کیا، جس سے ان طیاروں کا حتمی آرڈر 67 تک پہنچ گیا ہے۔
بیان کے مطابق فارنبورو انٹرنیشنل ایئرشو میں اعلان کردہ معاہدے میں 20 طیاروں کو بڑے 787- 10 ورژن میں تبدیل کرنا اور 11 ڈریم لائنز کی پہلے سے غیر اعلانیہ خریداری بھی شامل ہے۔
علاوہ ازیں ریاض ایئر نے 6 اضافی ایئربس اے 350-1000 طیاروں کے آرڈر کی بھی تصدیق کی ہے، جس سے ان طیاروں کی تعداد 31 ہوگئی ہے۔
یہ آرڈرز مملکت کی نیشنل ایوی ایشن سٹریٹجی کے مطابق ہیں، جس کا مقصد سالانہ مسافروں کی تعداد کو 330 ملین، ایئر کارگو کی گنجائش کو 4.5 ملین ٹن جبکہ 2030 تک 250 مقامات تک کنیکٹیویٹی کو بڑھانا ہے۔
اس سٹریٹیجی کا مقصد مملکت کی ایک عالمی فضائی مرکز کے طور پر پوزیشن کو مضبوط کرنا ہے، جو ایشیا، یورپ اور افریقہ کو جوڑتا ہے۔

ریاض ایئر کے سی ای او ٹونی ڈگلس نے بیان میں کہا، 28 اضافی 787 ڈریم لائنرز کو فائنل کرنے اور 787-10 کو متعارف کرانے کا عزم ایئر لائن کے لیے 2030 تک 100 سے زیادہ بین الاقوامی مقامات تک پہنچنے کے سفر میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے، جو مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کا ایک اہم حصہ ہے۔
انہوں نے کہا ’787-10طیاروں کا اضافہ، مسافروں اور کارگو کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کو کو پورا کرنے کی ہماری صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے۔‘

ریاض ایئر A350-1000 استعمال کرنے والی سعودی عرب کی پہلی ایئرلائن بن جائے گی۔ اپنے نیٹ ورک کی توسیع کی سپورٹ کے لیے ان طیاروں کو استعمال کرے گی۔
یہ توسیع سعودی عرب کی اقتصادی تنوع کی حکمت عملی کو سپورٹ کرتی ہے۔
ریاض ایئر کا مقصد 2030 تک مملکت کی نان آئل جی ڈی پی میں 75 ارب ریال سے زیادہ کا حصہ ڈالنا، اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک میں وسعت کے ساتھ دو لاکھ سے زیادہ براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔
