Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نائن الیون اور مسلمان: امریکہ میں سخت نفرت سہنے سے سیاسی اثر و رسوخ تک کا سفر

نائن الیون کے واقعے میں تین ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
اسد ڈانڈیا اس وقت آٹھ برس کے تھے جب انہوں نے 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے حملے نیویارک میں اپنے والدین کے گھر پر دیکھے جو پاکستانی تارکین تھے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ ایک ایسا وقت جب مسلمانوں کے خلاف ردعمل کا سلسلہ شروع ہوا کیونکہ امریکیوں ان حملوں کی وجہ سے سخت صدمے کا سامنا تھا جن میں تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
 اس لہر میں مسلمانوں کو غصے، شکوک اور ان سے بھی بدتر رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔
19 سال کی عمر میں اسد ڈانڈیا کے گھرانے کو ایک ایسی صورت حال کا سامنا بھی کرنا پڑا جب پولیس کے ایک مخبر نے دوست بن کر ان کے گھر تک رسائی حاصل کی۔
یہ نگرانی کی ایک ایسی کارروائی کا حصہ تھا جس کا مقصد مبینہ طور پر مذہبی انتہا پسندی کا سراغ لگانا تھا، جسے بعدازاں سخت ناپسندیدگی کا سامنا رہا۔
آج مؤرخ اسی نیویارک کو ایک بدلی ہوئی شکل میں دیکھ رہے ہیں، ایک ایسا شہر جہاں پہلی بار ایک مسلمان میئر منتخب ہوا، ٹائم سکوائر کے مقام پر عوامی سطح پر نمازیں ادا ہوتی ہیں اور شہر میں نئی مساجد بھی تعمیر ہو رہی ہیں۔
اسد ڈانڈیا نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نائن الیون کے 25 سال بعد بھی ہم اس سانحے پر سوگ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں جبکہ ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جو کچھ ہوا میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔‘
ان کے مطابق ’میں اتنا ہی نیویارکر ہوں جتنا کوئی اور ہے، مجھے اس واقعے کی وجہ سے ہدف نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘

اسد ڈانڈیا کا کہنا ہے کہ پولیس کے مخبر نے دوست بن کر ان کے گھر کی نگرانی کی (فوٹو: اے ایف پی)

2001 کے حملوں کے بعد امریکہ میں اسلاموفوبیا میں نمایاں اضافہ ہوا، ان حملوں میں عسکریت پسندوں نے مسافر طیاروں کو اغوا کر کے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور واشنگٹن کے قریب پینٹاگون سے ٹکرا دیا تھا، چوتھا طیارہ مسافروں کی مزاحمت کے بعد پنسلوانیا میں ایک کھیت میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد مسلمانوں کی جانب سے عوامی مقامات پر حملوں اور ہراساں کیے جانے کے واقعاتے میں اضافے کی شکایات سامنے آئیں جبکہ کچھ خواتین نے اپنے مذہب کو چھپانے کی غرض سے حجاب کا استعمال بھی چھوڑا۔
دوسری جانب امریکی حکام نے مسلمانوں کی نگرانی بھی کی۔ ہزاروں لوگوں کو حکومت کے پاس رجسٹریشن کرانے کا پابند کیا گیا، جس کے نتیجے میں کافی افراد کو ڈی پورٹ بھی کیا گیا۔
نائن الیون کے بعد نیویارک میں مسلمانوں کی مدد کے لیے ’کونسل آف پیپلز آرگنائزیشن‘ نامی فلاحی ادارہ قائم کرنے والے پاکستانی نژاد محمد رضوی کا کہنا ہے کہ ’ہر شخص خوف میں مبتلا تھا، ہمارے اوپر بعض لوگوں نے فائرنگ بھی کی، جن کا خیال تھا کہ ہم واقعے کے ذمہ دار ہیں۔‘

نائن الیون کے بعد امریکہ مسلمانوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا (فوٹو: گیٹی امیجز)

نیویارک پولیس نے انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے تحت سینکڑوں مسلمانوں کی نگرانی شروع کی جس میں اکثر افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا جن کے خلاف کسی بھی غلط کام کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔
19 سال کی عمر میں اسد ڈانڈیا کو کالج کے دنوں میں ایسی صورت حال کا سامنا رہا جب بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ان کے فلاحی ادارے کو جوائن کیا۔
ان کے درمیان دوستی ہو گئی، وہ اکٹھے کھانا کھاتے اور کھیلتے جبکہ وہ اسد ڈانڈیا کے گھر پر سو بھی جایا کرتے تھے، تاہم سات ماہ بعد اس شخص نے بتایا کہ وہ پولیس کے مخبر ہیں جن کو ان کے گھر کی مانیٹرنگ کے لیے بھیجا گیا تھا۔
انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ دل شکن تو تھا ہی بہت خوفناک بات بھی تھی۔‘
اس کے واقعے کے بعد اسد ڈانڈیا اور دوسرے ادارے عدالت گئے اور اہم مقدمہ جیتا جس کے نتیجے میں نگرانی کی ایسی کارروائیوں پر پابندی لگائی گئی۔

 

شیئر: