’ہر سکہ تاریخ کی ایک کہانی‘: انڈین پولیس اہلکار کے پاس ہر دور کا پیسہ موجود
’ہر سکہ تاریخ کی ایک کہانی‘: انڈین پولیس اہلکار کے پاس ہر دور کا پیسہ موجود
پیر 7 ستمبر 2026 6:10
سریش ریڈی کے مطابق قدیم سکوں سے لگاؤ ذہنی سکون کا ذریعہ بھی ثابت ہوا (تصویر سریش ریڈی فیس بک)
انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش میں پولیس ہیڈ کانسٹیبل تھماپورم سریش ریڈی نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران قدیم سکوں کا ایسا نایاب ذخیرہ جمع کیا ہے جو برصغیر کی سیاسی، ثقافتی اور معاشی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔
انڈین ایکسپریس اخبار کے مطابق سریش ریڈی کے ذخیرے میں موریہ، ساتواہنا، مغل سلطنت اور برطانوی دور کے سونے، چاندی اور تانبے کے سکے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف ادوار کے ڈاک ٹکٹ بھی محفوظ کر رکھے ہیں۔
تروپتی شہر میں تعینات تھماپورم سریش ریڈی 1998 میں پولیس میں بھرتی ہوئے تھے لیکن انھیں بچپن ہی سے ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کا شوق تھا۔
چھٹی اور ساتویں جماعت کے دوران انہوں نے یہ شوق اپنایا اور پرانے سکے جمع کرنا شروع کیے۔
پولیس میں تعیناتی کے بعد سال 2005 میں تروپتی شہر میں تبادلے کے بعد انہوں نے دوبارہ اس شوق کو زندہ کیا۔ جیسے جیسے ان کا ذخیرہ بڑھتا گیا، ویسے ویسے قدیم سکوں کی تاریخ جاننے کا شوق بھی بڑھتا چلا گیا۔
سریش ریڈی کے مطابق ’اگر ساتواہنا دور کا کوئی سکہ سمجھنا ہو تو یہ جاننا ضروری ہے کہ اسے کس حکمران نے جاری کیا، وہ کس دھات کا بنا ہے، اس پر کیا تحریر اور علامات موجود ہیں۔ اس کے لیے لائبریریوں میں تحقیق، تاریخی کتابوں کا مطالعہ اور حقائق کی تصدیق کرنا پڑتی ہے، تب جا کر اصل سکہ تلاش کیا جاتا ہے۔‘
ذاتی مشکلات میں یہی شوق سہارا بن گیا
قدیم سکوں سے یہ لگاؤ صرف ایک مشغلہ نہیں بلکہ زندگی کے مشکل دور میں ان کے لیے ذہنی سکون کا ذریعہ بھی ثابت ہوا۔
سریش ریڈی کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا دونوں گردوں کے مسائل کے ساتھ پیدا ہوا جس کی دیکھ بھال کے لیے ان کی اہلیہ کو دہلی میں نیم فوجی ادارے کی ملازمت چھوڑنا پڑی۔
سریش ریڈی کے مطابق ’گھر کے مسائل اور ذہنی دباؤ کے دوران انسان کو کسی ایسے مشغلے کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کا ذہن مصروف رکھے۔ میرے لیے قدیم سکے جمع کرنا ہی ذہنی سکون کا ذریعہ بن گیا۔‘
تھماپورم سریش ریڈی بچپن ہی سے ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کا شوق تھا: تصویر سریش ریڈی فیس بک
ہر سکہ تاریخ کی ایک کہانی ہے
سریش ریڈی کے نزدیک کسی قدیم سکے کی اصل اہمیت اس کی قیمت یا قدامت میں نہیں بلکہ اس تاریخ میں ہے جو وہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جب میں کسی قدیم سکے کو دیکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں ماضی میں سفر کر رہا ہوں۔‘
ان کی خواہش ہے کہ یہ نایاب ذخیرہ الماریوں تک محدود نہ رہے بلکہ عوام، خصوصاً طلبہ کے لیے نمائش کا حصہ بنے تاکہ نئی نسل مختلف ادوار کے ان تاریخی نوادرات کو دیکھ کر اپنے ماضی اور ان سلطنتوں کے بارے میں جان سکے جنہوں نے برصغیر پر حکومت کی۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں، جب تاریخ زیادہ تر موبائل اور کمپیوٹر کی سکرینوں پر پڑھی جاتی ہے، سریش ریڈی چھوٹے چھوٹے دھاتی سکوں کے ذریعے ماضی کو نئی نسل کے لیے زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پولیس اہلکار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ تاریخ کے ایک ایسے طالب علم بھی ہیں جنہوں نے اپنے بچپن کے شوق کو ثقافتی ورثے کے تحفظ کا مشن بنا لیا ہے۔