ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس میجر جنرل فیصل نصیر ’نیکٹا‘ کے نیشنل کوارڈینیٹر مقرر
جمعہ 4 ستمبر 2026 18:58
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
حکومتِ پاکستان نے ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس رہنے والے سینیئر فوجی افسر میجر جنرل فیصل نصیر کو انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے ’نیکٹا‘ کا نیا نیشنل کوآرڈینیٹر تعینات کر دیا ہے۔
کابینہ سیکریٹریٹ کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری باضابطہ نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ تعیناتی نیکٹا ایکٹ 2013ء کے سیکشن 9 (1) کے تحت 3 سال کی مدت کے لیے کی گئی ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر تا حکمِ ثانی ہوگا۔
اس نوٹیفیکیشن کی کاپی صدرِ پاکستان، وزیرِاعظم آفس، تمام وفاقی سیکریٹریز اور چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو ارسال کر دی گئی ہے، جبکہ متعلقہ افسر کو چارج سنبھالنے کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
میجر جنرل فیصل نصیر کون ہیں؟
سنہ 1992 میں پاکستانی فوج میں کمیشن حاصل کرنے والے میجر جنرل فیصل نصیر کا تعلق کور آف ملٹری انٹیلی جنس سے ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا بڑا حصہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس اُمور میں گزارا ہے۔
اس دوران انہوں نے بلوچستان اور کراچی میں انسدادِ دہشت گردی اور امن و امان کے قیام کے لیے اہم آپریشنز کی قیادت کی۔
جولائی 2022 میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد انہیں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) میں ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس یعنی (ڈی جی سی) کے اہم عہدے پر تعینات کیا گیا، جہاں وہ ملک کی اندرونی سکیورٹی اور کاؤنٹر انٹیلی جنس امور دیکھ رہے تھے۔
ان کی نمایاں عسکری خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ بسالت اور ہلالِ شجاعت جیسے اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
نیکٹا کیا ہے؟
نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) بنیادی طور پر 2008 میں قائم کی گئی تھی، جسے بعد میں 2013 کے پارلیمانی ایکٹ کے تحت ایک خود مختار اور باقاعدہ قانونی ادارہ بنا دیا گیا۔
یہ ادارہ پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کا اعلٰی ترین قومی ادارہ ہے، جس کی اہم ذمہ داریوں میں عسکری و سول انٹیلی جنس ایجنسیوں، پولیس اور صوبائی اداروں کے درمیان معلومات کا باہمی تبادلہ شامل ہے۔
اس کے علاوہ نیکٹا کا کام نیشنل ایکشن پلان سمیت انسدادِ دہشت گردی کے لیے قومی پالیسی سازی کرنا، سکیورٹی خطرات کا تجزیہ کر کے الرٹس جاری کرنا اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔
