’غمرہ الحنا‘: مکہ میں دلہن کو مہندی سے سجانے کی روایت
جمعرات 23 جولائی 2026 9:52
مہندی مکہ کی خواتین کی ثقافتی شناخت اور عوامی ورثے کی اہم علامت ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
مکہ مکرمہ میں’غمرہ الحنا‘ مقامی خاندانوں میں شادی کی تقریب کے موقع پر نسل در نسل چلی آنے والی سماجی روایت آج بھی اصل شکل میں قائم ہے۔
ایس پی اے کے مطابق دلہن کو مہندی سے سجانے کی روایت عہدِ قدیم سے چلی آ رہی ہے. یہ مکہ کی خواتین کی ثقافتی شناخت اور عوامی ورثے کی اہم علامت مانی جاتی ہے۔
رسمِ حنا کے موقع پر دلہن کی سہیلیاں اور قریبی رشتہ دار اکھٹے ہوتے ہیں جو دلہن کے ہاتھوں اور پاؤں پر انتہائی مہارت سے خوبصورت نقش ونگار بناتے ہیں۔
یہ روایت مکہ کے معاشرے کی قدیم روایات سے وابستگی اور انہیں محفوظ رکھنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
فی زمانہ اگرچہ شادی کی تقریبات کے انداز اور رسم و رواج بھی تبدیل ہو چکے ہیں تاہم حنا کی رسم اب بھی نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔
’غمرہ الحنا‘ کی رسم صرف آرائش و زیبائش تک محدود نہیں بلکہ یہ خاندان اور عزیز و اقارب کے اجتماع کا بھی اہم موقع ہوتا ہے۔ یہ رسم، روایات اور لوک گیتوں کی خوشبو میں بسی ایک ایسی فضا فراہم کرتی ہے جہاں خوشیوں اور سماجی یکجہتی کے جذبات یکجا ہو جاتے ہیں۔

روایتی دستکاری اور مہندی کے فن سے وابستہ خواتین نے مکہ کے قدیم مہندی کے ڈیزائنوں کو برقرار رکھا ہے۔ اسلامی نقش و نگار و مقامی فن پاروں سے متاثر ہو کر نئے ڈیزائن بھی متعارف کرائے گئے جس نے اس روایت کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مہندی کو جزیرۂ عرب میں زیبائش کے قدیم ترین ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے۔ صدیوں سے یہ عید، شادی اور دیگر تقریبات کا لازمی حصہ رہی ہے۔ مہندی دلہن کی نئی زندگی کے آغاز کی خوشی اور نیک شگون کی علامت مانی جاتی ہے۔