Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا کے وزیرِتعلیم مستعفی، طلبہ کا کئی ہفتوں پر محیط احتجاج کامیاب

2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی کو نوجوانوں کی جانب سے درپیش سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
یہ پیش رفت ملک بھر میں جاری نوجوانوں کے احتجاج کے بعد سامنے آئی، جنہوں نے امتحانی پرچے لیک ہونے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق وزیرِ تعلیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے استعفے کا اعلان اس وقت کیا جب انڈین دارالحکومت میں پولیس نے نوجوان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
یہ اقدام اس وقت لیا گیا جب کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی رہنماؤں کی جانب سے حکومت کے وزرا کے ساتھ مزید مذاکرات کا ایک دور شروع ہونے والا تھا، جس میں وہ وزیر کے استعفے کے مطالبے پر زور دینے والے تھے۔
دوسری جانب انڈین میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ 
انڈین حکومت ہفتے کے روز احتجاجی طلبہ رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کرنے جا رہی ہے، جن کے احتجاج کے باعث اس ہفتے دارالحکومت نئی دہلی میں معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔ (فوٹو: بشکریہ پی ٹی آئی)

اس احتجاج کو 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی کو نوجوانوں کی جانب سے درپیش سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور اسی معاملے پر پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھی شدید احتجاج کیا۔
وزیر تعلیم نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’جنتر منتر اور ملک بھر میں پیدا ہونے والی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، تاکہ ملک دشمن عناصر اس صورتحال سے فائدہ نہ اٹھا سکیں، میں نے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم کو ارسال کر دیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں ملک کے نوجوانوں کی امنگوں، جذبات اور جائز توقعات کا دل سے احترام کرتا ہوں۔‘
استعفے کی خبر سامنے آتے ہی نئی دہلی کے مرکزی علاقے سمیت ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کرنے والے ہزاروں مظاہرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے جشن منایا۔
وفاقی حکام نے دارالحکومت میں احتجاج کو محدود کرنے کے لیے انٹرنیٹ سروس معطل کر رکھی ہے جبکہ 18 میٹرو اسٹیشن بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
پیر کے روز پولیس کی جانب سے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے والے طلبہ کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے بعد عوامی غصہ مزید شدت اختیار کر گیا تھا، جس میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے۔

پارٹی کے قومی ترجمان اشوتوش رانکا نے کہا کہ ’حکومت نے آج سہ پہر ساڑھے تین سے چار بجے کے درمیان مذاکرات کا وقت دیا ہے۔‘(فوٹو: اے ایف پی)

زیادہ تر نوجوانوں کی قیادت میں جاری یہ احتجاج اہم نیٹ امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کے بعد شروع ہوا، تاہم اب یہ تحریک روزگار کے محدود مواقع، بدعنوانی اور حکومتی جوابدہی جیسے وسیع تر عوامی مطالبات کی بھی عکاسی کر رہی ہے۔
قبل ازیں پارٹی کے قومی ترجمان اشوتوش رانکا نے کہا تھا کہ ’حکومت نے آج سہ پہر ساڑھے تین سے چار بجے کے درمیان مذاکرات کا وقت دیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا تھا، ’ہمیں دھرمیندر پردھان کے مستقبل کے بارے میں واضح جواب چاہیے۔ کیا حکومت ان سے استعفیٰ لے گی یا نہیں؟ ہمیں صرف ہاں یا ناں میں جواب درکار ہے۔‘
پیر کے روز پولیس کی جانب سے احتجاجی مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے بعد عوامی غصہ مزید بڑھ گیا۔ پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے ہزاروں طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے کی گئی اس کارروائی میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے۔
زیادہ تر نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج میں روزگار کے محدود مواقع، بدعنوانی اور حکومتی جوابدہی جیسے مسائل پر بھی شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ تاہم اس تحریک کو سب سے زیادہ تقویت میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے بعد ملی، جنہوں نے امتحانی نظام پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔
جمعے کو ہونے والے مذاکرات میں پارٹی نمائندوں سورَو داس اور اشوتوش رانکا نے وفاقی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کو خبردار کیا تھا کہ اگر دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ نہ دیا تو احتجاج پورے ملک میں پھیل سکتا ہے۔
یہ مذاکرات سماجی کارکن سونم وانگچک کی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہوئے، جس سے اس بحران کے حل کی امید پیدا ہوئی تھی۔
 

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں اور امتحانی نظام میں جامع اور مؤثر اصلاحات نافذ کی جائیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

مظاہرین نے انٹرنیٹ کی مسلسل بندش پر ناراضی کا اظہار کیا، تاہم واضح کیا کہ اس سے ان کی تحریک کمزور نہیں ہوگی۔
مظاہرے میں شامل 34  سالہ راہول راج نے کہا، ’وہ انٹرنیٹ، میٹرو اور بسیں بند کر سکتے ہیں، مگر اس سے کیا حاصل ہوگا؟ کچھ نہیں۔ جو لوگ احتجاج میں شامل ہونا چاہتے ہیں، وہ پھر بھی آئیں گے۔‘
یہ احتجاج میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے بعد شدت اختیار کر گیا، جس کے باعث 20 لاکھ سے زائد امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑا۔ اس واقعے نے انڈیا کے تعلیمی نظام کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں اور امتحانی نظام میں جامع اور مؤثر اصلاحات نافذ کی جائیں۔

شیئر: