فیفا کا تاریخی النفیعہ بازار: تین صدیوں سے تجارت، ثقافت اور سماجی زندگی کا مرکز
بازار کے روایتی طرز تعمیر کو آج بھی برقرار رکھا گیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
جازان ریجن میں ایسے تاریخی لینڈ مارک موجود ہیں جنہوں نے صدیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ فیفا کمشنری کا تاریخی بازارالنفیعہ تین صدیوں پر محیط علاقائی تاریخ، ثقافت اور تجارتی سرگرمیوں کا امین ہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ بازار علاقے کے قدیم ترین بازاروں میں شامل ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق النفیعہ بازار کی بنیاد سال ہجری 1140 سے 1150 کے درمیان رکھی گئی تھی۔
گزشتہ تین صدیوں سے زیادہ عرصے کے دوران یہ بازار فیفا کمشنری اور اس کے قرب و جوار کے دیہات کے لیے تجارتی، سماجی اور ثقافتی مرکز کی حیثیت کا حامل رہا ہے جہاں مقامی روایات اور سماجی رابطے بھی پروان چڑھتے ہیں۔
اس قدیم بازار میں مٹی کے برتن، قدیم لالٹین، عربی قہوہ تیار کرنے کے برتن، گھریلو استعمال کی اشیا، مقامی ملبوسات اور ہاتھ سے بنی ہوئی ٹوکریاں وغیرہ فروخت ہوتی ہیں۔ کمشنری کی زرعی پیداوار بھی یہاں لائی جاتی ہے، ان میں خولانی کافی، قدرتی شہد، دیسی گھی وغیرہ شامل ہیں۔
اس بازار نے اپنے روایتی طرز تعمیر کو بھی برقرار رکھا ہے، عمارتیں مقامی پتھر سے تعمیر کی گئی ہیں جبکہ بازار کے راستے پر بھی یہی پتھر لگے ہیں جو فیفا کے پہاڑوں کے مخصوص طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔ النفیعہ بازار تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔

بازار کے وسط میں التالقہ نامی تاریخی درخت اس مقام کی نمایاں علامت میں سے ایک ہے جس کی عمر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سات سو برس سے زیادہ ہے۔
دو ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر چٹانوں کے درمیان اگنے والا یہ درخت صدیوں سے بازار، مقامی میل جول اور مختلف نسلوں کی یادوں کا امین مانا جاتا ہے جو فیفا کمشنری کے قدرتی و ثقافتی ورثے کی علامت بھی ہے۔
فیفا کمشنری کے ایک رہائشی یحییٰ الفیفی کے مطابق ’النفیعہ بازار پہاڑی علاقے کا پہلا بازار تھا جس کی تاریخ تقریبا 350 برس پرانی ہے۔ یہ بازار فیفا، اس کے آس پاس کے قبائل اور ابوعریش کمشنری سے آنے والوں کی تجارتی ضروریات کو پورا کرتا رہا ہے، حالیہ برسوں میں سڑکوں کے بہتر نیٹ ورک کے بعد یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘

ایک اور شہری سلیمان جبران الفیفی نے بتایا کہ ’بازار کی تاریخی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے پتھریلی عمارتوں کی مرمت، روایتی تعمیراتی انداز اور قدیم دستکاریوں کے احیا پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔‘
بازار میں گزشتہ چھ دہائیوں سے منسلک عبدہ المخشمی الفیفی کا کہنا ہے کہ ’یہاں اب بھی 120 سال سے زیادہ پرانی اور نایاب اشیا محفوظ ہیں، جن میں قدیم برتن، روایتی تعمیراتی آلات اور دیگر نوادرات شامل ہیں۔ یہ قدیم اشیا ماضی کی سماجی اور معاشرتی زندگی کی جھلک پیش کرتی ہیں اور اسی وجہ سے سیاحوں اور ورثے سے دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔‘
