Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جرش کا آثارِ قدیمہ: ایک حیرت انگیز شہر کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کی خاموش داستان

یہ شاہراہ بخور پر واقع قدیم ترین شہر رہا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
عسیر ریجن کی کمشنری احد رفیدہ میں واقع جرش آثارِ قدیمہ کے مقام کے دروازے سے گزرتے ہی ایک حیرت انگیز سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ یہاں آنے والے سیاحوں کو جزیرۂ عرب کے جنوبی علاقے کی ہزاروں سال قدیم تہذیب سے روشناس کرایا جاتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق جدید بصری ڈسپلے کے علاوہ مقامی گائیڈ سیاحوں کو نوادرات، جرش کی تاریخ، اس کی ثقافتی اور تجارتی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔
جرش کی تاریخ ہزار قبل از مسیح سے تعلق رکھتی ہے. یہ شاہراہ بخور پر واقع ایک قدیم ترین شہر رہا ہے۔
علاقے میں گزشتہ تین دہائیوں سے جاری آثار قدیمہ کی تلاش اور وہاں ہونے والی کھدائیوں میں اسلام کے ابتدائی دور کی دو مساجد، متعدد رہائشی مکانات، قدیم آبی ذرائع، خط کوفی میں درج کتبہ، شیشے کے ٹکرے، مٹی اور دھات سے بنی اشیا سمیت مختلف آثار بھی دریافت ہوئے ہیں۔
مرکز میں عسیر کے روایتی طرزِ تعمیر القط العسیری، چمڑے، مٹی اور دھات سے بنی روایتی دستکاریوں کو بھی نمایاں طور پر سجایا گیا ہے۔
یہاں پہلی صدی عیسوی کا ایک چٹانی نقش بھی موجود ہے جس میں ایک شیر کو بیل پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے نیچے جس رسم الخط میں تحریر درج ہے وہ اس دور میں شہر کی طاقت اور دفاعی حیثیت کی علامت مانی جاتی ہے۔

تاریخی حوالوں کے مطابق جرش شہر چمڑا سازی، مٹی کے برتنوں اور جنگی ساز و سامان، خصوصاً منجنیق و دیگر دفاعی آلات کی تیاری کے حوالے سے بھی مشہور رہا تھا۔
اس سال اپریل کے مہینے میں ہیریٹیج اتھارٹی نے کھدائی کے مراحل کے دوران مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے رہائشی مکانات بھی دریافت کیے۔ ان میں اناج ذخیرہ کرنے کے کمرے، مٹی کے تندور، پانی کے حوض اور مقامی طرزِ تعمیر کی دیگر نمایاں اشیا بھی موجود تھیں۔
اتھارٹی کی ٹیم کو ایک چٹانی کتبہ بھی ملا جس کے دونوں جانب خط کوفی میں بعض تحریریں موجود ہیں، ان میں سے ایک تحریر کی تاریخ 17 رمضان 311 ہجری درج ہے جسے اس تاریخی مقام کی اہمیت میں اضافے کا باعث بننے والی ایک اہم دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔

سال 2023 میں کھدائی کے دوران پتھر اور مٹی سے بنا ہوا قدیم کنواں بھی دریافت ہوا جس سے جُڑی ہوئی پتھر سے بنی پانی کی نالیاں رہائشی علاقوں تک جاتی تھیں جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ عہدِ رفتہ کے اس دور میں آبی نظام ترقی یافتہ تھا۔
اس مرکز میں ’جرش آثار قدیمہ کی دریافتیں‘ کے عنوان سے خصوصی شعبہ بنایا گیا ہے جہاں 360 ڈی ٹیکنالوجی کے ذریعے سیاحوں کو قلعے، آبی نظام، قدیم مساجد اور نقوش کا ورچوئل مشاہدہ کرانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔

 

 

شیئر: