Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی ایچ ون بی ویزوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کی ٹرمپ کی کوشش ایک بار پھر ناکام

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انتظامیہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کانگریس نے مالی بوجھ عائد کرنے کے اختیارات واضح طور پر منتقل کیے ہیں (فوٹو: آئی اے این ایس)
امریکی شہر بوسٹن میں قائم فرسٹ سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے تین رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں امریکی ڈسٹرکٹ جج لیو ٹی سورکن کے 8 جون کے فیصلے پر عمل درآمد روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس فیصلے میں فیس کو غیر قانونی ٹیکس قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا گیا تھا، کیونکہ اسے کانگریس کی منظوری حاصل نہیں تھی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ’ہم مدعی کی اس درخواست کو مسترد کرتے ہیں جس میں انہوں نے اس عدالت میں اپیل کے دوران ڈسٹرکٹ کورٹ کے 8 جون 2026 کے میمورنڈم اور حکم نامے، اور اس سے منسلک فیصلے پر عمل درآمد روکنے کی استدعا کی تھی۔‘
ججوں نے مدعیوں، جو ڈیموکریٹ کی حکمرانی والی 20 ریاستیں ہیں، سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’اصل سوال یہ نہیں کہ آیا کانگریس متعلقہ اختیار منتقل کر سکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس نے واقعی ایسا کیا بھی ہے۔‘
گزشتہ سال ستمبر میں صدر ٹرمپ نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے تحت نئے ایچ 1 بی (H-1B) ویزوں کے حصول کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی فیس عائد کی گئی تھی۔
یہ ایک نان امیگرنٹ ویزا ہے جو امریکی کمپنیوں کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ اُن خصوصی شعبوں میں غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دے سکیں جہاں تھوریٹیکل یا تکنیکی مہارت درکار ہو ۔ کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں چین اور انڈیا جیسے ممالک سے ملازمین بھرتی کرنے کے لیے اسی ویزے پر انحصار کرتی ہیں۔
اپیل عدالت نے 1989 میں امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’انتظامیہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کانگریس نے مالی بوجھ عائد کرنے کے اختیارات واضح طور پر منتقل کیے ہیں چاہے انہیں ’فیسُ یا ’ٹیکس‘ کہا جائے۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ یہ وضاحت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ اس معاملے میں اس واضح معیار کی ضرورت کیوں نہیں ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ مدعیوں نے محض سرسری طور پر یہ دعویٰ کیا کہ مدعیان کو اس فیصلے کے بغیر ’کم سے کم‘ نقصان ہوگا، مگر انہوں نے اس مؤقف کو تفصیل سے واضح نہیں کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے واقعی مدعیان کو خاطر خواہ نقصان نہ ہونے کی دلیل سمجھا جائے۔

شیئر: