Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

رفحا کے قدیم بازاروں کی یاد تازہ کرتی بید کی بنی ہوئی ٹوکریاں

اناج، آٹے اور کھانے پینے کی دیگر اشیا سے بھری ہوئی بید کی بنی ہوئی ٹوکریاں، معاشی اور سماجی زندگی کے اُس پہلو کی نمائندگی کرتی ہیں جو کبھی مارکیٹیوں اور قدیم دکانوں سے منسوب تھی۔
ان ٹوکریوں کو گھریلو چیزیں سٹور کرنے، انھیں فروخت کرنے یا دکانوں پر نمایاں طور پر آوایزاں کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اِن ٹوکریوں سے گزری ہوئی نسلوں کے روز مرہ کے معمولات کی جھلک ملتی تھی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ہاتھ سے بنی بید کی یہ ٹوکریاں آٹا، چاول سٹور کرنے کے علاوہ صارفین کی چیزوں اور گھریلو سامان کی نمائش کے لیے بھی کام میں لائی جاتی تھیں۔ یوں، یہ ٹوکریاں جدید ریٹیل سٹورز کے منظرِ عام پر آنے سے قبل، ماضی کے شب و روز کا ایک لازمی حصہ تھیں۔
بید کی یہ ٹوکریاں اُس قدرتی مواد کو استعمال کر کے بنائی جاتی تھیں جو اُس زمانے کے لوگوں کو آسانی سے میسر ہوتا تھا۔ ٹوکریوں سے دستکاروں کے ہنر کی پہچان بھی ہوتی تھی جو انھیں مضبوط اور مختلف کاموں میں استعمال ہونے کے قابل بناتے تھے۔ دہائیوں تک بید سے بنی ٹوکریاں، گھروں اور مارکیٹوں میں زیرِ استعمال رہیں۔
ورثے کے شوقین افراد اِن ٹوکریوں کو مقامی تجارتی سرگرمیوں کا ایک ریکارڈ سمجھتے ہیں۔ وہ تجارتی سرگرمیوں میں ارتقا اور کھانے پینے کی چیزوں کو سٹور کرنے کے طریقوں کی وضاحت کرتے ہیں اور مستقبل کی نسلوں کے لیے اس میراث کی حفاظت کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہیں۔
ورثے کی اشیا کی نمائش کے لیے بنے خصوصی کارنر اور نمائشیں، اِن روایتی چیزوں کو انٹرایکٹیو طریقوں کے ذریعے پھر سے لوگوں کے سامنے لانے اور انھیں دوبارہ متعارف کرانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

یہ نمائشیں لوگوں کو ماضی کی طرزِ زندگی کی جھلک دکھاتی ہیں اور چیزوں کو سٹور اور پیکٹوں میں بند کرنے کے جدید طریقوں کے سامنے آنے سے قبل کے زمانے میں، روایتی مہارتوں کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور معاشرے کی ضرورتوں کی تکمیل میں اِن اشیا کے کردار کے بارے میں آگاہی دیتی ہیں۔
یہ ٹوکریاں راویتی مارکیٹوں کی علامت ہیں اور اُن کی سادگی، تنظیم اور مقامی پروڈکٹس پر اُن کے اظہار اور خطے کے سماجی ورثے کی فراوانی کو نمایاں کرتی ہیں۔

شیئر: