Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یورپین کار سازی کی صنعت بحران کا شکار: جیگوار لینڈ روور 4 ہزار ملازمتیں ختم کرے گا

جیگوار لینڈ روور کے ملازمین کی اکثریت، یعنی تقریباً 34,000 افراد، برطانیہ میں کام کرتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
برطانوی کار ساز کمپنی جیگوار لینڈ روور  نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دو برسوں کے دوران تقریباً 4,000 ملازمتیں ختم کرے گا، جو اس کی عالمی افرادی قوت کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ اقدام یورپ کی مشکلات کا شکار آٹو موبائل کی صنعت کے لیے ایک اور بڑا دھچکہ ہے۔
کمپنی نے رضاکارانہ علیحدگی کی سکیم کا اعلان جرمن کار ساز کمپنی ووکس ویگن کی جانب سے مزید 50,000 ملازمتیں ختم کرنے کے اعلان کے چند ہی روز بعد کیا ہے۔
یہ فیصلہ برطانوی لگژری کار ساز کمپنی پر ہونے والے سائبر حملے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ شعبہ جاتی محصولات کے باعث کئی ماہ سے جاری بحران کے بعد سامنے آیا ہے۔
یورپ، امریکہ اور جاپان کی بڑی کار ساز کمپنیاں چینی مینوفیکچررز کی جانب سے بڑھتی ہوئی مسابقت کا بھی سامنا کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ پوری صنعت کو برقی گاڑیوں کی جانب منتقلی کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
جیگوار کے چیف ایگزیکٹو پی بی بالاجی نے ایک بیان میں کہا کہ ’آٹو موبائل صنعت کو نمایاں چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں شدید مسابقت اور مسلسل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے درمیان تکنیکی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔‘
بیان کے مطابق کمپنی کا ہدف 1.7 ارب پاؤنڈ (2.3 ارب ڈالر) کی لاگت میں بچت حاصل کرنا بھی ہے۔
بالاجی نے مزید کہا کہ ’اگلے 12 ماہ کے دوران ہم پانچ نئی مصنوعات متعارف کرائیں گے، اپنے برانڈز کی مضبوطی سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اور دیگر مارکیٹوں کے علاوہ شمالی امریکہ پر اپنی توجہ دوبارہ مرکوز کریں گے، تاکہ آمدنی میں دو ہندسوں کی شرح سے اضافہ حاصل کیا جا سکے۔‘
جیگوار لینڈ روور کے ملازمین کی اکثریت، یعنی تقریباً 34,000 افراد، برطانیہ میں کام کرتے ہیں۔
پیر کو جاری کیے گئے ایک ابتدائی بیان میں جے ایل آر نے بتایا کہ انتظامی عہدے خطرے سے دوچار ملازمتوں میں شامل ہیں، جبکہ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق زیادہ تر ملازمتوں میں کمی برطانیہ میں کی جائے گی۔

سائبر حملہ

برطانیہ کے وزیرِ کاروبار جوناتھن رینالڈز رواں ہفتے جے ایل آر کے حکام سے ملاقات کرنے والے ہیں، جس میں ملازمتوں میں کمی کے معاملے پر بات چیت کی جائے گی۔
بالاجی نے کہا کہ ’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ان ساتھیوں کے لیے مشکل خبر ہوگی جو اس سے متاثر ہوں گے، اور ہم ہر فرد کی دیکھ بھال، انصاف اور احترام کے ساتھ مدد کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’یہ تمام اقدامات مل کر ہمارے تمام سٹیک ہولڈرز کے لیے ایک مضبوط اور زیادہ مسابقتی جے ایل آر کی تعمیر میں مدد کریں گے۔‘
یہ تنظیمِ نو برطانیہ میں جیگوار کی پیداوار روک دینے والے ایک بڑے سائبر حملے کے ایک سال بعد کی جا رہی ہے، جس نے کمپنی کے مالی معاملات کو بھی شدید متاثر کیا تھا۔
انڈین کمپنی ٹاٹا موٹرز کی ملکیت جے ایل آر  کو ایک ماہ سے زائد عرصے تک پیداوار روکنے پر مجبور ہونا پڑا، جس کے نتیجے میں کمپنی کے تازہ ترین تخمینے کے مطابق 260 ملین پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔
امریکی محصولات سے متاثر ہونے والی اس کار ساز کمپنی نے مارچ میں ختم ہونے والے اپنے مالی سال کے دوران 244 ملین پاؤنڈ کا خسارہ رپورٹ کیا، جبکہ مالی سال 2024-25 میں اسے 1.8 ارب پاؤنڈ کا خالص منافع حاصل ہوا تھا۔
جے ایل آر نے پیر کو کہا، ’ہمیں اپنی تنظیم کو مزید سادہ بنانے، کارکردگی بہتر کرنے اور زیادہ مضبوط نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔‘
سائبر حملے کے اثرات سے آگے بڑھنے کی کوشش میں کمپنی نے گزشتہ ہفتے اپنی نئی مکمل طور پر برقی رینج روور کے لیے آرڈرز لینا شروع کیے۔

ووکس ویگن بھی بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم کرے گی

گزشتہ ہفتے ووکس ویگن نے اعلان کیا تھا کہ اس کی انتظامیہ اور یونینز نے دہائی کے اختتام تک مجموعی طور پر 100,000 ملازمتیں ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو عالمی آٹو موبائل صنعت کی تاریخ کی سب سے بڑی تنظیمِ نو میں سے ایک ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ اس نے تقریباً 50,000 ملازمتیں مزید کم کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے، جو رواں سال کے آغاز میں پہلے ہی طے کی گئی 50,000 ملازمتوں میں کمی کے علاوہ ہیں۔ 

شیئر: