ریاض کا 120 سال پرانا سوق الزل، ’نادر اشیا اور پرانے نوٹوں کی نیلامی کا مرکز‘
ریاض کی 120 سال قدیم مارکیٹ ’سوق الزل‘ تاریخی مقامات میں سے ایک ہے جہاں نوادرات کی نیلامی اور فروخت آج بھی قدیم طریقے سے کی جاتی ہے۔
الاخباریہ کے مطابق قدیم تاریخی بازار میں جہاں نادر اشیا فروخت کی جاتی ہیں وہاں ایک گوشے میں پرانے نوٹوں کی نیلامی بھی ہوتی ہے۔
نیلامی میں ایک شخص نے مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز کے عہد میں رائج پانچ ریال کے نوٹ کی بولی لگائی۔ یہ قدیم نوٹ نیلامی میں 8 ہزار 600 میں فروخت ہوا۔
ایک منتظم نے بتایا کہ ’یہ ایک قدیم تاریخی بازار ہے جہاں مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے اور نیلامی میں حصہ لینے والے آتے ہیں۔‘
اس بازار کی خوبی یہ ہے کہ یہاں ہر قدیم و نادر چیز فروخت کے لیے لائی جاتی ہے، نوادرات کا شوق رکھنے والوں کے لیے یہ انتہائی اہم بازار ہے۔

مارکیٹ کے ایک اور دکاندار نے بتایا کہ ’قدیم اشیا جمع کرنے کا شوق بچپن سے تھا، ابتدا میں پیپسی کے ڈھکن جمع کیے، اس کے علاوہ مختلف ممالک کے قدیم سکے اور دیگر اشیا جمع کیں۔
بعد ازاں وقت کے ساتھ ساتھ شوق بھی بڑھتا گیا اور اشیا کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا گیا۔
دکاندار کا کہنا تھا کہ ’ان کے نجی میوزیم میں 2 ہزار سے زائد قدیم نادر اشیا موجود ہیں۔ سب سے زیادہ قیمتی چیز کی قیمت 30 ہزار ریال سے کچھ زیادہ ہے۔‘

الزال مارکیٹ میں قدیم برتن، گھروں کی سجاوٹ، پرانے ریڈیو، کیسٹ پلیئرز، پرانی تصاویر پر مشتمل البمز اور پینٹنگز کے علاوہ بہت کچھ موجود ہے جو شائقین کے لیے یقینی طور پر ایک انمول خزانے سے کم نہیں۔
سوق الزال ایک ایسا روایتی بازار ہے جس نے مملکت کے ماضی اور حال کو یکجا کیا ہے، بازارمیں نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ عمر رسیدہ افراد بھی عہد رفتہ کی یادوں کے ساتھ اپنی پسند کا سامان لینے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
