امریکہ میں طیارہ رن وے سے نکلتا ہوا گاڑیوں سے جا ٹکرایا، پانچ افراد ہلاک
امریکہ میں طیارہ رن وے سے نکلتا ہوا گاڑیوں سے جا ٹکرایا، پانچ افراد ہلاک
پیر 7 ستمبر 2026 8:05
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ میں ایمیزون کمپنی کے ایک کارگو طیارہ کے حادثے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حادثہ اتوار کو ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس وقت پیش آیا جب ایمیزون کا مال بردار طیارہ رن پر اتر رہا تھا تاہم وہ مطلوبہ مقام پر نہیں رک پایا اور آگے نکلتے ہوئے گاڑیوں سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔
میامی کے فائر ڈیپارٹمںٹ کے سربراہ رے جیڈالہ نے صحافیوں کو بتایا کہ پانچ زخمیوں میں سے تین کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جن کی حالت تشویشناک ہے جبکہ دو افرادکو مقامی ہسپتال میں طبی امداد دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ طیارے کی لپیٹ میں چند گاڑیاں آئیں جن میں سے کچھ میں موجود افراد گاڑیوں کے اندر ہی پھنس گئے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک مشکل آپریشن کے بعد دونوں پائلٹوں کو باہر نکالا گیا تاہم انہوں نے ان کی حالت میں نہیں بتایا جبکہ صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے بھی گریز کیا۔
رپورٹ کے مطابق طیارہ پورٹوریکو سے دوپہر کے وقت میامی پہنچا تھا جس کے فوراً بعد آگ بجھانے والی گاڑیاں رن وے کی طرف جاتی دیکھی گئیں۔
دور سے بنی ایک ویڈیو میں نیلے اور سفید رنگ کے جہاز سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
حکام کی جانب کہا گیا ہے کہ فی الوقت حادثے کی اصل وجہ کا تعین نہیں ہو سکا ہے اور وفاقی ادارہ برائے ہوا بازی این ٹی ایس بی کی تحقیقات کے بعد اس بارے میں رپورٹ جاری کی جائے گی۔
آگ بجھانے والی ٹیم کے سربراہ نے اتوار کی شام کو ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ انجن میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے فوم کا استعمال کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد ایک شخص نشانہ بنانے والی گاڑیوں میں سے ایک کے نیچے پھنس گیا تھا جس کو ریسکیو اہلکاروں نے نکالا جبکہ خطرناک مواد سے نمٹنے والی خصوصی ٹیم نے محفوظ طریقے سے انجن کو بند کیا اور ایندھن کے اخراج کو بھی روکا۔
اسی طرح حادثے کے بعد این ٹی ایس بی نے بھی ایکس پر بیان جاری کیا۔
جس میں بتایا گیا ہے کہ اس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم روانہ کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب ایمیزون کی ترجمان کیلی نینٹل نے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی واقعے سے متعلق کسی بھی قسم کی تحقیقات کے لیے مکمل تعاون کرے گی۔